فتویٰ
کیا اسپرٹ اور ٹنکچر کا استعمال جائز ہے؟
طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا اسپرٹ اور ٹنکچر کا استعمال جائز ہے؟
جواب
اسپرٹ اور ٹنکچر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان میں شراب الکحل کے اجزاء شامل کیے جاتے ہیں لہٰذا اس کا استعمال بطورکپڑوں کو رنگنے، دھونے یا دوائی کے ناجائز ہے اور جہاں لگے گی ناپاک کردے گی۔ اس کا رد یہ ہے کہ اگر تو یہ چیزیں شراب سے خالی ہوں تو پھر ان کا حکم پٹرول جیسا ہی ہے اور اگر حقیقت میں الکحل یا کسی بھی شراب کے اجزاء شامل کیے جاتے ہوں تو اس صورت میں بھی ان کا استعمال جائز ہے۔ کیونکہ شراب کا استعمال پینے میں حرام ہے اور اس کے علاوہ خمر نجس ہے اور اس کا ایک گھونٹ بھی پینا حرام قطعی ہے جبکہ خمر کے علاوہ شرابیں نجس نہیں ہیں اور ان شرابوں کی اتنی مقدار پینا حرام ہوگی جس پر نشہ آجائے اور اس سے کم مقدار کا پینا حلال اور جائز ہے۔ خمر کے نجس ہونے پر تو نص قطعی وارد ہے:اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں فرمایا:
اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ ۔ (1)
ترجمہ: شراب اور جوا اور بتوں کے پاس نصب شدہ پتھر اور فال کے تیر محض ناپاک ہیں۔
لہٰذا قرآن نے عرب معاشرے میں دیگر شرابوں کے ہوتے ہوئے خمر کا نام لے کر اسے نجس قرار دیا۔ اور دیگر کو نجس قرار نہیں دیا ہے۔ اور فقہاء نے اسے نجاست غلیظہ میں شامل کیا ہے امام قدوری فرماتے ہیں:
و من اصابتہ من النجاسۃ المغلطۃ کالدم والبول والغائط والخمر۔(2)
ترجمہ: اور جسے نجاست غلیظہ پہنچ جائے جیسے (آدمی کا)بول و براز، خون اور خمر(کہ یہ سب نجاست غلیظہ ہیں)۔
خمر کی حرمت اور نجس ہونے پر تو نص قطعی وارد ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ کے متعلق صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
قولہ علیہ السلام: ’’حرمت الخمر لعینھا و یروی بعینھا قلیلھا و کثیرھا والسکر من کل شراب(3)‘‘ خص السکر بالتحریم
فی غیر الخمر اذ العطف للمغایرت۔ (4)
ترجمہ: حضور نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ خمر کی حرمت اس کے عین میں ہے اس کا قلیل و کثیر حرام ہے اور (خمر کے علاوہ) تمام شرابوں میں نشہ آنے پر حرمت ہے۔ (صاحب ہدایہ فرماتے ہیں)حضور نبی کریمﷺ نے خمر کے علاوہ شرابوں کی حرمت کو نشہ سے خاص کردیا ہے۔ حدیث میں عطف مغایرت کےلئے ہے (کہ خمر سے دیگر شرابوں کا حکم مختلف ہوگا)۔
الکحل خمر نہیں ہے۔ خمر کے علاوہ شرابیں اتنی مقدار میں پینا بھی جائز قرار دیا ہے جتنی پر نشہ نہ آئے۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ خمر کے علاوہ شرابیں نجس نہیں کیونکہ نجس کا استعمال تھوڑا بھی حرام اور زیادہ بھی حرام ہے۔ جس کی تھوڑی مقدار کو پینا حلال ہو وہ نجس کیسے ہوسکتی ہے۔ اور جو چیز نجس ہوتی ہے وہ اپنی نجاست کی وجہ سے ہی حرام ٹھہرتی ہے چاہے اس میں کوئی علت جیسے نشہ وغیرہ نہ بھی ہو۔ جبکہ یہ صورت یہاں نہیں الغرض الکحل کیونکہ نشہ آور ہے اس لیے اس کا پینا تو حرام ہے مگر وہ ناپاک نہیں۔
