فتویٰ
کیا پمپنگ سیٹ یا ٹونٹیوں کے ذریعے پانی نکالنے سے پانی کے اخراج کے ساتھ یہ چیزیں بھی پاک ہو جائیں گی؟
طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا پمپنگ سیٹ یا ٹونٹیوں کے ذریعے پانی نکالنے سے پانی کے اخراج کے ساتھ یہ چیزیں بھی پاک ہو جائیں گی؟
جواب
ٹینکی سے ناپاک پانی نکالنے کےلیے اگر پمپنگ سیٹ کا استعمال کیا جاتا ہے یا پہلے سے لگائی گئی ٹونٹیوں سے پانی کو نکالا جاتا ہے تو پانی کے نکل جانے کے ساتھ ہی وہ سیٹ اور ٹوٹیاں بھی پاک ہوجائیں گی۔ علامہ شرنبلالی فرماتے ہیں:
وکان ذلک طہارۃ للبئر والدلو والرشاء والمستقی۔ (1)
ترجمہ: اور پانی کا اخراج ہی کنویں، ڈول،رسی اور پانی نکالنے والے کے ہاتھوں کو پاک کردے گا۔
لہٰذاپانی نکالنے کےلیے جن آلات کا استعمال کیا جائے گا وہ بھی پانی کے نکلتے ہیں پاک ہوجائیں گے۔ تو وہ پمپنگ سیٹ اور ٹوٹیاں جن سے پانی نکالا جائے
پانی کے اخراج کے مکمل ہوتے ہیں پاک ہوجائیں گے۔
لیکن یہاں ایک مختلف صورت بھی ہوسکتی ہے وہ یہ کہ کنویں سے جب پانی نکالا جاتا ہے تو اس کے نیچے سے پاک پانی جاری ہوتا ہے اور جب مقررہ حد تک پانی نکال لیا جاتا ہے تو پیچھے رہ جانے والا پانی پاک تصور ہوتا ہے۔ یہ کہ ان پانی نکالنے والے آلات کو پاک کرنے کا سبب یہ ہوسکتا ہے کہ جب مقررہ مقدار تک پانی نکال لیا گیا تو پیچھے رہ جانے والا پانی بھی پاک اور اس سے ہر چیز پاک ہوگئی ۔ مگر ٹینکیوں میں یہ صورت نہیں ہوگی کیونکہ یہاں پر تو آخر تک تمام پانی ناپاک ہوتا ہے۔ اور ٹینکی کو بھی الگ سے دھونے کا التزام کیا جائے گا تو وہ آلات جن سے پانی نکالا گیا ہے کیسے پاک ہوسکتے ہیں؟
اور یہ صورت بھی ہے کہ کنویں سے جو آخری ڈول بھرا جائے گا اور اسے باہر پھینکا جائے گا۔ یقیناً وہ پانی بھی ناپاک ہی ہوگا۔ مگر اسی ڈول کو انڈیلتے ہی ڈول، رسی اور ہاتھ پاک ہوجائیں گے انہیں الگ سے پاک کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس لحاظ سے مشابہت بھی بنتی ہے۔ کہ ٹینکی سے بھی آخری قطرہ تک پانی ناپاک نکلتا رہا ہے۔ اور کنویں سے بھی جس ڈول کے نکالنے پر پاکی کا حکم ہے وہ پانی ناپاک ہی ہے۔ لہٰذا یہ صورت فقہاء کے ذوق تحقیق پر چھوڑ دی جاتی ہے۔ کیونکہ یہاں سے طہارت وعدم طہارت دونوں پہلؤوں کے امکانات ہیں۔
حوالہ جات:
1- شرنبلالی، نورالایضاح، کتاب الطھارۃ، احکام الآبار و تطہیرھا، ص:15
وکان ذلک طہارۃ للبئر والدلو والرشاء والمستقی۔ (1)
ترجمہ: اور پانی کا اخراج ہی کنویں، ڈول،رسی اور پانی نکالنے والے کے ہاتھوں کو پاک کردے گا۔
لہٰذاپانی نکالنے کےلیے جن آلات کا استعمال کیا جائے گا وہ بھی پانی کے نکلتے ہیں پاک ہوجائیں گے۔ تو وہ پمپنگ سیٹ اور ٹوٹیاں جن سے پانی نکالا جائے
پانی کے اخراج کے مکمل ہوتے ہیں پاک ہوجائیں گے۔
لیکن یہاں ایک مختلف صورت بھی ہوسکتی ہے وہ یہ کہ کنویں سے جب پانی نکالا جاتا ہے تو اس کے نیچے سے پاک پانی جاری ہوتا ہے اور جب مقررہ حد تک پانی نکال لیا جاتا ہے تو پیچھے رہ جانے والا پانی پاک تصور ہوتا ہے۔ یہ کہ ان پانی نکالنے والے آلات کو پاک کرنے کا سبب یہ ہوسکتا ہے کہ جب مقررہ مقدار تک پانی نکال لیا گیا تو پیچھے رہ جانے والا پانی بھی پاک اور اس سے ہر چیز پاک ہوگئی ۔ مگر ٹینکیوں میں یہ صورت نہیں ہوگی کیونکہ یہاں پر تو آخر تک تمام پانی ناپاک ہوتا ہے۔ اور ٹینکی کو بھی الگ سے دھونے کا التزام کیا جائے گا تو وہ آلات جن سے پانی نکالا گیا ہے کیسے پاک ہوسکتے ہیں؟
اور یہ صورت بھی ہے کہ کنویں سے جو آخری ڈول بھرا جائے گا اور اسے باہر پھینکا جائے گا۔ یقیناً وہ پانی بھی ناپاک ہی ہوگا۔ مگر اسی ڈول کو انڈیلتے ہی ڈول، رسی اور ہاتھ پاک ہوجائیں گے انہیں الگ سے پاک کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس لحاظ سے مشابہت بھی بنتی ہے۔ کہ ٹینکی سے بھی آخری قطرہ تک پانی ناپاک نکلتا رہا ہے۔ اور کنویں سے بھی جس ڈول کے نکالنے پر پاکی کا حکم ہے وہ پانی ناپاک ہی ہے۔ لہٰذا یہ صورت فقہاء کے ذوق تحقیق پر چھوڑ دی جاتی ہے۔ کیونکہ یہاں سے طہارت وعدم طہارت دونوں پہلؤوں کے امکانات ہیں۔
حوالہ جات:
1- شرنبلالی، نورالایضاح، کتاب الطھارۃ، احکام الآبار و تطہیرھا، ص:15