واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا اور قرآنِ کریم کی قراءت کرنا جائز ہے؟

اذان کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-13 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: اذان مشاہدات: 19

جواب

اس حوالہ سے سابقہ میں وضاحت کردی گئی ہے کہ عبادت کے امور میں سائنسی ایجادات کا استعمال نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے۔ لاؤڈ سپیکر بھی ایک سائنسی ایجاد ہے جو آواز کی بلندی کا آلہ ہے اور اذان میں آواز کی بلندی ہی مطلوب ہے تاکہ آواز دور سےدور تک پہنچ سکے۔ اذان کی شرائط میں مردہونا، بالغ ہونا، مسلم ہونا، قبلہ رو ہونا اور کھڑے ہونا شامل ہے آواز کا زوردار ہونا اذان کی ضرورت ہے۔ اس سائنسی آلہ سے پہلے مسجد سے باہر آکر اذان دینا یا مسجد یا کسی عمارت کی چھت پر اذان دینا صرف اس لیے تھا تاکہ اذان کی آواز دور تک پھیل سکے۔ اور اس زمانہ میں وہی کام جس طرح سے زیادہ اچھا ہو سکے گا وہی ذریعہ اختیار کیا جائے گا۔
اور نماز باجماعت کی ادائیگی میں قرأت کےلئے لاؤڈ سپیکر کا استعمال کرنا بھی جائز ہے۔ بعض نے اس وجہ سے اسے ناجائز قرار دیا ہے کہ سپیکر ایک مکبّر کی حیثیت سے ہے اور مکبّر کا انسان ہونا اور نماز میں شامل ہونا لازمی ہے جبکہ سپیکر کی حیثیت ان دونوں میں سے کچھ بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سپیکر مکبّر نہیں ہے کیونکہ مکبّر کی آواز امام کی آواز کے علاوہ ہوتی ہے اور امام سے سماعت کے بعد مکبّر بولتا ہے اور مکبّر تو صرف تکبیرات میں ہی آواز بلند کرتا ہے کہ قرأت میں نہیں۔ جبکہ سپیکر تینوں صورتوں میں مکبّر سے مختلف ہے اس لیے مکبّر پر سپیکر کو قیاس کرنا درست نہیں ہے۔ اور یہ کہ سپیکر سے امام کی حقیقی آواز ایسے ہی بلند ہوتی ہے جیسے دیوار سے ٹکرا کر یا کمرہ کے بند ہونے کی وجہ سے آواز بلند ہوجاتی ہے ایسے ہی لاؤڈ سپیکر سے امام کی ہی آواز بلند ہوتی ہے جس میں کراہت کی کوئی علت نہیں۔

اصل سوال

کیا لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا اور قرآنِ کریم کی قراءت کرنا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا ریکارڈ شدہ یا کسی ٹی وی/ریڈیو چینل سے نشر ہونے والی لائیو اذان کو ’’اذانِ جماعت‘‘ ش... لائیو نشر ہونے والی اذان سننے کا کیا حکم ہے؟ کیا ریکارڈ شدہ اذان سننا واجب ہے؟