اگر کوئی الکحل کے نجس ہونے کا ہی قائل ہو تو ان کےبرخلاف درج ذیل قاعدہ بھی ہمارے موقف پر ثبوت ہے:
ان الطہارۃ بانقلاب العین۔ (5)
ترجمہ: کسی چیز کے عین میں تبدیلی سے طہارت حاصل ہو جائے گی۔
اصل نجس یعنی نجس العین خمر سرکہ میں بدل جانے سے پاک ہوجاتی ہے جو کہ نجاست قطعی ہے تو پھر الکحل جو کہ اپنی حالت کو چھوڑ کر اسپرٹ یا ٹنکچر وغیرہ میں بدل جائے گی۔ تو اپنی اصل بدل جانے کی صورت میں پاک ہی تصور ہوگی۔
حوالہ جات:
1 ۔ المائدۃ90/5
2۔ قدوری، المختصر ، کتاب الطھارۃ ، باب الانجاس ، ص : 81
3۔ ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب بن علی بن سنان الخراسانی النسائی، تاریخ پیدائش:215ھ، آپ علوم الحدیث کے اعلی درجہ کے عالم ہیں آپ کا شمار ائمہ ستہ میں کیاگیا ہے۔ آپ نے علوم الحدیث کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ علوم القرآن کو سیکھا جن میں قرآۃ پر خاص توجہ رہی۔ ابوجعفر الطحاوی الحنفی آپ کے تلمیذ خاص ہیں۔بعض نے مذھباً شافعی کہا لیکن حقیقت کے زیادہ قریب یہ بات ہے کہ آپ خود مجتہد تھے جیساکہ تمام ائمہ صحاح ستہ۔آپ نے حدیث پر السنن الکبریٰ کے علاوہ بھی بہت کتابیں تحریر کی ہیں جن میں اکثر مختلف مسانید پر ہیں اور بعض مخصوص موضوعات پر ہیں، کتاب التفسیر تحریر کی، خصائص علی، اسماء الرجال پر اور دیگر دینی موضوعات پر اور سیرت پر کتابیں تحریر کی ہیں۔ تاریخ وفات:شعبان303ھ ۔السنن ، کتاب الاشربۃ ، باب ذکر الاخبار التی اعتل بھا ، رقم الحدیث : 5687
4۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الاشربۃ ، جزء الاخیرین ، ج : 3 ، ص : 501
5۔ شامی ، رد المحتار ، کتاب الطہارۃ ، ج : 1 ، ص : 510
اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ ۔ (1)
ترجمہ: شراب اور جوا اور بتوں کے پاس نصب شدہ پتھر اور فال کے تیر محض ناپاک ہیں۔
لہٰذا قرآن نے عرب معاشرے میں دیگر شرابوں کے ہوتے ہوئے خمر کا نام لے کر اسے نجس قرار دیا۔ اور دیگر کو نجس قرار نہیں دیا ہے۔ اور فقہاء نے اسے نجاست غلیظہ میں شامل کیا ہے امام قدوری فرماتے ہیں:
و من اصابتہ من النجاسۃ المغلطۃ کالدم والبول والغائط والخمر۔(2)
ترجمہ: اور جسے نجاست غلیظہ پہنچ جائے جیسے (آدمی کا)بول و براز، خون اور خمر(کہ یہ سب نجاست غلیظہ ہیں)۔
خمر کی حرمت اور نجس ہونے پر تو نص قطعی وارد ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ کے متعلق صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
قولہ علیہ السلام: ’’حرمت الخمر لعینھا و یروی بعینھا قلیلھا و کثیرھا والسکر من کل شراب(3)‘‘ خص السکر بالتحریم
