فتویٰ
کیا پٹرول سے نجاستِ حقیقیہ زائل کرنے پر طہارت حاصل ہو جائے گی؟
طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا پٹرول سے نجاستِ حقیقیہ زائل کرنے پر طہارت حاصل ہو جائے گی؟
جواب
نجاست کی دو اقسام ہیں۔
۱۔نجاست حقیقیہ ۲۔نجاست حکمیہ
نجاست حقیقیہ سے مراد ہے ظاہری نجاست جیسے پیشاب، گوبر اور شراب وغیرہ اور نجاست حکمیہ سے مراد محدث ہونا یعنی وضو کا ٹوٹ جانا یا غسل واجب ہوجانا۔ نجاست حقیقیہ کو کسی بھی پاک مائع چیز سے زائل کردینا ہی کافی ہوجاتا ہے اس کے لیے لازمی یہ ہے کہ وہ نجاست کلیۃً زائل ہو جائے۔ مثلا ً جس نجاست کو کھرچنے سے زائل کیا جاسکتا ہو اس کےلئے کھرچنا ہی کافی ہوگا اور جس کو دھونے سے زائل کیا جاسکتا ہو اس کو دھونا لازمی ہو گا۔ لہٰذا نجاست حقیقیہ کو جس طریقہ سے بھی زائل کیا جا سکتا ہو بس زائل کر دینا ہی کافی ہوگاامام قدوری فرماتے ہیں:
فما کان لہ عین مرئیۃ ، فطھارتھا زوال عینھا۔ (1)
ترجمہ: جو نجاست حقیقیہ مرئیہ ہو اس کا زائل کردینا ہی اس کی طہارت ہے۔
وہ زائل کرنے والی کوئی بھی چیز ہو مگر ا س کا پاک ہونا ضروری ہے۔
صاحب قدوری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
و یجوز تطھیر النجاسۃ بالماء و بکل مائع طاھر یمکن ازالتھا بہ کالخل و ماء الورد۔ (2)
ترجمہ: پانی اور ہر پاک مائع چیز سے طہارت حاصل کرنا جس سے نجاست کا زائل کرنا ممکن ہو جائز ہے جیسے سرکہ اور پھولوں کا پانی۔اور صاحب درالمختار و
ردالمحتار نے بھی کہا:
بکل مائع طاہر قالع للنجاسۃ ینعصر بالعصر۔ (3)
ترجمہ: ہر پاک مائع جو کہ نجاست کو اکھاڑنے والی ہو اور نچوڑنے سے نچڑ جائے اس سے نجاست حقیقیہ کو زائل کرنا جائز ہے۔
صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
الطھوریۃ: بعلۃ القلع والازالۃ، والنجاسۃ: للمجاورۃ فاذا انتھت اجزاء النجس یبقی طاھرا۔ (4)
ترجمہ: پاکی نجاست کے اکھڑجانے اور زائل ہوجانے سے ہے۔ اور نجاست ناپاکی کے اجزاء کے موجود ہونے کی وجہ سے ہے جب نجاست کے اجزاء ختم ہوجائیں گے تو پاکی ہی باقی رہے گی۔
لہٰذا پٹرول وغیرہ جو پاک ہو اس سے نجاست حقیقیہ کو زائل کرنا جائز ہےمگر نجاست حکمیہ کو سوائے طاہر اور مُطّہِّر پانی کے کسی بھی چیز سے زائل نہیں کیا
جا سکتا۔اسی مسئلہ کو مندرجہ ذیل کتب سے ملاحظہ کریں:
تحفۃ الملوک فی فقہ مذھب الامام ابی الحنیفۃ (5)
اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب (6)
الغرۃ المنیفۃ (7)
مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر(8)
مختارات النوازل (9)
ان کے علاوہ دیگر تمام کتب فقہ میں اس مسئلہ کی وضاحت و صراحت ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات:
1۔ قدوری، المختصر ، کتاب الطھارۃ ، باب الانجاس ، ص : 80
2۔ القدوری ، المختصر ، کتاب الطھارۃ ، باب الانجاس ، ص : 82
