واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا محراب مسجد میں شامل ہے اور اس میں کھڑے ہوکر نماز کی جماعت درست ہے؟

مسجد کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-13 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: مسجد مشاہدات: 24

جواب

بعض حضرات کا موقف یہ ہے کہ محراب مسجد میں شامل نہیں ہوتا۔
اور اسی بنیاد پر کہتے ہیں کہ امام کو قدم محراب سے پیچھے رکھنے چاہییں۔ اس اعتراض کی کوئی بنیاد نہیں ہے سوائے اس کے کہ محراب مسجد کی عمارت سے باہر ہوتا ہے اور اول اسلام میں محراب کا تصور نہیں تھا۔
جہاں تک تعلق اس بات کا ہے کہ محراب مسجد کی عمارت سے باہر ہے اس لیے شامل مسجد نہیں، یہ لائق اعتبار نہیں ہے۔ کیونکہ مسجد کی بنیاد میں محراب شامل ہوتا ہے۔ اور یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے مسجد کا برآمدہ وغیرہ، یا بعض اوقات شہروں میں مسجد کی عمارت ترچھی بھی ہوجایا کرتی ہے۔مثلاً مسجد کی دائیں جانب پہلی صف والا کونہ ایک طرف بڑھا ہوا ہواور آخری صف والا کونہ بائیں طرف بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ ایسی جگہ صف اول کا دائیں جانب آخری شخص اس حالت میں ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے اور کوئی نہیں کیونکہ پیچھے والی صفیں اس کے برابر نہیں اور آخری صف میں بائیں جانب آخری شخص بھی اس جگہ کھڑا کہ اس کے آگے کی تمام صفوں میں کسی صف میں کوئی اور نہیں کھڑا اور نہ اس کے پیچھے کوئی اور ہے۔ یعنی یہ دو کونے وہاں کھڑے ہونے والے شخص کو الگ کردیتے ہیں مگر پھر بھی وہ جماعت کا حصہ ہیں۔ ایسے ہی محراب میں کھڑے ہونا بھی خارج از جماعت نہیں ہوسکتا۔
اور یہ تصور کہ محراب مسجد کا حصہ نہیں ہےبالکل غلط ہے کیونکہ مسجد کی تعمیر کے وقت نہ صرف بنیاد میں شامل ہوتا ہے بلکہ مسجد کی زینت و آرائش کےلیے زیادہ خرچ بھی محراب پر ہی ہوتا ہے۔ محراب کو مسجد کی زینت وآرائش کا مرکز بنانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ محراب نہ صرف شامل مسجد ہے بلکہ مرکز مسجد بھی ہے۔
اور جہاں تک یہ بات کہ قرونِ اولیٰ میں مساجد کی محرابیں نہیں بنائی جاتی تھیں، اس کا جواب یہ ہے کہ اوائل ادوار میں مساجد کے برآمدے، صحن اور ایک کے اوپر دوسری اور تیسری منازل وغیرہ بھی نہیں بنائے جاتے تھے۔ آبادی کی کثرت نے جگہ کی ضرورت بڑھا دی ہے کہ اگر محراب نہیں بنائی جاتی اور پہلی صف میں صرف امام کھڑا ہوتا ہے تو تنگی کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ جس بناء پر امام کےلیے محراب بنا دی جاتی ہے تاکہ صف اول میں زیادہ لوگ کھڑے ہوسکیں اور تنگی کا مسئلہ حل ہوسکے۔
سابقہ مسئلہ میں حضرات صاحبین علیہما الرحمہ سے روایت کیا جاچکا ہے کہ جب امام محمد بغداد اور امام ابویوسف رے آئے تو دونوں نے شہروں میں تنگی دیکھ کر مسجد کے اوپر اور نیچے عمارت، سرنگ یا تہہ خانہ وغیرہ بنانے کی اجازت دے دی۔ اس زمانہ کی آبادی اور آج کی آبادی میں کہاں سے کہاں تک فرق بڑھ گیا ہے، اگر اس وقت تنگی اراضی کی وجہ سے مسجد کے اوپر اور نیچے عمارات کی اجازت دی جاسکتی ہے تو اس دور میں مسجد سے محراب کو باہر نکالنے کی اجازت کیوں نہیں۔
لہٰذا جب یہ واضح ہوگیا کہ محراب مسجد میں ہی داخل ہے خارج از مسجد نہیں تو محراب میں کھڑے ہوکر امامت کرانے میں کوئی مانع نہ رہا۔ اور اصول فقہ کا قاعدہ ہے:
الامور بمقاصدھا۔(۲)
ترجمہ: تمام امور(کے احکام) ان کے مقاصد کے مطابق ہیں۔
لہٰذا جس عمارت کو مسجد متعین کردیا جائے گا وہ مسجد کے احکام میں ہے، چاہے وہ عمارت مربع ہو، مثلث ہو، مسدس ہو، بڑی ہو، چھوٹی ہو، لمبی ہو، چوڑی ہو، محراب کے بغیر ہو یا محراب کے ساتھ کہ جب محراب شامل مسجد کردیا جائے گا تو شامل حکم مسجد بھی ہو جائے گا۔

حوالہ

۱۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الوقف، فصل فی وقف المسجد، ج: 2، ص:622
۲۔ ابن نجیم، الاشباہ، الفن الاول فی القواعد، القاعدۃ الثانیۃ، ص:22

اصل سوال

کیا محراب مسجد میں شامل ہے اور اس میں کھڑے ہوکر نماز کی جماعت درست ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا مسجد کی زینت و آرائش کرنا جائز ہے؟ کیا مسجد کی رقم فنائے مسجد پر خرچ کرنا اور مسجد کے لیے وقف شدہ زمین پر فنائے مسجد تعمیر... مسجد کی عمارت کے لیے مخصوص کی گئی زمین اور مسجد کے اثاثہ کے طور پر دی گئی زمین کے احکام... کیا مسجد میں نمازِ جنازہ یا دیگر ضروری معاشرتی مسائل کے اعلانات کرنا جائز ہے؟ کیا مسجد کی تعمیر اور اس کے اخراجات کے لیے چندہ وصول کرنا جائز ہے؟