اذان کی اہمیت اور بحیثیتِ امرِ دینیہ اذان کی قطعیت بھی خوب واضح ہے امام محمد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
لو اجتمع اھل بلد علی ترکہ قاتلناھم علیہ۔ (۱)
ترجمہ:اگر شہر کے تمام لوگ اذان ترک کردیں تو ہم ان کے خلاف جہاد کریں گے۔
اور وضاحت میں ابن ھمام حنفی فرماتے ہیں:
عدم الترک مرۃ دلیل الوجوب۔ (۲)
ترجمہ: شہر میں اذان کو بالکل ترک کرنے کا ممنوع ہونا وجوب کی دلیل ہے۔
کہ شہرمیں کسی ایک جگہ بھی اذان نہ ہونے سے بچنے میں جو شدت اختیار کی گئی ہے اس سے وجوب اذان ثابت ہے۔مگر ہر نماز کےلئے اور ہر جماعت کے ساتھ اذان سنت ہے جس کی تصریحات کتب فقہ میں موجود ہیں۔حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا:
’’لو یعلم الناس ما فی النداء لتضاربوا علیہ بالسیوف‘‘(۳)
ترجمہ: اگر لوگ جان لیں کہ اذان میں اجر کیا ہے تو (اذان پڑھنے کی غرض سے)تلواروں کے ساتھ(ایک دوسرے کو) ماریں۔
اس کے علاوہ اذان کے فضائل احادیث میں اورائمہ و فقہاء کے اقوال میں خوب واضح ہیں۔ اذان کے واجب، سنت اور فضیلت کا عمل ہونے سے واضح ہے یہ عبادت ہے اور اس کا مکلف انسان ہے۔ لہٰذا یہ عبادت انسان سے ہی صادر ہوگی اور وہی اذان شرعی ہوگی جو کسی انسان سے صادر ہو۔
فتویٰ
کیا ریکارڈ شدہ یا کسی ٹی وی/ریڈیو چینل سے نشر ہونے والی لائیو اذان کو ’’اذانِ جماعت‘‘ شمار کیا جائے گا؟
اذان کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
۱۔ ابن ھمام، فتح القدیر، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، ج : 1، ص : 243
۲۔ ابن ھمام، فتح القدیر، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، ج : 1، ص : 243
۳۔ ابن ھمام، فتح القدیر، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، ج : 1 ، ص : 252
۲۔ ابن ھمام، فتح القدیر، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، ج : 1، ص : 243
۳۔ ابن ھمام، فتح القدیر، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، ج : 1 ، ص : 252
اصل سوال
کیا ریکارڈ شدہ یا کسی ٹی وی/ریڈیو چینل سے نشر ہونے والی لائیو اذان کو ’’اذانِ جماعت‘‘ شمار کیا جائے گا؟