3۔ حصکفی ، در المختار مع رد المحتار، کتاب الطہارۃ ، باب الانجاس ، 510
4۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس وتطہیرھا، ج:1، ص:69
5۔ زین الدین محمد بن ابی بکربن عبدالقادر الرازی (صاحب مختار الصحاح) ، تاریخ وفات:666ھ۔ اس کتاب کی شروح بدرالدین عینی، ابواللیث الزیلعی کے علاوہ دیگر نے کی ہیں۔ آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ، علم البیان، لغت کے علاوہ دیگر بھی کئی موضوعات پر کتب تصنیف کی ہیں۔ تحفۃ الملوک فی فقہ مذھب الامام ابی حنیفۃ، کتاب الطھارۃ، فصل فی ازالۃ النجاسۃ،ص:39
6۔ المنبجی، اللباب، کتاب الطھارۃ، باب تجوز ازالۃ النجاسۃ بما سوی الماء من المائعات الطاہرۃ، ص:72
7۔ سراج الدین ابوحفص عمر بن اسحٰق الھندی الغزنوی الحنفی قاضی القضاۃ بالدیار المصر لہ تصانیف کثیرۃ، تاریخ پیدائش: 704ھ، آپ کثیر کتب کے مصنف ہیں۔ جن میں فقہ، اصول فقہ اور تصوف کے علاوہ دیگر کئی موضوعات پر متون، شروحات اور تعلیقات شامل ہیں۔خصوصاً آپ نے فقہ و اصول میں نمایاں کارنامے سرانجام دیئے ہیں امھات کتب فقہ الحنفیہ مثلاً زیادات، جامع الصغیر والکبیر، الھدایۃ، مغنی اور منار وغیرہ کی شروحات کی ہیں۔تاریخ وفات: 773ھ۔الغرۃ المنیفۃ، کتاب الطھارۃ، مسألۃ ازالۃ النجاسۃ، ص:12
8۔ عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان الکلیوبی شیخی زادۃ الحنفی المعروف بداماد آفندی المتوفی1078ھ۔مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس، ص:86
9۔ المرغینانی، مختارات، کتاب الطھارۃ، باب مایجوز بہ الوضوء،ص:128
۱۔نجاست حقیقیہ ۲۔نجاست حکمیہ
نجاست حقیقیہ سے مراد ہے ظاہری نجاست جیسے پیشاب، گوبر اور شراب وغیرہ اور نجاست حکمیہ سے مراد محدث ہونا یعنی وضو کا ٹوٹ جانا یا غسل واجب ہوجانا۔ نجاست حقیقیہ کو کسی بھی پاک مائع چیز سے زائل کردینا ہی کافی ہوجاتا ہے اس کے لیے لازمی یہ ہے کہ وہ نجاست کلیۃً زائل ہو جائے۔ مثلا ً جس نجاست کو کھرچنے سے زائل کیا جاسکتا ہو اس کےلئے کھرچنا ہی کافی ہوگا اور جس کو دھونے سے زائل کیا جاسکتا ہو اس کو دھونا لازمی ہو گا۔ لہٰذا نجاست حقیقیہ کو جس طریقہ سے بھی زائل کیا جا سکتا ہو بس زائل کر دینا ہی کافی ہوگاامام قدوری فرماتے ہیں:
فما کان لہ عین مرئیۃ ، فطھارتھا زوال عینھا۔ (1)
ترجمہ: جو نجاست حقیقیہ مرئیہ ہو اس کا زائل کردینا ہی اس کی طہارت ہے۔
وہ زائل کرنے والی کوئی بھی چیز ہو مگر ا س کا پاک ہونا ضروری ہے۔
صاحب قدوری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
و یجوز تطھیر النجاسۃ بالماء و بکل مائع طاھر یمکن ازالتھا بہ کالخل و ماء الورد۔ (2)
ترجمہ: پانی اور ہر پاک مائع چیز سے طہارت حاصل کرنا جس سے نجاست کا زائل کرنا ممکن ہو جائز ہے جیسے سرکہ اور پھولوں کا پانی۔اور صاحب درالمختار و
ردالمحتار نے بھی کہا:
بکل مائع طاہر قالع للنجاسۃ ینعصر بالعصر۔ (3)
