واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا ایسے دینی کیلنڈر کو مسجد میں لٹکانا جائز ہے جس پر کاروباری اشتہارات بھی درج ہوں؟

مسجد کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-13 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: مسجد مشاہدات: 22

جواب

اوقاتِ نماز یا آیاتِ قرآنیہ و حدیثیہ کے کیلنڈر جو مساجد میں لگائے جاتے ہیں کیلنڈر شائع کرنے والا ان پر اپنا اشتہار بھی شائع کرتا ہے۔ اس طرح سے مسجد میں جب کیلنڈر لٹکایا جاتا ہے تو اوقاتِ نماز کی تعیین اور قرآن و حدیث کی تبلیغ کے ساتھ کاروبار کی اشاعت بھی ہورہی ہوتی ہے جوکہ مساجد میں جائز نہیں۔ کیونکہ مساجد میں دنیاوی اعلانات سے منع کیا گیا ہے۔مگر ان کیلنڈرز میں اصل اعلان نہیں ہوتا بلکہ اصل اوقات کی تعیین یا قرآن و حدیث کی تبلیغ مقصد ہوتا ہے اور اعلانات و اشتہارات اس کے تابع ہوتے ہیں۔ جواز و عدم جواز کےلئے اصل کا اعتبار ہوتا ہے نہ کہ تابع کا جیسے اذان جمعہ کے بعد بیع کرنا ناجائز ہے لیکن اگر کوئی شخص گھر سے نماز جمعہ کےلئے چلتا ہے اور ساتھ ہی کچھ سامان لے لیتا ہے جس کی راستے میں بیع کردیتا ہے تو اب یہ بیع جائز ہے۔ کیونکہ یہ سعی اس نے بیع کےلئے نہیں کیا بلکہ جمعہ کےلئے کی ہے اور تبعاً اسی سفر میں بیع بھی کرلی تو وہ جائز ہوگیا۔ اسی طرح سے مساجد میں کیلنڈر لٹکانے کا مقصد اوقات کا علم ہونا اور لوگوں کو قرآن و حدیث کے پیغامات پہنچانا ہوتا ہے تبعاً اعلانات و اشتہارات شائع کردئیے جاتے ہیں اس لیے ایسے کیلنڈر مساجد میں آویزاں کرنا جائز ہے۔
لیکن اگر ایسا ہو کہ کاروبار کی اشاعت والے کیلنڈر پر اگر کوئی آیت، حدیث یا اوقات نماز کا نقشہ بھی پرنٹ کردیا تو جائز نہیں ہوگا۔ کیونکہ اب اصل کاروبار کی اشاعت ٹھہرا۔ جو کہ مسجد میں ناجائز ہے۔ اورقاعدہ فقہیہ ہے:
التابع تابع۔
ترجمہ: تابع کا حکم تابع والا ہی ہے۔(۱)
یعنی تابع کو اصل بنانا جائز نہیں ہے۔ جبکہ تابع متبوع(اصل) کے حکم میں شامل ہے۔

حوالہ

۱ ۔ ابن نجیم، الاشباہ، الفن الاول فی القواعد، القاعدۃ الرابعۃ، ص:133

اصل سوال

کیا ایسے دینی کیلنڈر کو مسجد میں لٹکانا جائز ہے جس پر کاروباری اشتہارات بھی درج ہوں؟

مزید فتاویٰ جات

کیا مسجد کی زینت و آرائش کرنا جائز ہے؟ کیا مسجد کی رقم فنائے مسجد پر خرچ کرنا اور مسجد کے لیے وقف شدہ زمین پر فنائے مسجد تعمیر... مسجد کی عمارت کے لیے مخصوص کی گئی زمین اور مسجد کے اثاثہ کے طور پر دی گئی زمین کے احکام... کیا مسجد میں نمازِ جنازہ یا دیگر ضروری معاشرتی مسائل کے اعلانات کرنا جائز ہے؟ کیا محراب مسجد میں شامل ہے اور اس میں کھڑے ہوکر نماز کی جماعت درست ہے؟