فی غیر الخمر اذ العطف للمغایرت۔ (4)
ترجمہ: حضور نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ خمر کی حرمت اس کے عین میں ہے اس کا قلیل و کثیر حرام ہے اور (خمر کے علاوہ) تمام شرابوں میں نشہ آنے پر حرمت ہے۔ (صاحب ہدایہ فرماتے ہیں)حضور نبی کریمﷺ نے خمر کے علاوہ شرابوں کی حرمت کو نشہ سے خاص کردیا ہے۔ حدیث میں عطف مغایرت کےلئے ہے (کہ خمر سے دیگر شرابوں کا حکم مختلف ہوگا)۔
الکحل خمر نہیں ہے۔ خمر کے علاوہ شرابیں اتنی مقدار میں پینا بھی جائز قرار دیا ہے جتنی پر نشہ نہ آئے۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ خمر کے علاوہ شرابیں نجس نہیں کیونکہ نجس کا استعمال تھوڑا بھی حرام اور زیادہ بھی حرام ہے۔ جس کی تھوڑی مقدار کو پینا حلال ہو وہ نجس کیسے ہوسکتی ہے۔ اور جو چیز نجس ہوتی ہے وہ اپنی نجاست کی وجہ سے ہی حرام ٹھہرتی ہے چاہے اس میں کوئی علت جیسے نشہ وغیرہ نہ بھی ہو۔ جبکہ یہ صورت یہاں نہیں الغرض الکحل کیونکہ نشہ آور ہے اس لیے اس کا پینا تو حرام ہے مگر وہ ناپاک نہیں۔
اگر کوئی الکحل کے نجس ہونے کا ہی قائل ہو تو ان کےبرخلاف درج ذیل قاعدہ بھی ہمارے موقف پر ثبوت ہے:
ان الطہارۃ بانقلاب العین۔ (5)
ترجمہ: کسی چیز کے عین میں تبدیلی سے طہارت حاصل ہو جائے گی۔
اصل نجس یعنی نجس العین خمر سرکہ میں بدل جانے سے پاک ہوجاتی ہے جو کہ نجاست قطعی ہے تو پھر الکحل جو کہ اپنی حالت کو چھوڑ کر اسپرٹ یا ٹنکچر وغیرہ میں بدل جائے گی۔ تو اپنی اصل بدل جانے کی صورت میں پاک ہی تصور ہوگی۔
حوالہ جات:
1 ۔ المائدۃ90/5
2۔ قدوری، المختصر ، کتاب الطھارۃ ، باب الانجاس ، ص : 81
3۔ ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب بن علی بن سنان الخراسانی النسائی، تاریخ پیدائش:215ھ، آپ علوم الحدیث کے اعلی درجہ کے عالم ہیں آپ کا شمار ائمہ ستہ میں کیاگیا ہے۔ آپ نے علوم الحدیث کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ علوم القرآن کو سیکھا جن میں قرآۃ پر خاص توجہ رہی۔ ابوجعفر الطحاوی الحنفی آپ کے تلمیذ خاص ہیں۔بعض نے مذھباً شافعی کہا لیکن حقیقت کے زیادہ قریب یہ بات ہے کہ آپ خود مجتہد تھے جیساکہ تمام ائمہ صحاح ستہ۔آپ نے حدیث پر السنن الکبریٰ کے علاوہ بھی بہت کتابیں تحریر کی ہیں جن میں اکثر مختلف مسانید پر ہیں اور بعض مخصوص موضوعات پر ہیں، کتاب التفسیر تحریر کی، خصائص علی، اسماء الرجال پر اور دیگر دینی موضوعات پر اور سیرت پر کتابیں تحریر کی ہیں۔ تاریخ وفات:شعبان303ھ ۔السنن ، کتاب الاشربۃ ، باب ذکر الاخبار التی اعتل بھا ، رقم الحدیث : 5687
4۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الاشربۃ ، جزء الاخیرین ، ج : 3 ، ص : 501
5۔ شامی ، رد المحتار ، کتاب الطہارۃ ، ج : 1 ، ص : 510