واپس فتاویٰ

فتویٰ

اگر پانی والی ٹینگی میں کوئی پرندہ گر کر مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: طہارت مشاہدات: 107

سوال

اگر پانی والی ٹینگی میں کوئی پرندہ گر کر مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اولاً وضاحت تو یہ ہے کہ احناف کے نزدیک نجاست کے گرنے سے پانی ناپاک ہو جاتا ہےوہ نجاست کم ہو یا زیادہ۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
کل ماء وقعت النجاسۃ فیہ لم یجزالوضوء بہ قلیلا کانت النجاسۃ او کثیرا۔ (1)
ترجمہ: ہر وہ پانی جس میں نجاست گر جائے اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے وہ نجاست کم ہو یا زیادہ۔
نجاست کے کم یا زیادہ ہونے میں کوئی فرق نہیں مگر پانی کے کم یا زیادہ ہونے پر احکام مختلف ہوجاتے ہیں۔ ٹینکی پانی جمع کرنے کی حیثیت سے اس کنویں کی مثل ہے جس میں پانی جمع کیا جاتا ہو مگر اس میں اپنا پانی نیچے سے جاری نہ ہو۔ اگرچہ پانی ٹینکی میں ایک طرف سے آتا دوسری طرف سے خارج ہوجاتا ہے لیکن یہ سرکولیشن اس پانی کو جاری پانی کے حکم میں کرنے کےلئے کافی نہیں ہوگی کیونکہ پانی ہر وقت نہ ہی داخل ہوتا ہے اور نہ ہی ہر وقت خارج ہوتا ہے، اور جس پانی کو ماء راکد(ٹھہرا ہوا)کہا جاتا ہے وہ بھی کسی وقت میں کنویں وغیرہ میں جمع کیا جاتا ہے پھر نکالا جاتا ہے لہٰذا ٹینکی کا پانی ماء راکد کے حکم میں ہوگی۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
لو ادخل الماء من اعلی الحوض و خرج من اسفل الحوض فلیس بجار۔ (2)
ترجمہ: اگر پانی کو اوپر سے داخل کیا جاتا ہو اور نیچے سے خارج کیا جائے تو وہ پانی جاری پانی نہیں ہوگا۔
یہ تو واضح ہوا کہ ٹینکی میں جمع کیا ہوا پانی ماء راکد ہے اب اس پر احکام بھی ماء راکد والے ہی جاری ہوں گے۔ لہٰذا ٹینکی میں کوئی نجاست گر جائے یا کوئی جانور گر کر مر جائے تو اس کے پانی کی دوصورتیں ٹینکی کی مقدار کے مطابق بنیں گی۔ کہ وہ بڑے کنویں کی مثل ہے یا نہیں؟ بڑے کنویں کی مقدار ائمہ ثلاثہ للاحناف (امام اعظم،امام ابو یوسف اور امام محمد علیہم الرحمہ) کے اقوال سے نکال کر ائمہ احناف نے بیان کی ہے کہ وہ کنواں ’’دس گز بائی دس گز(دہ در دہ)‘‘ ہو، کپڑے کے گز کا اعتبار ہے۔صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
و بعضھم قدروا بالمساحۃ عشرا فی عشر بذراع الکرباس توسعۃ للامر علی الناس و علیہ الفتوی۔ (3)
ترجمہ: اور بعض ائمہ احناف نے کنویں کی مقدار کپڑے کے گز کے مطابق دس بائی دس مقرر کی ہے، لوگوں کی آسانی کےلیے اور اسی پر ہی فتوی ہے۔
اس لیے سب سے پہلے ٹینکی کی مقدار کا اندازہ لگایا جائے گا کہ وہ دہ در دہ سے کم ہے یا زیادہ ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ دہ در دہ سے زیادہ ہو تو اس وقت تک پانی ناپاک نہیں ہو گا جب تک کہ اس کے اوصاف میں سے کوئی ایک وصف نجاست کی وجہ سے بدل نہ جائے، لہٰذا جب تک ان اوصاف میں تبدیلی واقع نہ ہو اس وقت تک پانی پاک تصور کیا جائے گا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ٹینکی کی مقدار دہ در دہ سے کم ہو تو نجاست کے گرنے پر پانی فوراً ناپاک ہو جائے گا۔
اور دونوں صورتوں میں جب پانی ناپاک ہو جائے گا تو ٹینکی کا تمام پانی نکالنا ضروری ہے۔ نجاست تھوڑی ہو یا زیادہ، اور گرنے والا جانور چھوٹا ہو یا بڑا ہر حال میں تمام پانی کو نکالنا ضروری ہے۔ کیونکہ ڈولوں کی مخصوص مقدار تو اس کنویں سے نکالی جاتی ہے جس کا اپنا پانی ہو اور وہ ہمیشہ نیچے سے جاری رہتاہے جس کا تمام پانی نکالنا ناممکن ہوتا ہے۔ اور اس سے مخصوص ڈول نکالے جاتے ہیں ویسے ہی نیچے سے پاک پانی آتا رہتا ہے تو تصور کرلیا جاتا ہے کہ ناپاک پانی خارج ہوگیا اور اب پاک پانی ہی جمع ہے جبکہ ٹینکی میں یہ صورتحال نہیں ہوتی۔ اور ماء راکد کےلیے ہرجگہ اصول یہی ہوتا ہے کہ تمام پانی نکالا جائے۔

1۔ المرغینانی، الہدایۃ، کتاب الطہارۃ، باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ، ص : 35
2۔ شامی، رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، مطلب لو ادخل الماء من اعلی الحوض ، الجزء الاول ، ص : 338
3۔ المرغینانی ، الہدایۃ ، کتاب الطہارۃ ، باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ، ص : 36

مزید فتاویٰ جات

سیوریج کا پانی نہر کے پانی میں ڈالنے کا کیا حکم ہے؟ کیاگرم کیے ہوئے پانی سے طہارت جائزہے؟ سیوریج کے پانی کا کیا حکم ہے؟ ناپاک ہونے کے بعد کیا سیمنٹ کی ٹینکی صرف پانی خالی کرنے سے پاک ہو جاتی ہے؟ کیا پمپنگ سیٹ یا ٹونٹیوں کے ذریعے پانی نکالنے سے پانی کے اخراج کے ساتھ یہ چیزیں بھی پاک...