← واپس
سوال
سیوریج کا پانی نہر کے پانی میں ڈالنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
نہروں وغیرہ میں سیوریج کا پانی شامل کیا جاتاہے اس پانی کی مندرجہ ذیل
صورتیں ہیں کہ جس پانی میں یہ پانی شامل کیا جاتا ہے وہ پانی نہروں کی شکل میں جاری ہوتا ہے اور جاری پانی میں نجاست کے گر جانے کا حکم یہ ہے کہ جہاں سے نجاست شامل ہو رہی ہو اس سے پیچھے والا پانی تو ہر حال میں ہی طاہر و مطہر ہوگا کیونکہ نجاست پانی کے ساتھ بہہ کر دوسری جانب جارہی ہے اور جس جانب پانی سفر کر رہا ہو اس جانب جب اوصاف ثلثہ میں سے ایک وصف بدل جائے گا تو اس صورت میں پانی ناپاک ہو جائے گا۔ صاحب ہدایہ نے وضاحت فرمائی ہے:
والماء الجاری اذا وقعت فیہ نجاسۃ جاز الوضوء بہ اذا لم یر لھا اثر لانھا لا تستقر مع جریان الماء و الاثر ھو الطعم او الرائحۃ او اللون۔
ترجمہ: اور جب ماء جاری میں نجاست گر جائے تو اس سے وضو جائز ہوگا جب تک کہ اس نجاست کا اثر نہ دیکھا جائے کیونکہ نجاست پانی کے جاری رہنے کی وجہ سے باقی نہیں رہتی اور اثر سے مراد(اوصاف ثلاثہ کہ) ذائقہ، بو یا رنگ (میں سے کوئی ایک چیز بدل جائے)۔
اورحضور نبی کریمﷺ نے فرمایا:
ان الماء لا ینجسہ شئ الا ما غلب علی ریحہ و طعمہ ولونہ ۔
حوالہ(ابو عبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ القزوینی، تاریخ پیدائش: 209ھ، آپ نے علم حدیث کے حصول کےلیے مکہ، مدینہ، عراق، بصرہ، کوفہ، مصر، شام، رے،خراسان کے علاوہ تمام علمی مراکز کی طرف سفر کیے۔ حدیث میں اجلہ ائمہ ستہ میں آپ کا شمار چھٹے نمبر پر کیا جاتاہے کہ جن کی کتب صحاح ستہ یعنی صحت حدیث میں بلند رتبہ رکھتی ہیں۔ علامہ ذہبی نے آپ کو مفسر، محدث اور مؤرخ کہا ہے۔ آپ نے ان علوم میں کتابیں بھی تحریر کی ہیں ۔ سنن ابن ماجہ کی تشریحات، تعلیقات، تخریجات اور معرفت رجال پر علامہ ذہبی، امام سیوطی، حافظ مغلطائی حنفی، ابن رجب حنبلی، ابن ملقن، الدمیری، شہاب البوصیری، ابن العجمی کے علاوہ کثیر علماء نے کتب تحریر کی ہیں۔تاریخ وفات:22رمضان 273ھ پیر کے دن وصال فرمایا۔السنن ، ابواب الطہارۃ ، باب الحیاض ، رقم الحدیث : 519)
ترجمہ: پانی پاک ہے اسے کوئی بھی چیز نجس نہیں کرتی سوائے اس کے کہ کوئی چیز اس کا رنگ یا ذائقہ یا بو بدل دے۔
لہٰذا نہروں میں جو سیوریج کا پانی شامل کیا جاتا ہے جب تک نہر کے پانی کا ذائقہ، رنگ اور بو تینوں چیزیں اپنی اصل پر باقی رہیں اور اس ناپاک پانی کے ان تین اوصاف میں سے کوئی بھی وصف ظاہر نہ ہو تو اس وقت تک اس سے طہارت بھی حاصل کی جاسکتی ہے اور پانی کا استعمال کرنا جائز ہو گا۔جب ان تین اوصاف میں سے کوئی ایک وصف بدل گیا تو اس وقت وہ پانی ناپاک شمار کیا جائے گا۔
تاریخ: 2025-06-27 | مفتی: ڈاکٹر مفتی مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال