← واپس
سوال
سیوریج کے پانی کا کیا حکم ہے؟
جواب
سیوریج کا پانی نجاست غلیظہ ہے کیونکہ اس میں انسانی فضلات (پیشاب و پاخانہ)شامل ہوتے ہیں۔ اور انسانی فضلات نجاست غلیظہ ہیں فتاوی تاتارخانیہ میں درج ہے:
قال القدوری فی کتابہ: کل یخرج من بدن الانسان مما یوجب الوضوء والغسل فھو نجس کالغائط والبول والدم والمنی۔
ترجمہ: امام قدوری فرماتے ہیں: کہ ہر وہ چیز جو انسان کے بدن سے نکلے جس سے وضو اور غسل واجب ہوتا ہو وہ نجاست(غلیظہ) جیسے بول و براز ، خون اور منی۔
اس عبارت میں فرید الدین صاحب فتاویٰ تاتارخانیہ نے انسان کے جسم سے نکلنے والی اشیاء کو صرف نجس کہا جبکہ اس کے خفیفہ یا غلیظہ ہونے کا ذکر نہیں کیا مگر ترجمہ کرتے ہوئے میں نے نجاست غلیظہ لکھا ہے۔ کیونکہ صاحب فتاویٰ نے امام قدوری کا حوالہ دیا ہے اور امام قدوری مندرجہ ذیل عبارت میں ان اشیاء کو نجاست غلیظہ قرار دیتے ہیں:
و من اصابتہ من النجاسۃ المغلطۃ کالدم والبول والغائط والخمر۔
ترجمہ: اور جسے نجاست غلیظہ پہنچ جائے جیسے (آدمی کا)بول و براز، خون اور
شراب(نجاست غلیظہ ہیں)۔
صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
و قدر الدرھم و ما دونہ من النجس المغلظ کالدم والبول۔
ترجمہ: نجاست مغلظہ جیسے خون اور انسان کا پیشاب درھم کی مقدار یا اس سے کم(لگے تو نماز نہیں ہے)۔
امام قدوری اور صاحب ہدایہ نے انسان کے بول و براز کو نجاست غلیظہ میں شامل کیا ہے۔لہٰذا جو نجاست پانی میں شامل ہوگی پانی بھی اسی نجاست کے حکم میں شامل ہو جائے گا کہ اگر نجاست خفیفہ شامل ہے تو پانی بھی نجاست خفیفہ ہوگا اور اگر غلیظہ نجاست شامل ہو گئی تو پانی بھی غلیظہ کے حکم میں آجائے گا۔ اس وقت سیوریج کے پانی پر نجاست اس حد تک غالب ہوتی ہے کہ پانی کے تقریباً تینوں اوصاف بدل چکے ہوتے ہیں لہٰذا اس پانی کے نجاست غلیظہ ہونے میں کسی طرح کا بھی شائبہ باقی نہیں رہتا۔مزید اس مسئلہ کی وضاحت کےلیے اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب کو دیکھیں۔
تاریخ: 2025-06-27 | مفتی: ڈاکٹر مفتی مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال