فتویٰ
اگر صوفہ یا بیڈ ناپاک ہو جائے تو اسے کیسے پاک کیا جائے؟
طہارت کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
اگر صوفہ یا بیڈ ناپاک ہو جائے تو اسے کیسے پاک کیا جائے؟
جواب
اگر صوفہ اور بیڈ کو نجاست لگ جائے تو اسے پاک کرتے وقت پانی بہانے کے بعد اسے نچوڑنا کافی حد تک ناممکن ہے۔ اس کی پاکی کےلیے وہ طریقے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں کہ جن سے قالین کو پاک کیا جاتا ہے۔ یعنی پانی بہا کر نجاست کو اچھے طریقہ سے رگڑ کر اکھیڑ لیا جائے اور تپش کے ذریعہ پانی کو بخارات کی شکل میں اڑا دیا جائے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ صوفہ یا بیڈ کو اوپر سے اچھے طریقہ سے پانی کے ساتھ دھویا جائے پانی نیچے بہتا جائے۔ جیسے اوپر سے نجاست زائل جائے گی تو وہ حصہ پاک ہوگیا۔ جبکہ نیچے والا ناپاک رہ جائے گا۔ تو اس کا ناپاک رہ جانا نقصان نہیں دیتا کیونکہ شریعت میں یہ اجازت ہے کہ اگر کوئی نجاست کے اوپر موٹا کپڑا یا چٹائی وغیرہ ڈال کر نماز پڑھ لیتا ہے تو نماز ہوجائے گی۔ لہٰذا صوفہ یا بیڈ کی اوپر والی جانب پاک ہے چاہے نیچے ناپاک رہ جائے گا۔ تو اس کے اوپر بیٹھ کر کوئی بھی عبادت کرناجائز ہوگا۔ اورعبادت کے علاوہ بھی مسلمان کے لیے تو اپنے بدن، لباس اور مکان کو پاک رکھنا ضروری ہے اس حکم پر بھی عمل ہوگا کیونکہ وہ جگہ جہاں بیٹھنا یا لیٹنا ہے وہ پاک ہے۔ اور کسی چیز کے اندر چھپی نجاست کا اعتبار نہیں کیا جاتا بس ظاہر کا اعتبار ہوتا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ صوفہ یا بیڈ کو اوپر سے اچھے طریقہ سے پانی کے ساتھ دھویا جائے پانی نیچے بہتا جائے۔ جیسے اوپر سے نجاست زائل جائے گی تو وہ حصہ پاک ہوگیا۔ جبکہ نیچے والا ناپاک رہ جائے گا۔ تو اس کا ناپاک رہ جانا نقصان نہیں دیتا کیونکہ شریعت میں یہ اجازت ہے کہ اگر کوئی نجاست کے اوپر موٹا کپڑا یا چٹائی وغیرہ ڈال کر نماز پڑھ لیتا ہے تو نماز ہوجائے گی۔ لہٰذا صوفہ یا بیڈ کی اوپر والی جانب پاک ہے چاہے نیچے ناپاک رہ جائے گا۔ تو اس کے اوپر بیٹھ کر کوئی بھی عبادت کرناجائز ہوگا۔ اورعبادت کے علاوہ بھی مسلمان کے لیے تو اپنے بدن، لباس اور مکان کو پاک رکھنا ضروری ہے اس حکم پر بھی عمل ہوگا کیونکہ وہ جگہ جہاں بیٹھنا یا لیٹنا ہے وہ پاک ہے۔ اور کسی چیز کے اندر چھپی نجاست کا اعتبار نہیں کیا جاتا بس ظاہر کا اعتبار ہوتا ہے۔