مسجد ایک مخصوص مذہبی ادارہ ہے، جس پر کسی فرد کی اجارہ داری نہیں ہوتی، بلکہ یہ اجتماعی مرکز ہے۔ جوکہ افراد عامہ کی ضروریات دینیہ کو پورا کرنے کا سنٹر ہے۔ اس لیے مفادات عامہ کےلیے لوگوں سے فنڈنگ کرنا درست ہے۔ اگر تو لوگ بذاتِ خود ہی تعاون کرتے ہیں اس میں تو بالکل ہی کوئی حرج نہیں اور یہی وقف کہلاتا ہے کہ کوئی اپنی ملکیت کو کسی دینی مقصد کےلیےدے دے۔ لیکن اگر چندہ مانگ کر اکٹھا کیا جائے تو اس میں بھی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ یہ کسی کی ذاتی ضرورت کےلیے نہیں بلکہ مفاد عامہ کےلیے ہے۔ مگر اس حوالہ سے اس بات کا لحاظ کیاجائے کہ فنڈنگ کےلیے ایسے انداز نہ اپنائے جائیں جنہیں دیکھ کر لوگ مسجد سے دور جائیں اور اپنی اولاد کو مسجد کے خادم بنانےسے بچیں۔ بلکہ ایسا انداز اختیار کیا جائے کہ لوگ خود چل کر تعاون بھی کریں اور اس کام کو باعزت بھی سمجھیں کہاگر کوئی اپنی اولاد کو دین کےلیے وقف کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتو اس کا دل تنگ نہ ہو اور نہ ہی وہ نفرت کرے۔کیونکہ اس میں دین کی عزت، وقار اور ہیبت ہے۔ کہ اگر دین اپنوں کی نظر میں باعزت نہ رہے تو دشمن کے سامنے تو دین کی ہیبت کوسوں دور ہے۔
مسجد کےلیے چندہ وصول کرتے ہوئے لوگوں کو ترغیب دینا تو خود رسول مکرمﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔کہ رسول اللہﷺ نے مختلف مقاصد دینیہ خصوصاً جہاد کےلیے کئی بار لوگوں کو فنڈنگ کی ترغیب دی۔ مگر اس ترغیب میں دینی وجاہت کا لحاظ رکھا جائے۔
فتویٰ
کیا مسجد کی تعمیر اور اس کے اخراجات کے لیے چندہ وصول کرنا جائز ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
اصل سوال
کیا مسجد کی تعمیر اور اس کے اخراجات کے لیے چندہ وصول کرنا جائز ہے؟