← واپس
سوال
سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟
جواب
بعض اشیاء اصلاً ناپاک ہوتی ہیں بعض عرضاً یعنی کسی سبب کے پائے جانے کی وجہ سے لہٰذا جب وہ سبب خارج ہوجائے تو پاکی لوٹ آتی ہے۔ لیکن جو اصلاً ناپاک ہیں ان کی پاکی کسی صورت بھی نہیں ہے۔ جو کسی سبب کی وجہ سے ناپاک ہوئی ہے اس کے پاک ہونے کی دو وجوہات ہیں۔ ناپاک چیز کے پاک ہونے کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ اس کی حالت بدل دی جائے جیسا کہ خمر کو سرکہ بنا دیا جائے تو پاک ہو جائے گا۔ کہ خمر اصلاً ناپاک نہیں ہے کیونکہ اصلاً تو انگور ہے جو حلال اورطیب ہے۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
لان بالتخلیل یزول الوصف المفسد و تثبت صفۃ الصلاح۔۔۔والاصلاح مباح۔ (حوالہ: ۔ المرغینانی، الھدایۃ،کتاب الاشربۃ، ج: 4،ص:502)
ترجمہ: اس لیے کہ سرکہ بنادینے سے نقصان دینے والا وصف زائل ہوجاتا ہے اور فائدہ کی صفت ثابت ہوجاتی ہے، لہٰذا جہاں فائدہ ہوگا وہ جائز ہوگا۔
صاحب رد المحتار فرماتےہیں:
ان الطہارۃ بانقلاب العین۔ (حوالہ: ۔ شامی ، رد المحتار ، کتاب الطہارۃ ، ج : 1 ، ص : 510)
ترجمہ: کسی چیز کے عین میں تبدیلی سے طہارت حاصل ہو جائے گی۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اس میں سے ناپاک اجزاء کو خارج کر دیا جائے جیسا کہ کپڑے کو دھو کر، زمین اور اس کی اقسام کا دھوپ کے پڑنے کی وجہ سے پاک ہوجانا ہے، یا لوہا وغیرہ کو مٹی سے رگڑنے کے ساتھ پاک کرلیا جائے۔یعنی پانی، مٹی یا آگ کے ذریعہ سے اس نجاست کے اجزاء کو خارج کردیا جائے۔
صاحب درالمختار و ردالمحتار نے بھی کہا:
بکل مائع طاہر قالع للنجاسۃ ینعصر بالعصر۔(حوالہ:محمد بن علی بن محمد بن علی بن عبدالرحمن بن محمد الدمشقی الحنفی المعروف بالحصکفی ، تاریخ پیدائش: 1025ھ، علماء نے آپ کو فقیہ، اصولی، محدث، مفسر اور نحوی کہا ہے۔ جس سے آپ کی علمی قابلیت اور امت میں مقبولیت عامہ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔کہ مسند افتاء الحنفیہ پر بھی جلوہ افروز رہے۔ کثیر کتب کے مصنف ہیں، تفسیر بیضاوی اور صحیح بخاری پر تعلیقات بھی تحریر کیں۔ تاریخ وفات: شوال 1088ھ۔ در المختار مع رد المحتار، کتاب الطہارۃ ، باب الانجاس ، 510)
ترجمہ: ہر پاک مائع جو کہ نجاست کو اکھاڑنے والی ہو اور نچوڑنے سے نچڑ جائے
اس سے نجاست حقیقیہ کو زائل کرنا جائز ہے۔
جس پانی میں انسانی فضلات یا دیگر غلاظتیں شامل ہوجائیں وہ پانی ناپاک ہوجائے گا۔ اور ناپاک ایسا کہ ناپاکی کے اجزاء اس کے اجزاء بن جائیں۔ فلٹریشن کے ساتھ نہ تو اس کی حالت کو بدلا جاسکتا ہے یعنی وہ پانی ہی رہے گا، اور نہ ہی اس کے اجزاء کو اس سے خارج کیا جاسکتا ہے کیونکہ فلٹریشن سے وہ چیزیں تو خارج ہوجائیں گی جو طبی لحاظ سے پانی کو خراب کردیتی ہیں لیکن اس سے ناپاک پانی کے خارج ہوجانے کی گارنٹی نہیں ہے۔اور سیورج میں صرف ناپاک پانی ہی نہیں ہوتا بلکہ اصل نجس پیشاب اور پاخانہ بھی اس میں شامل ہوتاہے۔لہٰذا جب تک پانی کے اندر نجس اصلی موجود ہے اس وقت تک پانی پاک نہیں ہوسکتا۔ اور پانی کے اندر سے فلٹریشن سے کئی طرح کے ذرات تو خارج کیے جاسکتے ہیں مگر پیشاب وغیرہ کو پانی سے جدا کرنا ناممکن ہے۔
تاریخ: 2025-06-27 | مفتی: ڈاکٹر مفتی مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال