فتویٰ
صابن، سرف اور شیمپو استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟
طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
صابن، سرف اور شیمپو استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
اسلام طہارت کی خوب تلقین کرتا ہے بلکہ طہارت نصف ایمان قراردے دیا ہے۔ صفائی اور ستھرائی کا ہر ایسا آلۂ طہارت کہ جس میں نجس اجزاء شامل نہ ہوں ان کے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ کیونکہ ان سے حکم طہارت کی تکمیل ہی ہوتی ہے۔ حالات حاضرہ میں انسان اپنے بدن اور کپڑوں وغیرہ کی صفائی کےلیے صابن، سرف اور شیمپو کا استعمال کرتا ہے۔
لہٰذا صابن، شیمپو اور سرف وغیرہ جب پاک اشیاء سے تیار کردہ ہوں تو ان کا ہر طرح سے استعمال بلاشبہ جائز ہے۔کیونکہ ان کے استعمال کے جائز نہ ہونے میں کسی طرح کا کوئی بھی مانع موجود نہیں۔یا اسی طرح سے بیوٹی کریمز جن کی تیاری میں پاکیزہ اجزاء شامل ہوں ان کا استعمال بھی اسی حکم میں یعنی جائز ہے۔
اور اگر ان کو بنانے میں ناپاک اشیاء کے اجزاء شامل کرلیے جاتے ہوں تو ان کی دوصورتیں ہیں کہ استعمال کرنے والے کو اس کا علم ہوگا یا نہیں، اگر علم نہیں تو پھر اس پر منع وارد نہیں ہوگا۔ اگر اسے علم ہوجائے تو دیکھا جائے گا کہ جو ناپاک اجزاء شامل کیے جاتے ہیں وہ اپنی ہیئت بدلتے ہیں یا اپنی اصل پر ہی قائم رہتے ہیں، اگر ہیئت بدل جائے تو استعمال مندرجہ بالا بیان کردہ قاعدہ(ان الطھارۃ بانقلاب العین) کے مطابق جائز ہوگا اور اگر نہ بدلیں تو حکم عدم جواز کا ہوگا۔ حقیقت واقعہ یہی ہے کہ ایسی چیزیں جو تیار کی جاتی ہیں ان میں کسی چیز کی عینیت نہیں بدلتی بلکہ مختلف چیزوں کے اجزاء مل کر ایک وجود بنادیتے ہیں۔ تو گویا ناپاک چیزوں سے بنے صابن یا شیمپو وغیرہ کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔
لہٰذا صابن، شیمپو اور سرف وغیرہ جب پاک اشیاء سے تیار کردہ ہوں تو ان کا ہر طرح سے استعمال بلاشبہ جائز ہے۔کیونکہ ان کے استعمال کے جائز نہ ہونے میں کسی طرح کا کوئی بھی مانع موجود نہیں۔یا اسی طرح سے بیوٹی کریمز جن کی تیاری میں پاکیزہ اجزاء شامل ہوں ان کا استعمال بھی اسی حکم میں یعنی جائز ہے۔
اور اگر ان کو بنانے میں ناپاک اشیاء کے اجزاء شامل کرلیے جاتے ہوں تو ان کی دوصورتیں ہیں کہ استعمال کرنے والے کو اس کا علم ہوگا یا نہیں، اگر علم نہیں تو پھر اس پر منع وارد نہیں ہوگا۔ اگر اسے علم ہوجائے تو دیکھا جائے گا کہ جو ناپاک اجزاء شامل کیے جاتے ہیں وہ اپنی ہیئت بدلتے ہیں یا اپنی اصل پر ہی قائم رہتے ہیں، اگر ہیئت بدل جائے تو استعمال مندرجہ بالا بیان کردہ قاعدہ(ان الطھارۃ بانقلاب العین) کے مطابق جائز ہوگا اور اگر نہ بدلیں تو حکم عدم جواز کا ہوگا۔ حقیقت واقعہ یہی ہے کہ ایسی چیزیں جو تیار کی جاتی ہیں ان میں کسی چیز کی عینیت نہیں بدلتی بلکہ مختلف چیزوں کے اجزاء مل کر ایک وجود بنادیتے ہیں۔ تو گویا ناپاک چیزوں سے بنے صابن یا شیمپو وغیرہ کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