واپس فتاویٰ

فتویٰ

اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہوا تھا، تو کیا نماز دوبارہ پڑھنا لازم ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 2

جواب

نماز کو اوقات کے ساتھ مخصوص کرکے فرض کیا گیا ہے اس لیے نماز کی ادائیگی اوقات پر مبنی ہے۔ کہ جس نماز کا وقت پایا جائے گا اسے اداکرلیا جائے گا لیکن اگر کوئی نماز قبل از وقت یا بعد از وقت ادا کی گئی تو وہ قبول نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا ۔(1)
ترجمہ: بیشک نماز مومنوں پر مقررہ وقت کے حساب سے فرض ہے۔
لیکن اگر کسی نے گھڑی دیکھ کر اذان یا نماز پڑھ لی مگر بعد میں پتا چلا کہ گھڑی کا ٹائم غلط تھا تو لوٹانا واجب ہوگا کیونکہ ابھی وقت ہی نہیں پایا گیا تو موقت بھی نہیں آئے گا لہٰذا جب وقت داخل ہوگا تو موقت بھی واجب ہوجائے گا۔
اور نماز کے اوقات سورج معمول کے ساتھ خاص ہیں کہ سورج سے پیدا ہونے والے سائے کا حساب لگایا جاتا ہے یا اندھیرے اور روشنی کا، اور یہ اوقات نماز کا اصل پیمانہ ہے۔ اگر کوئی شخص اس پیمانہ سے بھی اندازہ لگائے مگر غلط ہوجائے تو اسے بھی دوہرانہ لازم ہے۔ تو پھر کیلنڈر یا گھڑی کی وجہ سے غیر وقت میں نماز پڑھی ہوئی اس سے بھی زیادہ غیر معتبر ٹھہرے گی۔ اگر سورج سے اندازہ لگاکر نمازغلط وقت میں پڑھنے سے لوٹانا واجب نہ بھی ہوتا تو کیلنڈر اور گھڑی پر واجب ہوتا کیونکہ یہ آلہ اوقات نہیں بلکہ معاون آلہ اوقات ہیں۔

حوالہ

۔ النساء 103/4

اصل سوال

اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہوا تھا، تو کیا نماز دوبارہ پڑھنا لازم ہے؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فر... کیا اوقاتِ نماز معلوم کرنے کے لیے مروّج گھڑی پر اعتبار کرنا جائز ہے؟ دو سجدوں کے درمیان کیا پڑھنا چاہیے؟ کیا رکوع کے وقت رفعِ یدین کرنا سنت ہے؟