مساجد عبادت گاہیں ہیں، اور انہیں اس مقصد پر خالص ضروری ہے کہ ہر ایسا امر جو مسجد کو اس مقصدمیں آنے والے کو اس مقصد سے دور کرے اسے مسجد سے الگ کرنا ضروری ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ان النبیﷺ قال: لاتقوم الساعۃ حتی یتباھی الناس فی المساجد۔ (1(
ترجمہ: اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر نہ کرنے لگیں۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
یاتی علی الناس زمان یتباھون بالمساجد لایعمرونھا الا قلیلا، اوقال یعمرونھا قلیلا۔(2)
ترجمہ: ایک ایسا زمانہ آئے گا لوگ مساجد پر فخر کریں گے اور اسے آباد کرنے والے بہت کم ہوں گے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
ماامرت بتشیید المساجد قال ابن عباس لتزخرفنھا کما زخرفت الیھود والنصاریٰ۔ (3)
ترجمہ: مجھے مساجد کو بڑی اور مضبوط عمارات بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ تم مساجد کو ایسے آراستہ کروگے جیسے یہودونصاریٰ نے (اپنی عبادت گاہوں کو) آراستہ کیا۔
عن سمرۃ انہ کتب الی ابنہ اما بعد فان رسول اللہﷺ کان یامرنا بالمساجد ان نصنعھا فی دیارنا ونصلح صنعتھا و نطھرھا۔ (4)
ترجمہ: حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو خط لکھا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں مساجد کے بارے حکم دیا ہے کہ ہم اپنے علاقوں میں بنائیں۔اور ان کی تعمیر کو اچھا بنائیں اور پاک رکھیں۔
بدرالدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
نصلح صنعتھا:بان یجعل لھا ما یمیزھا عن غیرھا من البیوت۔ (5)
ترجمہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی عمارت بنائی جائے جس سے مسجد گھروں کی دیگر عمارات سے ممتاز ہوجائے۔
مندرجہ بالا احادیث میں مساجد کی تزئین وآرائش ممنوع نہیں کی گئی بلکہ مساجد کی تعمیر و تزئین پر فخر کرنا ممنوع ومذموم ہے۔ اگر کوئی مسجد کی تعمیر ہی فخر کےلیے کرتا ہے تو وہاں تو خود مسجد کی تعمیر ہی وبال بن جائے گی۔ کہ مسجد کی تعمیر فخرومباہات اور ریاکاری کےلیے نہیں کی جانی چاہیے بلکہ اللہ کی رضا سبب ہو۔ ایسے ہی رسول اللہﷺ نے مساجد کی تزئین وآرائش پر فخرومباہات کرنے پر تنبیہ کردی ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں مسجد نبویﷺ کو منقش پتھروں سے آراستہ کیا، چونا لگایا اور اس کے ستون جوکہ پہلے لکڑی کے تھے منقش پتھروں سے تعمیر کروائے۔ (6)
بدرالدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
استدل اصحابنا: علی ان نقش المسجد وتزیینہ مکروہ، وقول بعض اصحابنا: ولا باس بنقش المسجد۔معناہ: ترکہ اولیٰ، ولایجوز من مال الوقف۔ (7)
