واپس فتاویٰ

فتویٰ

وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام

تاریخ: 2025-06-28 مفتی: ڈاکٹر مفتی مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: عمومی مشاہدات: 190

سوال

وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام

جواب

بعض مساجد کے اندر حوض بنائے جاتے ہیں کہ جن سے پانی لے کر وضو کیا جاتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ حوض کے گرد ایک نالی بنائی جاتی ہے اور اس کے باہر بیٹھنے کےلیے جگہ ہوتی ہے۔ حوض سے ہاتھوں میں پانی لیا جاتا ہے اور حوض سے باہر اعضاء کو دھویا جاتا ہے۔ اور ماء مستعمل نالی میں گرتا رہتا ہے۔
ایسے حوض کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں: کہ پانی نیچے سے تازہ جاری رہتا ہے یا جمع شدہ پانی ٹھہرا ہوتا ہے اور کم ہوجانے پر دوبارہ سے بھرلیا جاتا ہو۔ اگر تو پانی جاری رہے تو پھر تو بالکل ماء جاری کے حکم میں ہی ہوگا۔ کہ جو مستعمل نہیں ہوتا اور اگر نجاست گرے تو اتنی مقدار ناپاک کرے گی جو اس کے اوصاف میں سے کسی ایک وصف کو بدل دے۔ اگر جاری نہیں بلکہ صرف جمع کرلیا جاتا ہے تو اس کی دوصورتیں ہیں کہ اس میں پانی دہ در دہ کی مقدار کو پہنچتا ہے یا نہیں، اگر تو دہ در دہ کو پہنچ جائے تو اسے سوائے اتنی مقدار میں نجاست کے گرنے کے کہ جو اوصاف ثلاثہ میں سے کسی وصف کو بدل دے کوئی چیز طاہر اور مطہر ہونے سے خارج نہیں کرے گی۔ یعنی اس سے طہارت کرنا جائز ہے۔
اور اگر پانی کی مقدار دہ در دہ سے کم ہے تو اس میں پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ دوران وضو پانی اندر گرایا جاتا ہے یا باہر اگر تو باہر گرایا جاتا ہے پھر تو حوض کے اندر والا پانی صاف اور غیر مستعمل ہوگا جو کہ طاہر و مطہر قرار پائے گا۔ لیکن اگر پانی اس کے اندر گراتے ہیں اور پہلی صورت میں بھی ممکن ہے کہ بعض لوگ پانی اندر گرادیتے ہوں تو اس میں دیکھا جائے گا کہ استعمال کرنے والوں کی تعداد کیا ہے، کہ ان کے استعمال شدہ پانی کی مقدار اگر غالب آجائے تو یہ مستعمل کے حکم میں ہوجائے گا جس سے طہارت کا حصول نہیں۔

مزید فتاویٰ جات

سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟ سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟ راستے پر کھڑے پانی کے چھینٹے لباس و بدن پرپڑجانے کی صورت میں