واپس فتاویٰ

فتویٰ

لائیو نشر ہونے والی اذان سننے کا کیا حکم ہے؟

اذان کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-13 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: اذان مشاہدات: 22

جواب

چینلز پر لائیو نشر کی جانے والی اذان اوقات نماز کے مطابق ہوتی ہے یعنی وہ اذان اعلامِ مخصوص ہوتا ہے۔ اور وہ وقت نماز کا اعلان ہوتا ہے اس لیے اس اذان کا حکم ریکارڈ شدہ سے مختلف ہوگا۔ نشریات تو پورے ملک بلکہ اس سے باہر بھی ہوتی ہیں، جس وقت اذان نشر کی جاتی ہے وہ جہاں سے نشر کی جارہی ہے وہاں تو وقت نماز ہوتا ہے مگر کئی اور مقامات پر وقت نہیں ہوتا۔ اس لیے جس علاقے سے نشر کی جارہی ہے اس علاقہ کے لوگوں پر احکام جاری ہوں گے۔ اور وہ بھی اختلاف فقہاء پر کہ جن کے نزدیک صرف اس مسجد کی اذان سننا واجب ہے جس میں نماز پڑھتے ہوں تو ان کے نزدیک سننا واجب نہیں ہوگا۔ اور جو کہتے ہیں کہ جہاں سے بھی سب سے پہلے اذان کی آواز آئے گی اس کو سننا واجب ہوگا اور اسی کا جواب دے گا۔ تو اس صورت میں اگر یہ براہ راست نشر ہونے والی اذان سب سے پہلے سنائی دے تو اس کو سننا واجب ہوگا اور اگر پہلے کہیں سے سن چکا ہوتو پھر لازم نہیں آئے گا۔لیکن اکثر براہ راست نہیں ہوتی بلکہ ریکارڈ ہوتی ہے اس صورت میں بھی جواب دینا واجب نہیں ہے۔

اصل سوال

لائیو نشر ہونے والی اذان سننے کا کیا حکم ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا ریکارڈ شدہ یا کسی ٹی وی/ریڈیو چینل سے نشر ہونے والی لائیو اذان کو ’’اذانِ جماعت‘‘ ش... کیا ریکارڈ شدہ اذان سننا واجب ہے؟ کیا لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا اور قرآنِ کریم کی قراءت کرنا جائز ہے؟