ترجمہ: ہمارے اصحاب(حنفیہ) نے اس سے استدلال کیا ہے کہ مسجد کو منقش اور مزین کرنا مکروہ ہے، اور بعض نے کہا ہے: کہ منقش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اس کا مطلب ہے کہ نقش ونگار کو ترک کرنا ہی اولی ہے اور مال وقف سے تو ناجائز ہے۔(یعنی اگر نقش ونگار کیے جائیں تو مال وقف سے نہیں بلکہ ذاتی ملکیت سےہو۔)
لہٰذا واضح ہواکہ مسجد کی زینت وآرائش بنفسہ ممنوع نہیں ہے ۔ اگر اس کے مقاصد میں فخرومباہات آجائے اور نمازی کو نماز سے ہٹاکر اپنی طرف مشغول کردے تو منع ہے ورنہ نہیں۔ تو پینٹ کرنا، پتھر لگانا، شیشہ لگانا اور سیلنگ کرنا سب جائز ہے۔ مگر اس میں خیال رکھا جائے کہ وقف شدہ رقم ان آرائش کے کاموں پر خرچ کرنا جائز نہی ہے۔
یہ وہ بڑی بڑی عمارات کا دور ہے اگر ان عمارات کے درمیان مسجد کی عمارت خستہ، چھوٹی اور غیر آراستہ ہوگی تو اس سے بڑی عمارات والے مساجد میں آنے سے گریز کریں گے۔ اور مساجد کو حقارت سے دیکھاجائے گا لہٰذا تعظیم مسجد کےلیے اور لوگوں کا مسجد کی طرف رجحان بڑھانے کےلیے مساجد کو آراستہ اور مزین کرنا جائز ہے۔اس مسئلہ کی تفصیل کےلیے البحر الرائق (8)، النھر الفائق(9) اور تبیین الحقائق مندرجہ بالحواشی(10) حوالہ سے مطالعہ کریں۔
فتویٰ
کیا مسجد کی زینت و آرائش کرنا جائز ہے؟
شرعی مسائل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ ابوداود، السنن، کتاب الصلوۃ، باب فی بناء المساجد، رقم الحدیث:449
2۔ ابو بکر محمد بن اسحٰق ابن خزیمہ السلمی النیسابوری، تاریخ پیدائش:223ھ، آپ نے بخاری، مسلم، اسحق بن راہویہ، محمد بن عبداللہ بن الحکم کے علاوہ کئی محدثین سے سماع حدیث کیا۔ اور آپ سے روایت کرنے والوں میں آپ کے شیوخ بھی شامل ہیں جن میں بخاری، مسلم اور محمد بن عبداللہ بن الحکم ہیں۔ حفاظت حدیث میں آپ کا جو جذبہ تھا اس کی وضاحت اس واقعہ سے ہے جو آپ ہی بیان فرماتے ہیں: حاکم(نیساپور یا کسی اورریاست کا)اسماعیل بن احمد کے پاس تھا، کہ اس نے اپنے باپ سے حدیث بیان کی، اس کی اسناد میں وہم تھا تو میں نے اس کا رد کردیا۔ جب میں وہاں سے نکلا تو قاضی ابوزر نے مجھے کہا: ہم بھی بیس سال سے اس حدیث میں خطاء دیکھتے آرہے ہیں مگر کسی میں رد کرنےکی طاقت نہیں تھی۔ تو میں نے کہا: "میرے یہ حلال نہیں کہ میں رسول اللہﷺ سے مروی ایسی حدیث سنو جس میں خطاء یا تحریف ہو اور میں اسے رد نہ کروں۔" دارقطنی کہتے ہیں:"ابن خزیمہ معتبر ومعتمد اور بے مثال ہیں" ابن حبان نے کہا:"میں نے کرۂ ارض پر تالیف سنن اور اس کے الفاظ کی حفاظت میں خوبصورتی بنانے میں ابن خزیمہ کے سوا اور کوئی نہیں دیکھا" حافظ ابوعلی الحسین فرماتے ہیں:"ابن خزیمہ حدیث میں سے فقہیات کو ایسے یاد کرتے تھے جیسے قاری سورت کو یاد کرتا ہے"۔ آپ نے عقائد، تفسیر، قرأت، معانی القرآن، حدیث، فقہیات، تذکیر وغیرہ موضوعات پر درجنوں کتب لکھیں۔ تاریخ وفات: 311ھ،الصحیح، کتاب الصلوۃ، باب کراھۃ التباہی فی بناء المساجد، رقم الحدیث:1321
3۔ ابوداود، السنن، کتاب الصلوۃ، باب فی بناء المساجد، رقم الحدیث:448
