واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا مسجد کی رقم فنائے مسجد پر خرچ کرنا اور مسجد کے لیے وقف شدہ زمین پر فنائے مسجد تعمیر کرنا جائز ہے؟

مسجد کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-13 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: مسجد مشاہدات: 27

جواب

حجرہ امام و مؤذن، وضوخانہ، واش رومز اور دیگر ضروریات مسجد کی تعمیر مسجد کےلئے وقف شدہ زمین اور مسجد کے لئے مقرر کردہ رقم سے کی جاتی ہے۔ جبکہ مسجد کی چیزوں کو غیر مسجد کےلئے استعمال کرنا جائز نہیں ہے کہ مسجد کےلئے وقف زمین یا مسجد کے پیسوں کو کسی بھی اور استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔ مذکورہ بالا تعمیرات حالات حاضرہ میں مسجد کی زمین پر اور مسجد کی جمع شدہ رقم سے کی جاتی ہیں۔ یہ تعمیرات عدم جواز کی صورتوں میں شامل نہیں کی جائیں گی کیونکہ یہ مسجد کی ضروریات اور ملحقات میں سے ہیں یعنی ان کا استعمال مسجد کے استعمال سے ملحق ہے اس لیے ان کی تعمیر مسجد کی زمین اور پیسے سے کی جاسکتی ہے۔

اصل سوال

کیا مسجد کی رقم فنائے مسجد پر خرچ کرنا اور مسجد کے لیے وقف شدہ زمین پر فنائے مسجد تعمیر کرنا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا مسجد کی زینت و آرائش کرنا جائز ہے؟ مسجد کی عمارت کے لیے مخصوص کی گئی زمین اور مسجد کے اثاثہ کے طور پر دی گئی زمین کے احکام... کیا مسجد میں نمازِ جنازہ یا دیگر ضروری معاشرتی مسائل کے اعلانات کرنا جائز ہے؟ کیا محراب مسجد میں شامل ہے اور اس میں کھڑے ہوکر نماز کی جماعت درست ہے؟ کیا مسجد کی تعمیر اور اس کے اخراجات کے لیے چندہ وصول کرنا جائز ہے؟