← واپس
سوال
راستے پر کھڑے پانی کے چھینٹے لباس و بدن پرپڑجانے کی صورت میں
جواب
اگر راستوں پر کھڑے ناپاک پانی کے چھینٹے آدمی کے جسم یا کپڑوں پر اس
مقدار تک پڑ جائیں کہ جس مقدار پر نماز کےلئے طہارت لازم ہے تو یقیناً طہارت کا حصول فرض ہو جائے گالیکن یہ ایک ایسا امر ہے جو حالاتِ عامہ میں لوگوں کےلئے مشکل و محال ہے کہ راستوں پر چلنے سے چھینٹے پڑتے ہیں تو یقیناً جب بھی پاک کپڑے پہنیں گے اور جسم کو پاک کر کے گھر سے نکلتے ہیں تو وہ پانی ہر بار موجود ہے جب تک کہ وہ خشک نہ ہوجائے یا اس کی نکاسی کا انتظام نہ کردیا جائے۔لہذا ایک بار ناپاک چھینٹے پڑ جانے کے بعد جب بھی لباس تبدیل کرتا ہے تو وہ مسئلہ پھر درپیش ہے جس سے بچنا ناممکن ہے جب مسافر سائیکل یا موٹر سائیکل کی مثل کسی سواری پر ہو یا پیدل سفر کررہا ہو تو یہ صورت اس وقت بنتی ہے۔ لیکن اگر کار وغیرہ جیسی بند گاڑی میں ہوگا تو یہ مشکل اسے درپیش نہیں ہوگی۔ جب مشکل پیش آئے گی تو شرعی قاعدہ قابلِ عمل ہوجائے گا:
المشقۃ تجلب التیسیر۔(حوالہ:ابن نجیم، الاشباہ ، الفن الاول القواعد الکلیۃ، القاعدۃ الرابعۃ، ص: 84)
ترجمہ: مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے۔
اس پر عمل کرتے ہوئے رخصت دے دی جائے گی کہ جب مشقت پیدا ہو گئی تو ایسے لباس میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دی جائے جس میں راستے پر کھڑے گندے پانی کے چھینٹے پڑ چکے ہوں۔ اور اس قاعدے کی اصل قرآن پاک میں سے ہے اللہ کریم فرماتا ہے:
یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَایُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ (حوالہ:البقرۃ 185/2)
ترجمہ: اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا۔
وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ۔ (حوالہ:الحج 78/)
ترجمہ: اور اللہ نے تم پر دین میں مشکل نہیں بنائی۔
اور قرآن کے بعد حدیث میں بھی اس قاعدہ کی صراحت ہے:
احب الدین الی اللہ تعالیٰ الحنفیۃ السمحۃ۔ (حوالہ:ابن نجیم، الاشباہ ، الفن الاول القواعد الکلیۃ، القاعدۃ الرابعۃ، ص: 84)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کو خالص اور آسان دین محبوب ہے۔
لہٰذا یہ ایسی نجاست ہے کہ جس سے بچنا مشکل ہے اور باعث حرج ہے اس لیے اس صورت میں اتنی مقدار پر اجازت دے دی جائے گی جس سے بچنا محال ہے۔ مثلاًچھینٹے وغیرہ پڑ جاتے ہیں لیکن بہت زیادہ چھینٹوں سے بچنا ممکن ومحال ہے اس لیے اگر محال حد سے بڑھ کر پڑیں گے تو اجازت نہیں ہوگی۔
اس پر غور کریں کہ نجاست غلیظہ درھم کی مقدار تک اور خفیفہ چوتھائی حصہ تک لگ بھی جائے تو اس میں نماز جائز ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے اس جواز کی علت بھی یقیناً المشقۃ تجلب التیسیر ہے۔
تاریخ: 2025-06-27 | مفتی: ڈاکٹر مفتی مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال