واپس فتاویٰ

فتویٰ

مسجد کو نمائش کے لیے بنانا کیا باعثِ اجر و ثواب ہے؟

کیا دکھاوے یا شہرت کے لیے مسجد بنانے پر ثواب ملتا ہے؟

تاریخ: 2026-06-25 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: شرعی مسائل مشاہدات: 26

سوال

مسجد کو نمائش کے لیے بنانا کیا باعثِ اجر و ثواب ہے؟ شرعی رہنمائی

جواب

مساجد عبادت الٰہی کےلیے بنائی جاتی ہیں، جن میں ذکرباری تعالیٰ اور تقویٰ جیسی پاکیزہ صفات کے ساتھ داخل ہوا جاتا ہے۔ اس لیے مساجد کو نمائش اور فخرومباہات کےلیے بنانا باعث ثواب نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن و احادیث میں بے شمار مقامات پر نیت کی خرابی کی وجہ سے عمل صالح کے ضائع ہوجانے کی وعیدات اورمثالیں موجود ہیں۔ مساجد صرف اللہ کےلیے ہیں ارشاد ہوتا ہے:
وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا۔ 1
ترجمہ: بے شک مساجد اللہ کےلیے(مخصوص) ہیں، سو اللہ کے ساتھ کسی اور کی پرستش مت کیا کرو۔
مسجد صرف عبادت اوررضاء الٰہی کا مرکز ہے اس لیے فخرومباہات کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ۔ 2
ترجمہ: اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہے جو اللہ کی مساجد میں اس کے نام کے ذکر سے منع کرے۔
مسجد ذکر الٰہی کا مقام ہے، جسے نمائش کےلیے تعمیر کرنا اللہ کی ناراضگی کا موجب ہے۔ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ ۔ 3
ترجمہ: وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، حق دار ہے کہ آپ اس میں قیام فرما ہوں اس میں ایسے لوگ ہیں جو(ظاہراً وباطناً) پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ طہارت شعار لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔
اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ۔ 4
ترجمہ: بھلا وہ شخص جس نے اپنی عمارت(یعنی مسجد) کی بنیاد اللہ سے ڈرنے اور (اس کی) رضا وخوشنودی پر رکھی، بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایسے گڑھے کے کنارے پر رکھی جو گرنے والا ہے، سو وہ (عمارت) اس معمار کے ساتھ ہی آتش دوزخ میں گر پڑی۔
ان آیات کریمہ اور سابقہ مسئلہ کے تحت بیان کی جانے والی احادیث، جن میں مساجد پر فخرومباہات کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے، سے ثابت ہوا کہ نمائش کی غرض سے مساجد کی تعمیر باعث اجروثواب نہیں ہے۔
لاثواب الا بالنیۃ۔ 5
ترجمہ: ثواب (ثواب کی) نیت کے ساتھ(مخصوص) ہے (یعنی یہ نیت ہوگی تو ثواب ملے گا ورنہ نہیں)۔
اس قاعدہ کی بنیاد یہ حدیث پاک ہے:
انما الاعمال بالنیات۔ 6
ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
فقہاء نے اس حدیث کو اجر پر محمول کیا ہے۔ جس سے قاعدہ اخذ کیا کہ نیک کام نیکی کی نیت کے بغیر باعث اجر نہیں ہے۔


1 ۔ الجن 18/72
2 ۔ البقرۃ 114/2
3 ۔ التوبۃ108/9
4 ۔ التوبۃ109/9
5 ۔ ابن نجیم، الاشباہ والنظائر، الفن الاول فی القواعد، القاعدۃ الاولیٰ،ص:14
6 ۔ بخاری، الصحیح، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی، رقم:01