واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا ایسے علاقے میں، جہاں بعض نمازوں کا وقت ہی نہیں آتا، ان نمازوں کی فرضیت ساقط ہو جائے گی؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 2

جواب

اکثر علاقوں میں تو اوقات متوازن ہوتے ہیں کہ جن میں پانچوں نمازوں کے اوقات بالترتیب آتے ہیں بعض علاقوں میں اوقات متوازن نہیں ہوتے کہ کہیں سورج تھوڑی دیر غروب ہوتا کہ اس وقت میں غروب و طلوع کے درمیان کی تین نمازیں نہیں پڑھی جاسکتیں، بعض وہ ہیں کہ جن میں چھ مہینے دن ہے اور چھ مہینے رات ہے۔ اوپر والے مسئلہ میں نورالانوار اور اصول الشاشی سے اسباب عبادت کے حوالہ سے ضابطے بیان کردئیے گئے ہیں کہ جب سبب پایا جائے گا تو مسبب آئے گا۔ابو بکر جصاص علیہ الرحمہ نے امام طحاوی کے اقوال پر جمع شدہ کتاب’’مختصرالطحاوی‘‘ میں باب بیان کیا ہے:
’’لا قضاء الا علی من ادرک وقت وجوب الصلوۃ علیہ‘‘ (1)
ترجمہ: جس نے نماز کے واجب ہونے کا وقت پایا(پھر نہ پڑھی تو) اس پر قضاء لازم ہے۔
کہ جس بندے پر فرضیت صلوۃ کا وقت گزرا اور وہ نماز نہ پڑھ سکا تو اسی پر قضاء ہے جس سے واضح ہے کہ نماز فرض اس پر ہے جس پر فرضیت کا وقت آئے۔صاحب ِ محیط البرہانی صدر الشریعہ برہان الدین ابن مازہ الحنفی کے زمانہ میں ایک مسئلہ درپیش ہوا کہ ایک علاقہ میں عشاء کا وقت ہی نہیں آتا۔ یہ سوال بمع جواب محیط البرہانی میں درج ہے:
السوال: انا لانجد وقت العشاء فی بلدتنا، فان البلد کما تغرب ، یطلع الفجر من الجانب الآخر، ھل علینا صلوۃ العشاء؟
الجواب: انہ لیس علیکم صلوۃ العشاء۔ (2)
ترجمہ: سوال یہ تھا کہ ہم اپنے علاقے میں عشاء کا وقت نہیں پاتے، کہ جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے تو دوسری طرف سے طلوع ِفجر ہوجاتی ہے کیا ہم پر عشاء کی نماز ہے؟تو آپ علیہ الرحمہ نے جواباً (مطلق ارشاد فرمایا غیرمشروط و غیر مقید)فرمایا: تم پر عشاء کی نماز نہیں ہے۔
اور مزید درج ہے:
و ھکذا کان یفتی الشیخ الامام الاجل ظھیر الدین المرغینانی علیہ الرحمہ۔ (3)
امام ظہیر الدین المرغینانی بھی اسی پر ہی فتویٰ دیا کرتے تھے۔ اور اس حوالے سے قیاس بھی ہے کہ جس شخص کے اعضاء وضو مقطوع ہوں اس پر ان اعضاء کو دھونا ساقط ہوجائے گا۔ یعنی جب محل ِ فرض نہ رہا تو مفروض بھی نہ رہا لہٰذا جب وقت نماز ہی نہ آئے تو نماز کی فرضیت ہی ثابت نہ ہوگی۔
لیکن چونکہ اسلام میں سب سے اہم عبادت نماز ہے اور اسلام کی بنیاد ہے نماز کو ہی سب عبادات پر مقدم کیا گیاہے تاہم جو لوگ ایسے علاقوں میں رہنے والے ہوں جہاں نماز کے اوقات نہیں تو ان کی زندگیاں عبادت سے خالی ہونے کے خوف سے انہیں اپنے اوقات میں سے پانچ نمازوں کےلئے وقت مخصوص کرلینا چاہیے کہ جن نمازوں کا وقت آئے وہ فرض ہوں گی مگر جن کا وقت نہ آئے تو وہ فرض تو نہ ہوں گی مگر یہ کہ ان کے قائم مقام اوقات نفلاً مختص کرلیں۔ مزید تفصیل کےلیے الرد المحتار شرح الدرالمختار (4) کا مطالعہ مندرجہ بالحواشی حوالہ سے کریں۔

حوالہ

1 ۔ الجصاص، شرح مختصر الطحاوی، کتاب الطہارۃ، باب لاقضاء الا من ادرک وقت، ج:1 ،ص : 545
2۔ ابن مازۃ، المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، فصل المواقیت، ج:2، ص:6,7
3۔ ابن مازۃ، المحیط، کتاب الصلوۃ، فصل الاول فی المواقیت، ج:2، ص:6,7
4۔ شامی،الرد المحتار،کتاب الصلوۃ،مطلب فی فاقد وقت العشاء،ج:2،ص:18

اصل سوال

کیا ایسے علاقے میں، جہاں بعض نمازوں کا وقت ہی نہیں آتا، ان نمازوں کی فرضیت ساقط ہو جائے گی؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فر... اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہو... کیا اوقاتِ نماز معلوم کرنے کے لیے مروّج گھڑی پر اعتبار کرنا جائز ہے؟ کیا اوقاتِ نماز معلوم کرنے کے لیے مروّج کیلنڈر پر اعتبار کرنا جائز ہے؟