واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 1

جواب

عَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ ھُلْبٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَؤُمُّنَا فَیَأْخُذُ شِمَالَہٗ بِیَمِیْنِہٖ۔ (1)
حضرت قَبِیصہ بن ھُلب روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ ہماری امامت فرماتے اور بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔

حوالہ

1 ۔ ترمذی ، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی وضع الیمین علی الشمال ، رقم : 234

اصل سوال

کیا نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا رکوع و سجود میں جاتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا سنت ہے؟ کیا سورۂ فاتحہ کے بعد کسی دوسری سورت کی قراءت کرنا ضروری ہے؟ کیا سورۂ فاتحہ کے بعد آمین کہنا سنت ہے؟ تسمیہ (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) کے بعد نماز میں کیا پڑھا جائے؟