واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا ریکارڈ شدہ اذان سننا واجب ہے؟

اذان کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-13 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: اذان مشاہدات: 19

جواب

اذان کو سننا واجب قرار دیا گیا ہے مگر یہ وجوب اذانِ صلوۃ کےلئے ہے کیونکہ احادیث میں جس اذان کے فضائل بیان کیے گئے ہیں اور اس کے سننے اور جواب دینے پر تاکید کی گئی ہے وہ بھی اذان صلوۃ ہی ہے۔ تو اس لیے سننے کا وجوب بھی اسی اذان سے مخصوص ہے۔ تمام کتب فقہ کی عبارات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں صاحب در مختار اذان کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں(جو کہ اصل میں ماتن کی عبارت ہے):
و شرعا اعلام مخصوص۔ (۱)
ترجمہ: شرعااذان سے مراد مخصوص اعلان ہے۔ اور وہ اعلان علامہ شامی بیان کرتے ہیں:
ای اعلام بالصلوۃ۔ (۲)
ترجمہ: اعلام مخصوص سے مراد نماز کا اعلان ہے۔
شرعی احکام اس اذان سے متعلقہ ہیں جو کہ نماز کےلئے اعلان ہو۔ مگر جو ریکارڈ شدہ اذان نشر کی جائے یا کوئی آڈیو ویڈیو کی صورت میں چلا ئے تو اسے سننا واجب نہیں۔ اور اس لیے بھی کہ ریکارڈ شدہ اذان شرعی شمار نہیں ہوگی یعنی اذانِ جماعت نہیں تو اس کے پڑھنے اور سننے والوں پر بھی شرعی احکام نافذ نہیں ہوں گے۔
اور علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
انہ لو اذن لنفسہ او بین جماعۃ مخصوصین ارادوا الصلوۃ عالمین بدخول الوقت لا یسمی اذانا شرعا لعدم الاعلام اصلا۔ (۳)
ترجمہ: اگر کسی نے اپنے لئے یا لوگوں کی مخصوص جماعت کے اندر اذان کہی کہ جو نماز کا ارادہ رکھتے تھے اور انہیں وقت کے دخول کا علم تھا تو یہ اذان شرعی نہیں ہوگی، اس لیے کہ اس میں در حقیقت اعلان نہیں ہے۔
جب ایسے حالات میں پڑھی جانے والی اذان شرعی نہیں یعنی شرعی احکام اس پر جاری نہیں، تو ریکارڈ شدہ اذان کیسے شرعی ہوگی؟ تو اس پر شرعی احکام کیسے نافذ ہوں گے؟ یعنی پڑھنے اور سننے والوں پر اذانِ صلوۃ والے احکام جاری نہیں ہوں گے، اس لیے ریکارڈ شدہ اذان سننا واجب نہیں۔ یعنی اگر کوئی نہیں سنتا تو وہ گناہگار نہیں ہوگا۔

حوالہ

۱۔ الحصکفی ، الدر المختار،کتاب الصلوۃ،باب الاذان، ج:2، ص:47
۲۔ شامی ، الرد المحتار،کتاب الصلوۃ،باب الاذان، ج:2، ص:47
۳۔ شامی ، الرد المحتار،کتاب الصلوۃ،باب الاذان، ج:2، ص:48

اصل سوال

کیا ریکارڈ شدہ اذان سننا واجب ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا ریکارڈ شدہ یا کسی ٹی وی/ریڈیو چینل سے نشر ہونے والی لائیو اذان کو ’’اذانِ جماعت‘‘ ش... لائیو نشر ہونے والی اذان سننے کا کیا حکم ہے؟ کیا لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا اور قرآنِ کریم کی قراءت کرنا جائز ہے؟