← واپس
سوال
کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟
جواب
ہمارے معاشرے میں لوگوں کے اندر یہ بات مشہور ہے کہ کھڑا پانی پاک نہیں رہتا اور بہتا ہوا پانی پاک ہی رہتا ہے چاہے اس میں کوئی نجاست گر جائے۔اس کےلیے ایک مقولہ مشہور ہے:"وہندا پانی پاک بھاویں کتا مارے لاک، کھڑا پانی پلیت بھاویں وچ کھڑا مسیت" یعنی لوگوں کے نظریہ میں پاک کا ٹھہر جانا ہی اسے ناپاک کردیتا ہے جب کہ اس بات کی کوئی حقیقت نہیں۔ پانی کا پاک یا ناپاک ہونا وجودِ نجاست و عدمِ نجاست سے خاص ہے یعنی اگر نجاست پانی میں مل جائے تو ناپاک ہے اور نجاست سے پانی محفوظ ہے تو پاک ہے۔ بہتے اور کھڑے پانی کی الگ الگ تفصیل سابقہ صفحات میں بیان کی جاچکی ہے۔ اس کے ثبوت کےلیے دلائل کیا دئیے جائیں کہ قرآن و حدیث میں کھڑےپانی کے ناپاک ہونے کے بارے کہ جب تک اس میں کوئی نجاست نہ گر جائے، کوئی قرینہ بھی نہیں ملتا اور نہ ہی ائمہ و فقہاء میں سے کسی نے بھی اسے ناپاک نہیں کہا۔
رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اور آپ کے بعد آج تک یہی عمل مسلسل چلتا آرہاہے کہ پانی کو کنویں میں جمع کرلیا جاتا تھا اور اب ٹینکیوں میں جمع کرلیا جاتا ہے، ان دونوں صورتوں میں پانی تو ٹھہرا ہوتا ہے لیکن پاک بھی ہوتا ہے اور پاک کرتا بھی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
لا یبولن احدکم فی الماء الدائم ثم یتوضأ منہ او یشرب۔(حوالہ: احمد بن محمد بن سلامۃ الازدی الحجری المصری الشہیر بابی جعفر الطحاوی الحنفی، تاریخ پیدائش: 329ھ، آپ اولاً شافعی المذھب تھے اپنے ماموں المزنی سے فقہ شافعی پڑھتے رہے، آپ سے ہی مسند شافعی روایت بھی کی پھر چھوڑ کر حنفی مذھب کو اختیار کیا۔ امام سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "طحاوی ثقہ معتمد فقیہ تھےان کے بعد ان جیسا کوئی نہیں ہوا مصر میں ریاست حنفیہ ان پر ختم ہے" علامہ ذھبی اور ابواسحٰق شیرازی نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔ ابن عبدالبر نے کہا:"طحاوی کوفی المذھب(حنفی) تھے، وہ تمام مذاہب فقہاء کے عالم تھے"۔ آپ نے قرآن، حدیث، فقہ، معاملات اور اسماء الرجال میں بڑی تعداد میں کتب تحریر کی ہیں جن میں شرح معانی الآثار سب سے بلند پایہ اور مشہور و معتمد لاجواب تصنیف ہے۔ اور آپ نے امام محمد علیہ الرحمہ کی کتب کی شروح کیں، تاریخ اور امام اعظم کی سیرت پر بھی کتاب تحریر کی ہے۔ تاریخ وفات:321ھ ۔شرح معانی الآثار، کتاب الطھارۃ، باب الماء تقع فیہ النجاسۃ، ج:1 ،ص:14)
ترجمہ: کھڑے ہوئے پانی میں تم میں سے کوئی بھی پیشاب نہ کرے کہ پھر
اس سے وضو کیا جائے گا اور اس سے پیا جائے گایا پھر اس سے وضو کرے گا اور اس سے پیے گا(ثُمَّ یُتَوَضَّأُ مِنہٗ اَو یُشرَبُ یا ثُمَّ یَتَوَضَّأُ مِنہٗ اَو یَشرِبُدونوں اعراب کے مطابق ترجمہ کردیا ہے)۔ اور دوسری روایات میں غسل کرنے کا فرمایا۔ (حوالہ:طحاوی، شرح معانی الآثار، کتاب الطھارۃ، باب الماء تقع فیہ النجاسۃ، ج:1،ص:14)
اس حدیث میں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرو کہ اس سے وضو و غسل کیا جائے گا۔ جس پانی سے وضو وغسل کی اجازت خود رسول پاکﷺ عطا فرمادیں وہ کیسے ناپاک ہوسکتا ہے۔ جہاں پر کھڑا پانی میسر آجائے اس سے پیا بھی جاسکتا ہے اور وضو بھی کیا جاسکتا ہے جب تک اس کے ناپاک ہونے کا یقین نہ ہو یا غلبۂ ظن نہ پایا جائے۔
تاریخ: 2025-06-27 | مفتی: ڈاکٹر مفتی مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال