واپس فتاویٰ

فتویٰ

ناپاک ہونے کے بعد کیا سیمنٹ کی ٹینکی صرف پانی خالی کرنے سے پاک ہو جاتی ہے؟

طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: طہارت مشاہدات: 5

سوال

ناپاک ہونے کے بعد کیا سیمنٹ کی ٹینکی صرف پانی خالی کرنے سے پاک ہو جاتی ہے؟

جواب

جب ٹینکی سے پانی نکال لیا جائے گا تو اب نیا مسئلہ ٹینکی کو پاک کرنے کا پیش آئے گا۔ کیا ٹینکی پاک ہوگئی یا نہیں؟ اگر نہیں ہوئی تو کیسے کی جائے؟ ان سوالات کا جواب موجودہ صورت حال کے جائزہ کے بعد دیا جاتا ہے کہ موجودہ دور میں ٹینکیاں دوطرز کی ہوتی ہیں ایک وہ جنہیں اینٹوں اورسیمنٹ سے بنایا جاتا ہے اور دوسری وہ جو کہ پلاسٹک کی بنی ہوتی ہیں۔ سیمنٹ کی ٹینکی پانی نکال لینے سے ہی پاک ہوجائے گی۔ کہ اسے کنویں کے حکم میں کردیا جائے گا۔ کہ جیسے کنویں کی دیواریں مٹی اور کچڑ کی ہونے کی وجہ سے پانی کا اخراج ہی اس کی پاکی ہے کیونکہ مٹی کو دھویا نہیں جاسکتا۔ اس لیے بس ناپاک پانی کا اخراج پاک کردے گا۔ ایسے ہی سیمنٹ میں بھی بالکل وہی مسائل پیدا ہوتے ہیں اگر اس کو دھونے کی پابندی لگا دی جائے کہ سیمنٹ پانی جذب کرنے والی ہے اسے دھونا ایسے ہی مشکل ہے جیسے مٹی کی دیواروں کو۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
الحجر اذا اصابتہ النجاسۃ ان کان حجرا یتشرب النجاسۃ یکون یبسہ طہارۃ، و ان کان لایتشرب لا یطہر الا بالغسل۔(1)
ترجمہ: اور پتھر کو جب نجاست لگ جائے اگر پتھر نجاست کو پی لے تو اس کا خشک ہونا ہی طہارت ہے اور اگر نہ پیئے تو دھونے کے بغیر پاک نہ ہوگا۔
کہ جنس مٹی میں سے جہاں پانی جذب ہوجاتا ہے اسے دھویا نہیں جائے گا بلکہ خشک ہونا ہی اس کی پانی ہے۔ اور خشکی تمام اشیاء مٹی سے خاص ہے لیکن کنویں میں خشکی کی قید نہیں لگائی گئی بلکہ صرف اخراج کو ہی کافی قرار دیا جاتا ہے۔ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی علیہ الرحمہ نورالایضاح میں کنویں کے مسائل بیان کرتے ہوئے پہلے یہ واضح کرتے ہیں کہ کیسی نجاست پر کتنے ڈول نکالے جائیں گے اور پھر کہتے ہیں:
وکان ذلک طہارۃ للبئر۔ (2)
ترجمہ: اور یہی پانی کا نکالنا ہی کنویں کی پاکی ہے۔
یہ ٹینکی اس لحاظ سے کنویں کے حکم میں ہے لہٰذا جیسے کنویں کا خشک ہونا لازمی نہیں ہے ایسے ہی سیمنٹ کی ٹینکی میں بھی خشکی کو لازم قرار نہیں دیا جائے گا۔

حوالہ جات ؛
1۔ شامی ، رد المحتار ، کتاب الہارۃ ، باب الانجاس ، ج : 1 ص : 513
2۔ ابو الاخلاص حسن بن عمار الحنفی المصری الشرنبلالی، تاریخ پیدائش: 994ھ، آپ جامعہ الازہرمیں مدرس رہے جہاں سے خلق کثیر فیضیاب ہوئی۔ المحبی کہتے ہیں: "اگر نہیں امام محمد دیکھتے تو ان کی بڑے احسن انداز میں تعریف کرتے اور امام ابویوسف دیکھتے تو ان پر انحصار کرتے اور کسی پر افسوس کرتے"۔ آپ نے ملا خسرو کی کتاب الدرر پر حاشیہ، منظومہ ابن وھبان کی شرح، نورالایضاح، تحفۃ الاکمل اور التحقیقات القدسیہ تحریر کی ہیں۔ نورالایضاح کی شرح بھی خود ہی کی جس کا نام مراقی الفلاح رکھا۔ تاریخ وفات: 1069ھ۔ نورالایضاح، کتاب الطھارۃ، احکام الآبار و تطہیرھا، ص:15

مزید فتاویٰ جات

سیوریج کا پانی نہر کے پانی میں ڈالنے کا کیا حکم ہے؟ کیاگرم کیے ہوئے پانی سے طہارت جائزہے؟ سیوریج کے پانی کا کیا حکم ہے؟ اگر پانی والی ٹینگی میں کوئی پرندہ گر کر مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا پمپنگ سیٹ یا ٹونٹیوں کے ذریعے پانی نکالنے سے پانی کے اخراج کے ساتھ یہ چیزیں بھی پاک...