مسجد خالصۃً عبادت کا مرکز ہے، لہٰذا مسجد میں اعلانات سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ان رسول اللہﷺ نھی عن الشراء والبیع فی المسجد وان تنشد فیہ ضالۃ وان ینشد فیہ شعر ونھی عن التحلق قبل الصلوۃ یوم الجمعۃ۔ (۱)
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے مسجد میں خریدوفروخت کرنے، گم ہوئی چیز کا اعلان کرنے، شعر کہنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے گروہ بناکر بیٹھنے سے منع فرمایا۔
اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ان رسول اللہﷺ قال: اذا رأیتم من یبیع اویبتاع فی المسجد فقولوا: لااربح اللہ تجارتک، واذا رأیتم من ینشد فیہ ضلالۃ فقولوا: لا رد اللہ علیک۔ (۲)
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ جب تم مسجد میں کسی کو خریدوفروخت کرتے دیکھو تو کہو: اللہ تجھے نفع نہ دے۔ اور جب کسی کو گم شدہ چیز کا اعلان مسجد میں کرتے دیکھو تو کہو: اللہ (تیری چیز) تجھے نہ لوٹائے۔
ان احادیث میں رسول اللہﷺ نے تجارت اور گم شدہ کے اعلان سے منع فرمایا ہے۔ مُطلقاً ہر اعلان سے منع نہیں فرمایا۔ اور مسجد نبویﷺ میں رسول اللہﷺ اعلان جہاد بھی فرمایا کرتے اور مال غنیمت کی تقسیم بھی مسجد میں ہوتی الغرض جو کام قومی، اجتماعی، اور مذہبی نوعیت کے ہیں ان کو مسجد میں ادا کرنا اور ان کا اعلان جائز ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اتی النبیﷺ بمال من البحرین، فقال انثروہ فی المسجد۔ (۳)
ترجمہ: رسول اللہﷺ کے پاس بحرین سے مال آیا تو آپﷺ نے فرمایا: اسے مسجد میں بکھیر دو۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
آذن النبیﷺ بالرحیل۔۔۔قال فانطلقت الی النبیﷺ فاذا ھو جالس فی المسجد۔ (۴)
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے غزوہ تبوک کےلیے سفر کرنے کا اعلان فرمایا، اور میں رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کےلیے چلا تو دیکھا آپﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے۔
رسول اللہﷺ نے مسجد میں بیٹھ کر اعلان جہاد فرمایا اور ایسے کثیر واقعات موجود ہیں۔ کہ دینی، اجتماعی، اورمعاشرتی مسائل سے متعلق مسجد میں اعلان بھی کروائے جاتے اور ان کےلیے آگے کارروائی بھی کی جاتی تھی۔ لہٰذا مسجد میں مذہبی، اجتماعی، اور معاشرتی اعلانات جائز ہیں مثلاً جنازہ کا اعلان، درس قرآن یا کسی بھی مجلس دینیہ کا اعلان، یا بعض اوقات بجلی کی بندش کے متعلق اعلان کرایا جاتا ہے۔ تو یہ ضرورتاً جائز ہیں جس کی اصل سنت نبویہﷺ سے ثابت ہے۔
فتویٰ
کیا مسجد میں نمازِ جنازہ یا دیگر ضروری معاشرتی مسائل کے اعلانات کرنا جائز ہے؟
مسجد کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
۱۔ ابوداود، السنن، کتاب الصلوۃ، باب التحلق یوم الجمعۃ قبل الصلوۃ، رقم الحدیث: 1079
۲۔ ترمذی، السنن، کتاب البیوع، باب النھی عن البیع فی المسجد، رقم :1370
۳۔ بخاری، الصحیح، باب القسمۃ وتعلیم القنوفی المسجد، رقم الحدیث:421
۴۔ ترمذی، السنن، کتاب تفسیر القرآن،تفسیر سورۃ توبۃ، رقم الحدیث:3385
۲۔ ترمذی، السنن، کتاب البیوع، باب النھی عن البیع فی المسجد، رقم :1370
۳۔ بخاری، الصحیح، باب القسمۃ وتعلیم القنوفی المسجد، رقم الحدیث:421
۴۔ ترمذی، السنن، کتاب تفسیر القرآن،تفسیر سورۃ توبۃ، رقم الحدیث:3385
اصل سوال
کیا مسجد میں نمازِ جنازہ یا دیگر ضروری معاشرتی مسائل کے اعلانات کرنا جائز ہے؟