واپس فتاویٰ

فتویٰ

ناپاک ہو جانے کی صورت میں صابن کو پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-23 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: طہارت مشاہدات: 2

سوال

ناپاک ہو جانے کی صورت میں صابن کو پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

کوئی بھی چیز اس قدر ناپاک ہوتی جس قدر اس میں نجاست شامل ہوجائے۔ جیسے گوندھا ہوا آٹا وغیرہ کہ جب اس کو کتا منہ لگا لے تو جہاں کتے نے منہ لگایا ہے اس جگہ سے ارد گرد سے آٹا نکال کر پھینک دیا جائے گا جبکہ باقی پاک ہے کیونکہ نجاست نے اس سے آگے سرایت نہیں کیا۔ ایسے ہی ہر چیز اس مقدار ہی ناپاک ہوتی ہے جہاں تک نجاست سرایت کرے۔ صابن ایک ٹھوس چیز ہے کہ جس کے اندر کوئی بھی چیز مشکل سے سرایت کرتی ہے۔ یعنی اگر پانی وغیرہ جیسی کوئی چیز اس میں سرایت کرتی ہے تو حقیقت واقعہ یہی ہے کہ صابن گَل جاتا ہے۔ یہی سیدھا سادھا سا معیار ہے اگر صابن گَلا نہیں ہے تو اس کا اس مطلب ہے کہ اس میں نجاست نے سرایت نہیں کیا اور اس کے اوپر اوپر ہی موجود ہے تو بس اسے اوپر سے دھودینا ہی کافی ہے۔ اور اگر صابن گَل جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ نجاست اس کے اندر سرایت کرگئی ہے۔ تو اس سے اتنا حصہ اتاردیا جائے جو گَل چکا ہے یقینا نجاست اس تک سرایت کرچکی ہے مگر اسے سے آگے نہیں۔ جب وہ حصہ اتاردیا جائے گا تو باقی صابن پاک تصور ہوگا۔ یا اس کے علاوہ کوئی رنگدار نجس چیز اس میں ملتی ہے تو اس کےلیے بھی یہی حکم ہے کہ جہاں تک اس کے اثرات تحلیل ہوچکے ہیں اس حصہ کو اتار کر پھینک دیا جائے۔

مزید فتاویٰ جات

سیوریج کا پانی نہر کے پانی میں ڈالنے کا کیا حکم ہے؟ اگر پانی والی ٹینگی میں کوئی پرندہ گر کر مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیاگرم کیے ہوئے پانی سے طہارت جائزہے؟ سیوریج کے پانی کا کیا حکم ہے؟ ناپاک ہونے کے بعد کیا سیمنٹ کی ٹینکی صرف پانی خالی کرنے سے پاک ہو جاتی ہے؟