واپس فتاویٰ

فتویٰ

فقہِ اسلامی کے مطابق کیا صابن اور سرف آلۂ طہارت میں شمار ہوتے ہیں؟

طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-23 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: طہارت مشاہدات: 3

سوال

فقہِ اسلامی کے مطابق کیا صابن اور سرف آلۂ طہارت میں شمار ہوتے ہیں؟

جواب

عام صفائی ستھرائی کےلیے تو ان کے استعمال کی وضاحت کردی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان سے طہارت بھی حاصل کی جاسکتی ہے؟ طہارت کی دواقسام ہیں: طہارت حقیقیہ اور حکمیہ۔ اور ہر طرح کی نجاست سے پاکی حاصل کرنے میں اصل بات نجاست کا زائل کرناہے۔ نجاست حکمیہ کو ماء مطلق سے زائل کرنا خاص کردیا گیا ہے۔ جبکہ نجاست حقیقیہ کسی بھی پاک شئے سے زائل کردی جائے تو طہارت ہو جائے گی۔ جیسے پانی اور مٹی سے، رگڑنے سے، پھلوں اور درختوں کے جوس اور رس سے، پٹرول اور اسپرٹ وغیرہ سے اگر اس نجاست حقیقیہ کو زائل کردیا جائے تو طہارت حاصل ہو جاتی ہے۔اس حوالے سے علامہ قدوری علیہ الرحمہ کا قول پہلے بھی گزرچکا ہے:
و یجوز تطھیر النجاسۃ بالماء و بکل مائع طاھر یمکن ازالتھا بہ کالخل و ماء الورد۔ (1)
ترجمہ: پانی اور ہر پاک مائع چیز سے طہارت حاصل کرنا جس سے نجاست کا زائل
کرنا ممکن ہو جائز ہے جیسے سرکہ اور پھولوں کا پانی۔
لہٰذا اگر صابن، سرف اور شیمپو وغیرہ سے بھی نجاست زائل کردی جائے تو طہارت حاصل ہو جائے گی۔اس لیے ان کو آلۂ طہارت کہا جائے گا۔اور پھر نجاست حقیقیہ بھی دو طرح کی ہوتی ہے مرئیہ اور غیر مرئیہ۔
نجاست حقیقیہ مرئیہ کو تو اتنا دھویا جائے جس سے وہ نجاست ختم ہو جائے دھونے کی مقدار تھوڑی ہو یا زیادہ کی ضرورت پیش آئےلیکن غیر مرئیہ میں اسے تین بار دھونا لازم ہے۔ صابن وغیرہ سے طہارت کے مسئلہ میں پہلی قسم بالکلیہ ثابت ہو جائے گی کہ ان کی مدد سے وہ نجاست زائل کردینا ہی کافی ہے۔ باقی رہی دوسری قسم تو اس کے متعلق وضاحت یہ ہے کہ جب اس غیر مرئیہ میں صابن یا سرف وغیرہ کو مخلوط کردیا جائے گا تو وہ بھی مرئیہ بن جائے گی اس طرح سے اسے بھی صرف اتنا ہی دھونا لازم ہوگا جتنی مقدار سے صابن یا سرف وغیرہ کے اثرات زائل ہوجائیں چاہے ایک بار ہی ہو۔علامہ حصکفی فرماتےہیں:
و یطہر خف و نحوہ کالنعل تنجس بذی جرم ھو کل ما یری بعد الجفاف و لو من غیرھا کخمر و بول اصابہ تراب بہ یفتی بدلک یزول بہ اثرھا۔ (2)
ترجمہ: موزہ اور اس جیسی چیزیں جیسا کہ جوتا جو کہ نجاست جسمیہ سے نجس ہوئی ہوں اور نجاست جسمیہ یہ ہے کہ جو خشک ہونے کے بعد دکھائی دے اور اگر اس کے علاوہ خمر اور پیشاب سے ناپاک ہو جائے جس میں مٹی مل جائے تو اس پر بھی یہی فتوی ہے کہ رگڑنے سے ہی اس کا اثر زائل ہو جائے گا اور وہ پاک ہو جائے گی۔
