ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں جن ایام میں دن بڑا ہو اور رات چھوٹی ہواور اسی طرح سے جن دنوں رات بڑی ہو اور دن چھوٹا ہو تو دونوں صورتوں میں پانچ نمازوں کی ترتیب وہی ہے کہ دن والی دن میں اور رات والی رات میں رہیں گی۔ اسی طرح سے ایک علاقہ میں فجر کا وقت تو دوسرے میں ابھی عشاء کا وقت ہوتا ہے، ایک میں ظہر کا ہے تو دوسرے میں ابھی نصف النہار سے قبل کا وقت ہے الغرض جس علاقہ میں جس نماز کا وقت ہوتا ہے اس علاقہ والوں پر وہی نماز فرض ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح سے جہاں پر 24 گھنٹے کا یوم ہوتا ہے تو ان کےلئے پانچ نمازیں فرض ہیں، اگر کسی علاقہ میں 30 یا 20 گھنٹے کا ہوجائے تو ان پر بھی نمازیں پانچ ہی رہیں گی۔ کیونکہ ان پر فرضیت کےلئے ان کا وقت ہے بالکل اسی طرح سے جہاں دن ہفتہ، ماہ، چھ ماہ یا سال کا ہوگا تو ان کےلئے پانچ نمازوں کا ہی وقت آئے گا تو ان پر پانچ نمازیں ہی فرض ہوں گی۔ اور اسی طرح سے حج مکہ میں ہے تو مکہ کی تاریخ کا ہی اعتبار کیا جاتا ہے کہ جس دن سعودیہ میں حج ہورہا ہوتا ہے وہ دن عموماً پاکستان میں 9ذی الحجہ کا نہیں ہوتا بلکہ 8ذی الحجہ ہوتا ہے تو پاکستانی حضرات جو مکہ میں ہیں وہ مکہ کی تاریخ پر ہی حج ادا کریں گے۔ لہٰذا ہر علاقہ میں احکامِ شرعیہ کےلیے اسی علاقہ کے اوقات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ملا جیون علیہ الرحمہ نے نورالانوار میں قاعدہ بیان فرمایا ہے:
ان یکون الوقت ظرفا للمؤدی، و شرطا للاداء، و سببا للوجوب۔ (1)
ترجمہ: وقت مؤدی(ادائیگی کرنے والے) کےلئے (فعل کی فرضیت کا) ظرف، اور ادائیگی کےلئے شرط، اور واجب ہونے کےلئے سبب ہے۔
لہٰذا جب جس نماز کا وقت آئے گا وہ وقت اسی نماز کےلئے ظرف، شرط اور سبب ہوگا کسی اور کےلئے نہیں۔ اس لیے اگر چھ ماہ یا سال کا یوم ہوگا تو اس یوم میں پانچ نمازیں اپنے اپنے اوقات پر ادا کی جائیں گی۔اور اصول الشاشی میں درج ہے:
تکرار العبادات فان ذلک لم یثبت بالامر بل بتکرار اسبابھاالتی یثبت بھا الوجوب۔ (2)
ترجمہ: عبادات میں جو تکرار آتا ہے وہ امر کی وجہ سے نہیں بلکہ اسباب کے تکرار کی وجہ سے ہوتا ہے کہ جن اسباب سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔
اور پھر فرماتے ہیں:
و اذا وجبت العبادۃ بسببھا فتوجہ الامر لاداءما وجب منھا علیہ۔ (3)
ترجمہ: جب عبادت سبب کے باعث واجب ہوجاتی ہے تو امر اس سبب کی وجہ سے مامور کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
اور آپ نے فیصلہ کن وضاحت فرمائی:
اذا تکرر الوقت تکرر الواجب۔ (4)
ترجمہ: جب وقت لوٹ کر آئے گا تو واجب بھی لوٹ کر آئے گا۔یعنی جب وقت نہیں آئے گا تو واجب بھی نہیں آئےگا۔
اس سے واضح ہوا کہ ایک سال یا چھ ماہ کے دن میں جن نمازوں کا وقت داخل ہوگا تو وہ وقت ان نمازوں کا سبب ہونے کے باعث ان نمازوں کو ہی واجب کرے گا اس لیے اس لمبے دن میں پانچ نمازوں کے اوقات کے سبب پانچ نمازیں ہی لازم ہوں گی۔اس کے بعد اس موضوع پر حدیث سے تحقیق بھی ملاحظہ کریں کہ حضور نبی کریمﷺ نے دجّال کے حالات بیان کیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ وہ کتنا عرصہ زمین میں رہے گا تو حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا:
