واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا مسجد کی تعمیر اور اس کے اخراجات کے لیے چندہ وصول کرنا جائز ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-13 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: مسجد مشاہدات: 24

جواب

مسجد ایک مخصوص مذہبی ادارہ ہے، جس پر کسی فرد کی اجارہ داری نہیں ہوتی، بلکہ یہ اجتماعی مرکز ہے۔ جوکہ افراد عامہ کی ضروریات دینیہ کو پورا کرنے کا سنٹر ہے۔ اس لیے مفادات عامہ کےلیے لوگوں سے فنڈنگ کرنا درست ہے۔ اگر تو لوگ بذاتِ خود ہی تعاون کرتے ہیں اس میں تو بالکل ہی کوئی حرج نہیں اور یہی وقف کہلاتا ہے کہ کوئی اپنی ملکیت کو کسی دینی مقصد کےلیےدے دے۔ لیکن اگر چندہ مانگ کر اکٹھا کیا جائے تو اس میں بھی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ یہ کسی کی ذاتی ضرورت کےلیے نہیں بلکہ مفاد عامہ کےلیے ہے۔ مگر اس حوالہ سے اس بات کا لحاظ کیاجائے کہ فنڈنگ کےلیے ایسے انداز نہ اپنائے جائیں جنہیں دیکھ کر لوگ مسجد سے دور جائیں اور اپنی اولاد کو مسجد کے خادم بنانےسے بچیں۔ بلکہ ایسا انداز اختیار کیا جائے کہ لوگ خود چل کر تعاون بھی کریں اور اس کام کو باعزت بھی سمجھیں کہاگر کوئی اپنی اولاد کو دین کےلیے وقف کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتو اس کا دل تنگ نہ ہو اور نہ ہی وہ نفرت کرے۔کیونکہ اس میں دین کی عزت، وقار اور ہیبت ہے۔ کہ اگر دین اپنوں کی نظر میں باعزت نہ رہے تو دشمن کے سامنے تو دین کی ہیبت کوسوں دور ہے۔
مسجد کےلیے چندہ وصول کرتے ہوئے لوگوں کو ترغیب دینا تو خود رسول مکرمﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔کہ رسول اللہﷺ نے مختلف مقاصد دینیہ خصوصاً جہاد کےلیے کئی بار لوگوں کو فنڈنگ کی ترغیب دی۔ مگر اس ترغیب میں دینی وجاہت کا لحاظ رکھا جائے۔

اصل سوال

کیا مسجد کی تعمیر اور اس کے اخراجات کے لیے چندہ وصول کرنا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا مسجد کی زینت و آرائش کرنا جائز ہے؟ کیا مسجد کی رقم فنائے مسجد پر خرچ کرنا اور مسجد کے لیے وقف شدہ زمین پر فنائے مسجد تعمیر... مسجد کی عمارت کے لیے مخصوص کی گئی زمین اور مسجد کے اثاثہ کے طور پر دی گئی زمین کے احکام... کیا مسجد میں نمازِ جنازہ یا دیگر ضروری معاشرتی مسائل کے اعلانات کرنا جائز ہے؟ کیا محراب مسجد میں شامل ہے اور اس میں کھڑے ہوکر نماز کی جماعت درست ہے؟