← واپس
سوال
سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟
جواب
پانی کا پاک یا ناپاک ہونا وقوع نجاست کے ساتھ خاص ہے کہ اگر نجاست غلیظہ واقع ہو گئی تو پانی بھی نجاست غلیظہ شمار کیا جائے گا اور اگر نجاست خفیفہ ہو تو پانی بھی نجاست خفیفہ شمار کیا جائے گا۔سڑکوں اور راستوں پر پانی کو اس وقت نجس شمار کیا جائے گا جب یہ واضح ہو جائے گا کہ اس راستے پر نجاستیں موجود ہوں تو پھر ان کا پانی میں تحلیل ہونا یقینی ہے۔
محض سڑکوں یا راستوں پر پانی کا کھڑا ہونا نجس نہیں کرے گا۔ اگرراستے
ایسے ہوں کہ جن پر جانور بھی چلتے ہیں اور وہ پیشاب یا گو بر بھی کرتے ہیں ایسی صورت میں اگر سڑک پر نجاست خشک ہو کر ختم ہو جائے جیسے پیشاب خشک ہونے کے بعد ختم ہوجاتا ہےتو اب اسے سورج کی شعاعوں نے پاک کردیا لہٰذا وہ راستہ نجس نہ رہا اب اگر اس راستے پر پانی کھڑا ہوجاتا ہے تو وہ بھی پاک ہی ہوگا۔اگر نجاست جسمیہ(پاخانہ، گوبر وغیرہ) ہو اور وہ خشک ہو کر راستے کے اوپر موجود رہےتو وہ نجاست پاک نہیں ہوگی کیونکہ سورج کی شعاعیں نجاست کے وجود ختم ہوجانے کے بعد زمین کو پاک کرتی ہیں مگر نجاست کو پاک نہیں کرتیں لہٰذا ارد گرد تو پاک ہو جائے گا مگر وہ نجاست باقی رہے گی اور جب اس سے پانی کی آمیزش ہوگی تو پانی نجس ہو جائے گا نجاست غلیظہ ہو گی تو پانی بھی غلیظہ اور اگر خفیفہ ہوگی تو پانی بھی نجاست خفیفہ بن جائے گا۔لیکن اگر ایسا صاف راستہ ہو جہاں نجاستیں عموماً نہیں پہنچتیں تو جب تک نجاست ظاہر نہ ہوگی پانی پاک ہی ہوگا اور جہاں لگے گا وہ سب کچھ بھی پاک ہوگا۔
یہ وضاحت ان پانیوں کی ہے جو پہلے سے پاک ہوں جیسے بارشوں کا پانی وغیرہ۔ اور اگر سیوریج کا پانی راستے پر آجائے تو وہ بذات خود ہی نجس ہے اس لیے وہ نجاست ہی شمار ہوگا اگر خشک ہو جائے تو راستہ پاک ہو جائے گاکیونکہ سورج کی شعاعیں زمین کےلئے مطہر ہیں۔ اور پکے ، کچے راستے تمام زمین میں ہی شامل ہیں۔
تاریخ: 2025-06-27 | مفتی: ڈاکٹر مفتی مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال