فتویٰ
نجاستِ غلیظہ میں درہم کی مقدار کتنی ہوتی ہے؟
طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
نجاستِ غلیظہ میں درہم کی مقدار کتنی ہوتی ہے؟
جواب
اگر نجاست غلیظہ بدن یا جسم وغیرہ پر لگ جائے تو اس کی درھم کے برابر یا اس سے کم مقدار تک تو رعایت ہے کہ اس میں نماز پڑھی جاسکتی ہے لیکن اگرا س سے بڑھ جائے تو نماز جائز نہیں ہے۔ ایک درھم کتنی مقدار کا ہوتا ہے؟اس کی وضاحت میں صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
یروی اعتبار الدرھم من حیث المساحۃ و ھو قدر عرض الکف فی الصحیح ویروی من حیث الوزن وھو الدرھم الکبیر المثقال وھو ما یبلغ وزنہ مثقالا۔ وقیل فی التوفیق بینھما ان الاولیٰ فی الرقیق والثانیۃ فی الکثیف۔
ترجمہ: درھم کی مقدار کا اعتبار پیمائش سے کیا جائے گا یہ بھی روایت کیا گیا ہے اور اس لحاظ سے صحیح مقدار ہتھیلی کی چوڑائی ہے۔ اور درھم کے وزن کا اعتبار کیا جائے یہ بھی روایت کیا گیا ہے اور وہ بڑا مثقالی درھم ہے کہ جس کا وزن ایک مثقال کو پہنچتا ہو۔ ان دونوں اقوال کے درمیان موافقت قائم کرنے کےلیے کہا گیا ہے کہ پہلی روایت سیلانی رقت والی نجاستوں کے بارے ہے اور دوسری ٹھوس کثافت والی نجاستوں کے بارے ہے جو سیلانی نہ ہوں۔
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں فرماتے ہیں:
قدر الدرھم وزنا فی المتجسدۃ و مساحۃ فی المائعۃ۔
ترجمہ: اور درھم کی مقدار کےلیے نجاست جسمیہ میں (درھم کے) وزن کا اعتبار ہوگا اور مائع نجاست میں پیمائش کا اعتبار ہوگا۔
لہٰذا گوبر، پائخانہ وغیرہ میں درہم کےوزن یعنی ایک مثقال کا اعتبارہ ہوگا۔
حوالہ جات:
۔ المرغینانی،الھدایۃ، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس وتطہیرھا، ج:1 ،ص:71
۔ مراقی الفلاح، کتاب الطھارۃ، لایجوز کشف العورۃ للاستنجاء، ص:20
یروی اعتبار الدرھم من حیث المساحۃ و ھو قدر عرض الکف فی الصحیح ویروی من حیث الوزن وھو الدرھم الکبیر المثقال وھو ما یبلغ وزنہ مثقالا۔ وقیل فی التوفیق بینھما ان الاولیٰ فی الرقیق والثانیۃ فی الکثیف۔
ترجمہ: درھم کی مقدار کا اعتبار پیمائش سے کیا جائے گا یہ بھی روایت کیا گیا ہے اور اس لحاظ سے صحیح مقدار ہتھیلی کی چوڑائی ہے۔ اور درھم کے وزن کا اعتبار کیا جائے یہ بھی روایت کیا گیا ہے اور وہ بڑا مثقالی درھم ہے کہ جس کا وزن ایک مثقال کو پہنچتا ہو۔ ان دونوں اقوال کے درمیان موافقت قائم کرنے کےلیے کہا گیا ہے کہ پہلی روایت سیلانی رقت والی نجاستوں کے بارے ہے اور دوسری ٹھوس کثافت والی نجاستوں کے بارے ہے جو سیلانی نہ ہوں۔
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں فرماتے ہیں:
قدر الدرھم وزنا فی المتجسدۃ و مساحۃ فی المائعۃ۔
ترجمہ: اور درھم کی مقدار کےلیے نجاست جسمیہ میں (درھم کے) وزن کا اعتبار ہوگا اور مائع نجاست میں پیمائش کا اعتبار ہوگا۔
لہٰذا گوبر، پائخانہ وغیرہ میں درہم کےوزن یعنی ایک مثقال کا اعتبارہ ہوگا۔
حوالہ جات:
۔ المرغینانی،الھدایۃ، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس وتطہیرھا، ج:1 ،ص:71
۔ مراقی الفلاح، کتاب الطھارۃ، لایجوز کشف العورۃ للاستنجاء، ص:20