فتویٰ
اگر ٹینکی کے باہر والی جانب نجاست لگی ہو تو کیا اس کے اندر موجود پانی پاک رہے گا؟
طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
اگر ٹینکی کے باہر والی جانب نجاست لگی ہو تو کیا اس کے اندر موجود پانی پاک رہے گا؟
جواب
نجاست صرف اسی جگہ تو ناپاک کرتی ہے جہاں تک پہنچے اور جس جگہ لگے۔ جہاں نجاست لگے گی نہیں وہ نجس نہیں ہوگی۔ کہ ایک شئے کے بعض حصہ پر نجاست لگی ہے تو وہ بعض حصہ ناپاک ہوجائے گا لیکن اس کے علاوہ کو ناپاک نہیں کرے گا۔ ایک چیز کے ایک حصہ کا ناپاک ہونا سارے کو ناپاک نہیں کرتا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہﷺ کے کپڑوں پر منی لگی ہوتی تو اسے کیسے صاف کرتیں ارشاد فرماتی ہیں:
کنت افرکہ من ثوب رسول اللہﷺ۔(1)
ترجمہ: میں رسول اللہﷺ کے کپڑوں سے (منی) کو کھرچ دیتی تھی۔ ایک روایت میں ہے:
فیصلی فیہ۔ (2)
ترجمہ: پھر رسول اللہﷺ اس میں نماز پڑھ لیتے تھے۔
اس سے یہ واضح ہوا کہ جہاں نجاست لگی ہوتی بس اسی جگہ سے کھرچ دیا کرتی تھیں باقی کپڑا پاک ہی ہوتا اور اس میں رسول اللہﷺ نماز پڑھ لیتے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ کپڑے کی ایک طرف سے کھرچ دیا کرتی تھیں دوسری طرف پاک ہی ہوتی۔ اگر یہ کہاجائے کہ دونوں طرف سے کھرچ دیتی ہوں گی ایک طرف والی قید اس میں بیان نہیں ہوئی۔ تو جواب یہ ہے کہ اگر منی دونوں طرف سرایت کر جائے تو پھر دھونا واجب ہے کھرچنا کافی نہیں یہ بھی آپ رضی اللہ عنہا کے عمل سے واضح ہے اور اگر دونوں طرف سرایت نہیں کرتی تو پھر دوسری طرف سے کیا کھرچنا؟ ثابت یہ ہواکہ نجاست جہاں، جس طرف لگی بس وہی جانب اور وہی جگہ ناپاک ہے۔ ہمارے دور میں پلاسٹک، لوہے یا کسی بھی ایسی چیز کی ٹینکیوں کا اور پائپ کا استعمال عام ہے کہ جن پر پرندے بیٹ بھی کردیتے ہیں۔ اور ایسے ہی پانی کے پائپ عام طور پر زمین پر لگے ہوتے ہیں تو جانور ان کے اوپر پیشاب بھی کردیتے ہیں مگر وہ نجاست رہتی صرف اوپر والی جانب ہے ان کے اندر سرایت نہیں کرسکتی۔ اس لیے ان کی وہ جانب جہاں پر پانی ٹھہرا ہوتا ہے یا گزرتا ہے وہ پاک رہتی ہے تو وہ پانی بھی پاک ہی رہے گا۔
حوالہ جات:
1۔ مسلم، الجامع الصحیح، کتاب الطھارۃ، باب حکم المنی، رقم الحدیث: 669
2۔ مسلم، الجامع الصحیح، کتاب الطھارۃ، باب حکم المنی، رقم الحدیث: 670
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہﷺ کے کپڑوں پر منی لگی ہوتی تو اسے کیسے صاف کرتیں ارشاد فرماتی ہیں:
کنت افرکہ من ثوب رسول اللہﷺ۔(1)
ترجمہ: میں رسول اللہﷺ کے کپڑوں سے (منی) کو کھرچ دیتی تھی۔ ایک روایت میں ہے:
فیصلی فیہ۔ (2)
ترجمہ: پھر رسول اللہﷺ اس میں نماز پڑھ لیتے تھے۔
اس سے یہ واضح ہوا کہ جہاں نجاست لگی ہوتی بس اسی جگہ سے کھرچ دیا کرتی تھیں باقی کپڑا پاک ہی ہوتا اور اس میں رسول اللہﷺ نماز پڑھ لیتے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ کپڑے کی ایک طرف سے کھرچ دیا کرتی تھیں دوسری طرف پاک ہی ہوتی۔ اگر یہ کہاجائے کہ دونوں طرف سے کھرچ دیتی ہوں گی ایک طرف والی قید اس میں بیان نہیں ہوئی۔ تو جواب یہ ہے کہ اگر منی دونوں طرف سرایت کر جائے تو پھر دھونا واجب ہے کھرچنا کافی نہیں یہ بھی آپ رضی اللہ عنہا کے عمل سے واضح ہے اور اگر دونوں طرف سرایت نہیں کرتی تو پھر دوسری طرف سے کیا کھرچنا؟ ثابت یہ ہواکہ نجاست جہاں، جس طرف لگی بس وہی جانب اور وہی جگہ ناپاک ہے۔ ہمارے دور میں پلاسٹک، لوہے یا کسی بھی ایسی چیز کی ٹینکیوں کا اور پائپ کا استعمال عام ہے کہ جن پر پرندے بیٹ بھی کردیتے ہیں۔ اور ایسے ہی پانی کے پائپ عام طور پر زمین پر لگے ہوتے ہیں تو جانور ان کے اوپر پیشاب بھی کردیتے ہیں مگر وہ نجاست رہتی صرف اوپر والی جانب ہے ان کے اندر سرایت نہیں کرسکتی۔ اس لیے ان کی وہ جانب جہاں پر پانی ٹھہرا ہوتا ہے یا گزرتا ہے وہ پاک رہتی ہے تو وہ پانی بھی پاک ہی رہے گا۔
حوالہ جات:
1۔ مسلم، الجامع الصحیح، کتاب الطھارۃ، باب حکم المنی، رقم الحدیث: 669
2۔ مسلم، الجامع الصحیح، کتاب الطھارۃ، باب حکم المنی، رقم الحدیث: 670