کیاگرم کیے ہوئے پانی سے طہارت جائزہے؟ - دارالافتاء جامعہ فریدیہ ساہیوال
← واپس

سوال

کیاگرم کیے ہوئے پانی سے طہارت جائزہے؟

جواب

طہارت حاصل کرنے کےلئے پانی کا طاہر(پاک) اور مطہر(پاک کرنے والا) ہونا ضروری ہے اور آگ پر پانی کو گرم کرنے سے پانی طاہر بھی رہتا ہے اور مطہر بھی۔ کیونکہ آگ پر گرم کرنے سے اس کا طہارت سے خارج ہونا تو کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوتا اور مطہر ہونے سے جو چیزیں مانع ہیں ان میں سے کوئی بھی پائی نہیں جاتی یعنی اوصاف ثلاثہ میں سے کسی ایک کا تبدیل ہوجانا جب تک کہ اتنا گرم نہ ہو کہ متغیر ہوجائےیا پانی کا سیلانی سے رک جانا۔ لہٰذا پانی گرم ہونے کے بعد بدستور طاہر اور مطہر رہا اس لیےگرم پانی سے طہارت حاصل کرنا کلیۃًاور بالاتفاق جائز ہے۔
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت بیان کی کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا:کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا لازم ہے تو سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے:کیا ہمیں گرم پانی استعمال کرنے کے بعد بھی وضو کرنا پڑے گا؟ تو سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے بھتیجے جب رسول اللہﷺ کی حدیث سنے تو مثالیں بیان نہ کیا کر۔
اس روایت میں سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا گرم پانی کے متعلق سوال کرنا استفہام انکاری ہے کہ گرم پانی کا استعمال ناقضِ طہارت نہیں بلکہ بدستور آلہ طہارت رہے گا۔
اورصاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
وان تغیر بالطبخ بعد ما خلط بہ غیرہ لایجوز التوضی بہ۔
ترجمہ: اگر کچھ ملے ہونے کے بعد پانی کی حالت متغیر ہوگئی تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا۔
صاحب ہدایہ کی یہ عبارت اس مسئلہ میں صریح ہے کہ پانی کسی اور چیز کی ملاوٹ کے بغیر جتنا بھی گرم ہوجائے گا مطہّر رہے گا۔ کہ اس سے وضو و غسل جائز رہے گا۔ بدرالدین عینی علیہ الرحمہ نے بھی ہدایہ کی اس عبارت کی شرح کرتے ہوئے البنایہ میں اسی عبارت کی تشریح میں ذکرکیا گیا ہے:
لانہ اذا طبخ بہ وحدہ و تغیر یجوز الوضوء بہ۔
ترجمہ: اس لیے اگر اکیلے پانی کو گرم کیا گیا اور اس کی حالت متغیر ہوگئی تو
اس سے وضو جائز ہے۔
اس مسئلہ کی وضاحت کا البحر الرائق شرح الکنز الدقائق اور المحیط البرہانی سے حاشیہ میں دیے حوالہ سے تفصیلاً مطالعہ کریں۔
تاریخ: 2025-06-27 | مفتی: ڈاکٹر مفتی مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال
WhatsApp پر شیئر کریں Facebook پر شیئر کریں