یہاں پر وضاحت اس بات کی تھی کہ نجاست جسمیہ کو موزے جیسی اشیاء پر لگ جائے تو اسے رگڑ کر زائل کرنے سے پاکی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اور پھر فرمایا کہ نجاست جسمیہ کے علاوہ جیسے شراب اور پیشاب وغیرہ کہ جس میں مٹی جیسی کوئی جسمیہ مل جائے تو اس نجاست کوبھی جسمیہ ہی تصور کیا جائے گا۔ تو اسی طرح سے نجاست غیر مرئیہ میں صابن یا سرف جیسی مرئیہ چیز مل جائے گی تو اس نجاست کو بھی مرئیہ کے حکم میں کردے گی۔ اب اس نجاست میں جو مرئیہ چیز ہے وہ صابن یا سرف وغیرہ کے اثرات ہیں لہٰذا ایسے دھویا جائے کہ صابن وغیرہ کے اثرات مکمل طور پر زائل کردئیے جائیں تو طہارت ہوجائے گی۔علامہ بدرالدین عینی علیہ الرحمہ منحۃ السلوک فی شرح تحفۃ الملوک میں لکھتے ہیں:
النجاسۃ الغیر مرئیۃ تطہر بغسل الذی یغلب بہ علی ظن الغاسل زوالھا، لان غلبۃ الظن دلیل الشرعی۔ (3)
ترجمہ: نجاست غیر مرئیہ اس طرح دھودینےسے پاک ہوجائے گی کہ جب دھونے والے کو اس کے زائل ہوجانے کا غالب گمان ہوجائے۔ اس لیے کہ غلبۂ ظن دلیل شرعی ہے۔
صابن وغیرہ کے ساتھ دھونے سے پاکی کا غلبہ بنسبت اکیلے پانی کے زیادہ ہوتا ہے۔ اور اس پر قیاس یہ ہے کہ اگر کسی برتن میں نجاست غیر مرئیہ خشک ہوجائے اور پھر اس میں کسی رنگدار چیز کو ملادیا جائے تو اس کے ناپاک ہونے میں شک نہیں پھر وہ رنگدار چیز کسی کپٹرے وغیرہ کو لگ جائے تو یقیناً اسے نجاست مرئیہ کے حکم میں شامل کیا جائے گا۔
اور نجاست کے زوال کےلئے جب صابن یا سرف کا استعمال کیا جائے تو وہ نجاست کے ساتھ خلط ملط ہونے کی وجہ سے ناپاک ہوگا یا نہیں۔ نہ ہونا تو باطل ہے اور یقیناً ناپاک ہوجائے گا۔ اور یہ کہ اس کی ناپاکی نجاست کے اس میں تحلیل ہونے کی وجہ سے ہے تو جب صابن یا سرف کی اس ناپاک جھاگ کو زائل کردیا جائے تو یہ ناممکن ہے کہ محلول تو زائل ہوجائے مگر حائل زائل نہ ہو۔ لہٰذا جب حائل و محلول کا زائل ہونا ثابت ہوگیا تو طہارت حاصل ہو جائے گی۔
طہارت حقیقیہ مرئیہ و غیرمرئیہ کو زائل کرنا ہی اس کی طہارت ہے کہ مرئیہ کا زوال اس کے اثر کا ختم ہوجانا ہے جبکہ غیرمرئیہ کے ابہام کی وجہ سے اسے تین بار دھونے اور نچوڑنے کا حکم ہے۔ لیکن جب صابن یا سرف سے مل کر مرئیہ ہوجائے گی تو اس کا ابہام جاتا رہے گا اور اسے مرئیہ کے حکم میں ہی داخل کردیا جائےگا۔
حوالہ جات:
1 ۔ القدوری ، المختصر ، کتاب الطھارۃ ، باب الانجاس ، ص : 82
2۔ حصکفی ، در المختار ، کتاب الطہارۃ ، باب الانجاس ، ص : 511
3۔ العینی، منحۃ السلوک فی شرح تحفۃ الملوک، کتاب الطھارۃ، فصل فی ازالۃ النجاسۃ، ص:80

مزید فتاویٰ جات

سیوریج کا پانی نہر کے پانی میں ڈالنے کا کیا حکم ہے؟ اگر پانی والی ٹینگی میں کوئی پرندہ گر کر مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیاگرم کیے ہوئے پانی سے طہارت جائزہے؟ سیوریج کے پانی کا کیا حکم ہے؟ ناپاک ہونے کے بعد کیا سیمنٹ کی ٹینکی صرف پانی خالی کرنے سے پاک ہو جاتی ہے؟