مدت سفر کہ جس پر قصر واجب ہوجائے علماء نے تین دن اور رات کا سفر بیان کیا ہے۔ اور پھر زمانے بدلنے کے ساتھ نئے پیمانے وجود میں آنے لگے تو علماء نے بھی اس سفر کی مقدار کو واضح کرنے کےلیے جدید پیمانوں کا سہارا لیا۔ لہٰذا علماء نے اس سفر کو فراسخ میں بیان کیا جن میں سے رد المحتار کی عبارت درج کرتے ہیں:
قیل یقدر باحد وعشرین فرسخا، وقیل بثمانیۃ عشر، وقیل بخمسۃ عشر۔ (1)
ترجمہ: بعض کی طرف سے کہا گیا کہ(تین دن اور رات کے سفر کی)مقدار اکیس فرسخ ہے، اور بعض کی طرف سے اٹھارہ، اور بعض کی طرف سے پندرہ فرسخ کہا گیا۔
ان تین مقداروں میں سے علماء نے اٹھارہ فرسخ والی مقدار پر فتویٰ جاری کیا ہے۔علامہ عینی فرماتے ہیں:
وقیل ثمانیۃ عشر فرسخا، قال المرغینانی: وعلیہ الفتویٰ۔ (2(
ترجمہ: اور کہا گیا ہے کہ اٹھارہ فرسخ مقدار ہے، اورمرغینانی نے کہا: اسی پر فتویٰ ہے۔
ابن نجیم نے نہایہ کے حوالہ سے یہی روایت کیا ہے۔ (3) پھر فرسخ کی مقدار بیان کرتے ہیں:
الفرسخ: ثلاثۃ امیال، والمیل: اربعۃ آلاف ذراع۔ (4)
ترجمہ: فرسخ تین میل(شرعی) کا ہے، اور میل چار ہزار ہاتھ(انگلیوں سے کہنیوں تک ہاتھ) کا ہے۔
اٹھارہ فراسخ کے چون شرعی میل بنے، چون شرعی میل کو چار ہزار سے ضرب دی تو216000ذراع بنے، ایک ذراع کی مقدار اٹھارہ انچ ہے۔ انگلیوں سے کہنیوں تک درمیانہ قد والے شخص کا ہاتھ اٹھارہ انچ ہے۔ اورعلامہ عینی فرماتےہیں:
ذراع العامۃ و ذلک اربع وعشرون اصبعا بعدد حروف لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ۔ (5)
ترجمہ: عام ذراع کی مقدار چوبیس انگلیوں کے برابر ہے کہ جو تعداد لا الہ الا اللہ، محمدرسول اللہ کے حروف کی ہے۔
اور چوبیس انگلیوں کی مقدار اٹھارہ انچ کے برابر ہے۔ چھتیس انچ کا ایک گز ہے تو اس طرح دو ذراع کا ایک گز ہوا اور 216000ذراع کے 108000گز ہوئے۔ جبکہ میٹر 1000=914.4گز ، اس کے بعد 108000گز کی مقدار کو 1000گز کی مقدار پر تقسیم کریں اور 914.4میٹر کی مقدار سے ضرب دے دیں تو98775.2میٹر ثابت ہوئے۔ 1000میٹر کا ایک کلو میٹر ہے، لہٰذا 98775.2کو 1000پر تقسیم کیا تو اس سے 98.7552کلومیٹر کی مقدار ثابت ہوگئی یعنی 98کلومیٹر، 750میٹر اور تقریباً پونے انیس انچ۔
اس وضاحت کے مطابق تقریباً پونے ننانوے کلومیٹر پر نماز کی قصر واجب ہوگی۔
ضروری وضاحت:
بعض اوقات لوگ بخیالِ احتیاط اس مقدار کو بڑھادیتے ہیں۔ یعنی کہیں گے کہ احتیاطاً سو پورے کرلیتے ہیں یا اس سے زیادہ کرلیتے ہیں۔ ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ احتیاط دونوں طرف چاہیے کہ اگر چار فرض ہیں تو چار کو درست طریقہ پر پڑھا جائے اور اگر دو فرض ہیں تو دو کو درست طریقہ پر پڑھنا لازم ہے۔ یعنی احتیاط چار میں چار کی کرنی ہے اور دو میں دو کی کرنی ہے۔ اگر شرعی مقدار سے کچھ کم کردیا جائے تو اس سے یہ خرابی ہوگی کہ جہاں قصر بنتی نہیں تھی وہاں قصر کردی تو نماز نہیں ہوگی۔ اور اگر بڑھا دیا تو جہاں قصر تھی وہاں پوری پڑھے گا، تو اب نماز باطل بھی ہوسکتی ہے اور ناقص بھی۔ یعنی اگر دو فرض تھے اگر اسے چار اس طرح پڑھتا ہے کہ دو کے بعد قعدہ کرتا ہے تو دو فرض بھی ہوجائیں گے اور آخری دو نفل مگر درست نہیں، کیونکہ درست یہ ہے کہ فرض کو دو ہی پڑھا جائے، لہٰذا نقص وارد ہوگیا۔ اور اگر چار اس طرح پڑھ لیتا ہے کہ دو کے بعد قعدہ بھی نہیں کرتا تو فرض ویسے ہی باطل ہوجائیں گے۔
یہ مقدار جو مقرر کی گئی ہے، شرعی اصولوں پر ہے، احادیث اور فقہاء کی عبارات سے تعین کیا گیا ہے۔ اوراس پر اعتماد کیا جائے گا اور شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ایسے ہی اگر کوئی فقیہ اور مقدار متعین کرتا ہے تو جو ان پر اعتماد کرتا ہے وہ انہیں پر ہی اعتماد کرے، اس کےلیے وہاں شک کی گنجائش نہیں۔
فتویٰ
کیا 98.75 (پونے ننانوے) کلومیٹر سفر کرنے والے شخص کے لیے نمازِ قصر کرنا لازم ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ شامی، الرد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 2،ص:602
ابن الھمام، فتح القدیر، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 2،ص:69
عینی، البنایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 3،ص:4
2۔ عینی، البنایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 3،ص:4
شامی، الرد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 2،ص:602
ابن نجیم، النھر، کتاب الصلوۃ، صلوۃ المسافر،ج:1،ص:345
ابن مازۃ، المحیط، کتاب الصلوۃ، فی صلوۃ المسافر، ج: 2،ص:385
آفندی، مجمع الانھر، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 1،ص:239
3۔ ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج:2،ص:228
4۔ شامی، الرد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 2،ص:602
5۔ عینی، البنایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 3،ص:
ابن الھمام، فتح القدیر، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 2،ص:69
عینی، البنایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 3،ص:4
2۔ عینی، البنایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 3،ص:4
شامی، الرد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 2،ص:602
ابن نجیم، النھر، کتاب الصلوۃ، صلوۃ المسافر،ج:1،ص:345
ابن مازۃ، المحیط، کتاب الصلوۃ، فی صلوۃ المسافر، ج: 2،ص:385
آفندی، مجمع الانھر، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 1،ص:239
3۔ ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج:2،ص:228
4۔ شامی، الرد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 2،ص:602
5۔ عینی، البنایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: 3،ص:
اصل سوال
کیا 98.75 (پونے ننانوے) کلومیٹر سفر کرنے والے شخص کے لیے نمازِ قصر کرنا لازم ہے؟