واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا گوبر کی آگ پر پکی ہوئی اشیاء پاک ہوتی ہیں؟

متفرق کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: متفرق مشاہدات: 1

جواب

ہمارے معاشرے میں گوبر کو خشک کر کے آگ میں جلایا جاتا ہے اور اس سے کھانے پینے کی اشیاء بھی تیار کی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک ناپاک چیز سے، چاہے وہ گوبر ہو یا کوئی اور چیز ہو، جلائی گئی آگ پر پکنے والی چیز پاک رہے گی یا ناپاک؟ اس کےجواب سے پہلے اولاً واضاحت یہ ہے کہ آگ کسی بھی چیز سے ناپاک نہیں ہوتی۔ بلکہ ناپاک کو پاک کرنے والی ہے۔ جیسے گوبر وغیرہ کوئی بھی چیز آگ میں جلائی جائے تو اس کی راکھ پاک ہوجائے گی، ناپاک نہیں رہے گی۔
لہٰذا جب گوبر کی آگ جلائی جائے گی تو آگ میں گوبر نے اوپر نہیں اڑنا، بلکہ اس سے پیدا ہونے والی آگ اوپر اٹھے گی اور برتن کو حرارت دے گی جس سے کوئی بھی چیز پکے گی۔ یا ڈائریکٹ اس چیز تک آگ پہنچے گی جیسے تندور میں لگائی جانے والی روٹی، کہ اسے بلاواسطہ آگ پہنچتی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں اس سے پکنے والی چیز پاک ہی ہوگی۔ کیونکہ آگ ناپاک نہیں ہوتی اور اس چیز کو آگ ہی مس کررہی ہے۔

اصل سوال

کیا گوبر کی آگ پر پکی ہوئی اشیاء پاک ہوتی ہیں؟

مزید فتاویٰ جات

کیا اگر گوبر کا دھواں پکتی ہوئی چیز کے اندر چلا جائے تو وہ پاک رہتی ہے؟ کیا گوبر سے لپائی کرنا جائز ہے؟ کیا گوبر سے لپائی کرنا جائز ہے؟ کیا اگر گوبر کا دھواں پکتی ہوئی چیز کے اندر چلا جائے تو وہ پاک رہتی ہے؟