ترجمہ: ہر پاک مائع جو کہ نجاست کو اکھاڑنے والی ہو اور نچوڑنے سے نچڑ جائے اس سے نجاست حقیقیہ کو زائل کرنا جائز ہے۔
صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
الطھوریۃ: بعلۃ القلع والازالۃ، والنجاسۃ: للمجاورۃ فاذا انتھت اجزاء النجس یبقی طاھرا۔ (4)
ترجمہ: پاکی نجاست کے اکھڑجانے اور زائل ہوجانے سے ہے۔ اور نجاست ناپاکی کے اجزاء کے موجود ہونے کی وجہ سے ہے جب نجاست کے اجزاء ختم ہوجائیں گے تو پاکی ہی باقی رہے گی۔
لہٰذا پٹرول وغیرہ جو پاک ہو اس سے نجاست حقیقیہ کو زائل کرنا جائز ہےمگر نجاست حکمیہ کو سوائے طاہر اور مُطّہِّر پانی کے کسی بھی چیز سے زائل نہیں کیا
جا سکتا۔اسی مسئلہ کو مندرجہ ذیل کتب سے ملاحظہ کریں:
تحفۃ الملوک فی فقہ مذھب الامام ابی الحنیفۃ (5)
اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب (6)
الغرۃ المنیفۃ (7)
مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر(8)
مختارات النوازل (9)
ان کے علاوہ دیگر تمام کتب فقہ میں اس مسئلہ کی وضاحت و صراحت ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات:
1۔ قدوری، المختصر ، کتاب الطھارۃ ، باب الانجاس ، ص : 80
2۔ القدوری ، المختصر ، کتاب الطھارۃ ، باب الانجاس ، ص : 82
3۔ حصکفی ، در المختار مع رد المحتار، کتاب الطہارۃ ، باب الانجاس ، 510
4۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس وتطہیرھا، ج:1، ص:69
5۔ زین الدین محمد بن ابی بکربن عبدالقادر الرازی (صاحب مختار الصحاح) ، تاریخ وفات:666ھ۔ اس کتاب کی شروح بدرالدین عینی، ابواللیث الزیلعی کے علاوہ دیگر نے کی ہیں۔ آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ، علم البیان، لغت کے علاوہ دیگر بھی کئی موضوعات پر کتب تصنیف کی ہیں۔ تحفۃ الملوک فی فقہ مذھب الامام ابی حنیفۃ، کتاب الطھارۃ، فصل فی ازالۃ النجاسۃ،ص:39
6۔ المنبجی، اللباب، کتاب الطھارۃ، باب تجوز ازالۃ النجاسۃ بما سوی الماء من المائعات الطاہرۃ، ص:72
7۔ سراج الدین ابوحفص عمر بن اسحٰق الھندی الغزنوی الحنفی قاضی القضاۃ بالدیار المصر لہ تصانیف کثیرۃ، تاریخ پیدائش: 704ھ، آپ کثیر کتب کے مصنف ہیں۔ جن میں فقہ، اصول فقہ اور تصوف کے علاوہ دیگر کئی موضوعات پر متون، شروحات اور تعلیقات شامل ہیں۔خصوصاً آپ نے فقہ و اصول میں نمایاں کارنامے سرانجام دیئے ہیں امھات کتب فقہ الحنفیہ مثلاً زیادات، جامع الصغیر والکبیر، الھدایۃ، مغنی اور منار وغیرہ کی شروحات کی ہیں۔تاریخ وفات: 773ھ۔الغرۃ المنیفۃ، کتاب الطھارۃ، مسألۃ ازالۃ النجاسۃ، ص:12
8۔ عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان الکلیوبی شیخی زادۃ الحنفی المعروف بداماد آفندی المتوفی1078ھ۔مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس، ص:86
9۔ المرغینانی، مختارات، کتاب الطھارۃ، باب مایجوز بہ الوضوء،ص:128