واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا نیل اور مایہ لگے ہوئے کپڑے پاک ہوتے ہیں، جبکہ ان میں ناپاک اجزاء شامل نہ ہوں؟

طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-23 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: طہارت مشاہدات: 1

سوال

کیا نیل اور مایہ لگے ہوئے کپڑے پاک ہوتے ہیں، جبکہ ان میں ناپاک اجزاء شامل نہ ہوں؟

جواب

بعض حضرات میں یہ شک پایا جاتا ہے کہ شاید مایہ میں ناپاک اجزاء شامل ہوتے ہیں اور جن کپڑوں کو مایہ لگایا جائے گا ان کا پہننا جائز نہیں ہے۔ کپڑا دھونے کے بعد مزید کپڑے کو اچھا کرنے کےلیے اور شائننگ کےلیے نیل اور مایہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے کپڑوں کا استعمال جائز ہے کیونکہ صرف نیل یا مایہ لگانے میں کوئی بھی حرج نہیں ہے۔ لیکن اگر ان کے اندر ناپاک اجزاء شامل کیے جاتے ہوں تو حکم مختلف ہوگا یعنی پھر استعمال جائز نہیں ہوگا۔
اور اگر علم نہیں کہ ناپاک اجزاء شامل کیے جاتے ہیں یا نہیں تو استعمال جائز ہے۔ کیونکہ فقہ کا قاعدہ ہے:
الیقین لا یزول بالشک۔ (1)
ترجمہ: یقین شک کے ساتھ زائل نہیں ہوتا۔
الاشباہ کی شرح غمز عیون البصائر میں علامہ حموی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
الاصل الیقن لا یزیلہ شک طارئ علیہ۔(2)
ترجمہ: اصل میں یقین ہوتا ہے تو اس پر طاری ہونے والا شک اسے زائل نہیں کرتا۔
لہٰذا اولا ً تو اس کے پاک ہونے کا اعتبار کیا جائے گا لیکن اگر ناپاکی کا یقین ہوجائے تو استعمال ناجائز ہوجائے گا۔
حوالہ جات:
1۔ ابن نجیم، الاشباہ ، الفن الاول فی القواعد الکلیۃ، القاعدۃ الثالثۃ، ص:60
2۔ ابوالعباس شھاب الدین احمد بن محمد المکی الحسینی الحموی المصری الحنفی، قاہرہ کے مدرسہ سلیمانیہ میں مدرس رہے فقہ حنفی کی مسند افتاء پر جلوہ افروز رہے۔ آپ نے فقہ، فتاویٰ، تصوف اور دیگر موضوعات پر متون و شروحات وراثت میں چھوڑیں۔ تاریخ وفات: 1098ھ۔غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر، الفن الاول فی القواعد الکلیۃ، القاعدۃ الثالثۃ، ج: 1،ص:193

مزید فتاویٰ جات

سیوریج کا پانی نہر کے پانی میں ڈالنے کا کیا حکم ہے؟ اگر پانی والی ٹینگی میں کوئی پرندہ گر کر مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیاگرم کیے ہوئے پانی سے طہارت جائزہے؟ سیوریج کے پانی کا کیا حکم ہے؟ ناپاک ہونے کے بعد کیا سیمنٹ کی ٹینکی صرف پانی خالی کرنے سے پاک ہو جاتی ہے؟