واپس فتاویٰ

فتویٰ

اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟

عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2025-09-15 مفتی: مفتی ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال

سوال

اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟

جواب

اگر حوض میں سے وضو کرنے والوں کا ماء مستعمل اتنی مقدار کو پہنچتا ہے کہ وہ حوض کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو اس سے سارا پانی مستعمل کے حکم میں ہوجائے گا جس سے طہارت حکمیہ جائز نہیں تو اگر اسے ماء مطلق بنانا ہو تو اس کے مندرجہ ذیل دو طریقے ہیں:
۱۔ اس کے اندر موجود پانی کی مقدار سے زیادہ ماء مطلق اس میں شامل کردیا جائے جس سے غلبہ ماء مطلق کا ہوگا اور سب پانی ماء مطلق کے حکم میں ہوجائے گا۔
۲۔ اس پانی کو ماء جاری بنادیا جائے جب ماء جاری بنے گا تو ماء مستعمل نہیں رہے گا بلکہ مطلق کے حکم میں آجائے گا۔ اور اسے جاری کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف سے پانی داخل کیا جائے دوسری طرح سے خارج کیا جائے۔ اور ادخال و اخراج میں برابری ضروری نہیں ہے اگرچہ ایک طرف سے زیادہ ہے اور دوسری طرف سے کم ہے تو بھی ماء جاری کے حکم میں ہوجائے گا، جس سے ماء مطلق بن جائے گا۔
جب ماء مطلق بن جائے گا تو اس پانی سے حقیقی و حکمی طہارت حاصل کرنا جائز ہوجائے گا۔

مزید فتاویٰ جات

سیوریج کے پانی پر پکنے والی سبزیوں کا کیا حکم ہے؟ وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ راستے پر کھڑے پانی کے چھینٹے لباس و بدن پرپڑجانے کی صورت میں سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