4۔ ابوداود، السنن، کتاب الصلوۃ، باب فی بناء المساجد، رقم الحدیث:456
5۔ عینی،شرح سنن ابی داود، کتاب الصلوہ، باب فی بناء المساجد، تحت رقم:456
6۔ ابوداود، السنن، کتاب الصلوۃ، باب فی بناء المساجد، رقم الحدیث:451
7۔ عینی،شرح سنن ابی داود، کتاب الصلوہ، باب فی بناء المساجد، تحت رقم:448
8۔ ابن نجیم، البحر، کتاب الصلوۃ، فصل فی بعض احکام المسجد،ج: 2،ص:64
9۔ ابن نجیم،النھر، کتاب الصلوۃ،فصل فی بعض احکام المسجد،ج:1،ص:289
10۔ الزیلعی، تبیین، کتاب الصلوۃ، فصل فی بعض احکام المسجد،ج: 1،ص:168
2۔ ابو بکر محمد بن اسحٰق ابن خزیمہ السلمی النیسابوری، تاریخ پیدائش:223ھ، آپ نے بخاری، مسلم، اسحق بن راہویہ، محمد بن عبداللہ بن الحکم کے علاوہ کئی محدثین سے سماع حدیث کیا۔ اور آپ سے روایت کرنے والوں میں آپ کے شیوخ بھی شامل ہیں جن میں بخاری، مسلم اور محمد بن عبداللہ بن الحکم ہیں۔ حفاظت حدیث میں آپ کا جو جذبہ تھا اس کی وضاحت اس واقعہ سے ہے جو آپ ہی بیان فرماتے ہیں: حاکم(نیساپور یا کسی اورریاست کا)اسماعیل بن احمد کے پاس تھا، کہ اس نے اپنے باپ سے حدیث بیان کی، اس کی اسناد میں وہم تھا تو میں نے اس کا رد کردیا۔ جب میں وہاں سے نکلا تو قاضی ابوزر نے مجھے کہا: ہم بھی بیس سال سے اس حدیث میں خطاء دیکھتے آرہے ہیں مگر کسی میں رد کرنےکی طاقت نہیں تھی۔ تو میں نے کہا: "میرے یہ حلال نہیں کہ میں رسول اللہﷺ سے مروی ایسی حدیث سنو جس میں خطاء یا تحریف ہو اور میں اسے رد نہ کروں۔" دارقطنی کہتے ہیں:"ابن خزیمہ معتبر ومعتمد اور بے مثال ہیں" ابن حبان نے کہا:"میں نے کرۂ ارض پر تالیف سنن اور اس کے الفاظ کی حفاظت میں خوبصورتی بنانے میں ابن خزیمہ کے سوا اور کوئی نہیں دیکھا" حافظ ابوعلی الحسین فرماتے ہیں:"ابن خزیمہ حدیث میں سے فقہیات کو ایسے یاد کرتے تھے جیسے قاری سورت کو یاد کرتا ہے"۔ آپ نے عقائد، تفسیر، قرأت، معانی القرآن، حدیث، فقہیات، تذکیر وغیرہ موضوعات پر درجنوں کتب لکھیں۔ تاریخ وفات: 311ھ،الصحیح، کتاب الصلوۃ، باب کراھۃ التباہی فی بناء المساجد، رقم الحدیث:1321
3۔ ابوداود، السنن، کتاب الصلوۃ، باب فی بناء المساجد، رقم الحدیث:448
4۔ ابوداود، السنن، کتاب الصلوۃ، باب فی بناء المساجد، رقم الحدیث:456
5۔ عینی،شرح سنن ابی داود، کتاب الصلوہ، باب فی بناء المساجد، تحت رقم:456
6۔ ابوداود، السنن، کتاب الصلوۃ، باب فی بناء المساجد، رقم الحدیث:451
7۔ عینی،شرح سنن ابی داود، کتاب الصلوہ، باب فی بناء المساجد، تحت رقم:448
8۔ ابن نجیم، البحر، کتاب الصلوۃ، فصل فی بعض احکام المسجد،ج: 2،ص:64
9۔ ابن نجیم،النھر، کتاب الصلوۃ،فصل فی بعض احکام المسجد،ج:1،ص:289
10۔ الزیلعی، تبیین، کتاب الصلوۃ، فصل فی بعض احکام المسجد،ج: 1،ص:168
اصل سوال
کیا مسجد کی زینت و آرائش کرنا جائز ہے؟