اربعون یوما یوم کسنۃ، و یوم کشھر، و یوم کجمعۃ،و سائر ایامہ کایامکم۔ قلنا یارسول اللہﷺ فذالک الیوم الذی کسنۃاتکفینا فیہ صلوۃ یوم؟ قال ’’لا، اقدروا لہ قدرہ‘‘ (5)
ترجمہ: دجال چالیس دن زندہ رہے گا، پہلا دن ایک سال جتنا، دوسرا ایک ماہ جتنا، تیسرا ایک ہفتہ جتنا اور بقیہ دن عام حالات پر ہی ہوں گے۔ صحابہ عرض کی: جو دن ایک سال کا ہوگا کیا اس دن میں ایک دن کی نماز کافی ہوگی؟ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ تم اس دن کےلئے نمازوں کا اندازہ کرلینا‘‘۔ یعنی ایک سال کی نمازوں کا اندازہ کر کے اس دن میں ایک سال کی نمازیں ہی پڑھی جائیں گی۔
شرح الحدیث:
قاضی عیاض مالکی اور امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ھذا حکم مخصوص بذلک الیوم، شرعہ لنا صاحب الشرع و لو لا ذلک ووکلنا فیہ الی اجتھادنالکانت الصلوۃ فیہ عند الاوقات المعروفۃ فی غیرہ من الایام۔ (6)
ترجمہ: یہ حکم اسی دن سے مخصوص ہے جسے خود صاحب ِ شرع ﷺ نے مشروع کردیا ہے اور اگر یہ فرمان نہ ہوتا اور ہم اپنے اجتھاد سے ہی کام لیتے تو اس دن میں بھی نماز انہیں معروف اوقات میں ہوتی جو کہ دیگر ایام میں نماز کے مخصوص اوقات ہیں۔ یعنی صرف پانچ نمازیں پڑھتے جن کا وقت اس دن داخل ہوتا۔
اس سے واضح ہوا کہ اس دن کے علاوہ جو زمین کے کسی حصہ پر دن اتنے بڑے ہوجائیں کہ چھ ماہ یا سال تک چلے جائیں تو وہاں پر معروف اوقات کے مطابق ایک دن کی ہی نمازیں پڑھی جائیں گی۔
فتویٰ
کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فرض ہوں گی؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ ملا جیون ، نورالانوار، مبحث الخاص، فصل فی موجب الامرفی حکم الوقت،ص:148
2۔ الشاشی، مختصر، بحث کتاب اللہ، فصل فی مقتضی الامر، ص : 88
3۔ الشاشی، مختصر، بحث کتاب اللہ، فصل فی مقتضی الامر، ص : 88
4۔ الشاشی، مختصر، بحث کتاب اللہ، فصل فی مقتضی الامر، ص : 89
5۔ مسلم، الجامع الصحیح، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، رقم الحدیث:7363
ترمذی، الجامع، کتاب الفتن، باب ما جاء فی فتنۃ الدجال، رقم الحدیث:2240
ابو داؤد، السنن ، کتاب الفتن، باب خروج الدجال، رقم الحدیث:4321
ابن ماجۃ، السنن ، ابواب الفتن، باب فتنۃ الدجال ، رقم الحدیث:4075
6۔ قاضی عیاض، اکمال المعلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، شرح رقم الحدیث:7363
نووی، شرح صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، شرح رقم الحدیث:7363
2۔ الشاشی، مختصر، بحث کتاب اللہ، فصل فی مقتضی الامر، ص : 88
3۔ الشاشی، مختصر، بحث کتاب اللہ، فصل فی مقتضی الامر، ص : 88
4۔ الشاشی، مختصر، بحث کتاب اللہ، فصل فی مقتضی الامر، ص : 89
5۔ مسلم، الجامع الصحیح، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، رقم الحدیث:7363
ترمذی، الجامع، کتاب الفتن، باب ما جاء فی فتنۃ الدجال، رقم الحدیث:2240
ابو داؤد، السنن ، کتاب الفتن، باب خروج الدجال، رقم الحدیث:4321
ابن ماجۃ، السنن ، ابواب الفتن، باب فتنۃ الدجال ، رقم الحدیث:4075
6۔ قاضی عیاض، اکمال المعلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، شرح رقم الحدیث:7363
نووی، شرح صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، شرح رقم الحدیث:7363
اصل سوال
کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فرض ہوں گی؟