جب قبلہ سامنے نہ بلکہ مصلّی قبلہ سے غائب ہو تو تعیّن ِقبلہ میں سب سے اول عادتِ جاریہ کا اعتبار کیا جاتا ہے پھر دوسرے نمبر پر تحرّی کو معتبر جانا گیا ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں جہتِ قبلہ کی طرف منہ کرلینا ہی کافی ہے۔بدائع الصنائع میں درج ہے:
وان کان غائبا عنھا یجب علیہ التوجہ الی جہتھا۔(1)
ترجمہ: اور اگر کوئی شخص قبلہ سے غائب ہو تو اس پر جہتِ قبلہ کی طرف متوجہ ہونا لازم ہے۔
’’قبلہ نما‘‘ کا استعمال اگر جہتِ قبلہ کے تعیّن کےبعد خاص قبلہ کے تعیّن کےلئے ہو جیسا کہ ہمارے ہاں مساجد کی تعمیر کےلئے لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں کہ جہتِ قبلہ تو پہلے سے ہی جانتے ہوتے ہیں تو یہ کلیۃً جائز ہے کیونکہ جہتِ قبلہ متعیّن ہے جو لازمی ہے اور اگر مزید تعیّن ہوجائے تو بہتر ہے ورنہ لازم نہیں۔اور اگر جہتِ قبلہ کا تعیّن ہی نہ تو تحرّی لازمی ہے تو قبلہ نما کے ذریعہ سے تحرّی کاہی عمل کیا جاتا ہے کہ تحرّی نام ہی اس چیز کا ہے کہ کسی ذریعہ سے قبلہ کی درست جہت کا علم ہوجائے کہ جس پر غلبۂ ظن ہو کیونکہ تحرّی میں اصل اعتبار غلبۂ ظن کا ہی ہے۔ صاحب ِ ہدایہ کا بیان ہے:
لان غالب الرائ بمنزلۃ الیقین۔ (2)
ترجمہ: کہ غالب رائے یقین کے قائم مقام ہے۔
لہٰذا ’’قبلہ نما‘‘ سمتِ قبلہ کی تعیین کا ایک آلہ ہےجس کے ذریعہ سے تعیّن کرنے میں آسانی اور درستگی قریب تر ہے۔
فتویٰ
کیا قبلہ کے تعین کے لیے قبلہ نما (Qibla Compass) پر اعتماد کرنا جائز ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ الکاسانی، البدائع الصنائع، کتاب الصلوۃ، باب شروطھا،ج:1 ، ص:118
2۔ شامی،رد المحتار،کتاب الصلوۃ،یشترط العلم بدخول الوقت،ج:1،ص:29
2۔ شامی،رد المحتار،کتاب الصلوۃ،یشترط العلم بدخول الوقت،ج:1،ص:29
اصل سوال
کیا قبلہ کے تعین کے لیے قبلہ نما (Qibla Compass) پر اعتماد کرنا جائز ہے؟