← واپس
سوال
وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام
جواب
بعض مساجد کے اندر حوض بنائے جاتے ہیں کہ جن سے پانی لے کر وضو کیا جاتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ حوض کے گرد ایک نالی بنائی جاتی ہے اور اس کے باہر بیٹھنے کےلیے جگہ ہوتی ہے۔ حوض سے ہاتھوں میں پانی لیا جاتا ہے اور حوض سے باہر اعضاء کو دھویا جاتا ہے۔ اور ماء مستعمل نالی میں گرتا رہتا ہے۔
ایسے حوض کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں: کہ پانی نیچے سے تازہ جاری رہتا ہے یا جمع شدہ پانی ٹھہرا ہوتا ہے اور کم ہوجانے پر دوبارہ سے بھرلیا جاتا ہو۔ اگر تو پانی جاری رہے تو پھر تو بالکل ماء جاری کے حکم میں ہی ہوگا۔ کہ جو مستعمل نہیں ہوتا اور اگر نجاست گرے تو اتنی مقدار ناپاک کرے گی جو اس کے اوصاف میں سے کسی ایک وصف کو بدل دے۔ اگر جاری نہیں بلکہ صرف جمع کرلیا جاتا ہے تو اس کی دوصورتیں ہیں کہ اس میں پانی دہ در دہ کی مقدار کو پہنچتا ہے یا نہیں، اگر تو دہ در دہ کو پہنچ جائے تو اسے سوائے اتنی مقدار میں نجاست کے گرنے کے کہ جو اوصاف ثلاثہ میں سے کسی وصف کو بدل دے کوئی چیز طاہر اور مطہر ہونے سے خارج نہیں کرے گی۔ یعنی اس سے طہارت کرنا جائز ہے۔
اور اگر پانی کی مقدار دہ در دہ سے کم ہے تو اس میں پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ دوران وضو پانی اندر گرایا جاتا ہے یا باہر اگر تو باہر گرایا جاتا ہے پھر تو حوض کے اندر والا پانی صاف اور غیر مستعمل ہوگا جو کہ طاہر و مطہر قرار پائے گا۔ لیکن اگر پانی اس کے اندر گراتے ہیں اور پہلی صورت میں بھی ممکن ہے کہ بعض لوگ پانی اندر گرادیتے ہوں تو اس میں دیکھا جائے گا کہ استعمال کرنے والوں کی تعداد کیا ہے، کہ ان کے استعمال شدہ پانی کی مقدار اگر غالب آجائے تو یہ مستعمل کے حکم میں ہوجائے گا جس سے طہارت کا حصول نہیں۔
تاریخ: 2025-06-28 | مفتی: ڈاکٹر مفتی مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال