واپس فتاویٰ

فتویٰ

اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟

عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2025-09-15 مفتی: مفتی ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: عمومی مشاہدات: 254

جواب

اگر حوض میں سے وضو کرنے والوں کا ماء مستعمل اتنی مقدار کو پہنچتا ہے کہ وہ حوض کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو اس سے سارا پانی مستعمل کے حکم میں ہوجائے گا جس سے طہارت حکمیہ جائز نہیں تو اگر اسے ماء مطلق بنانا ہو تو اس کے مندرجہ ذیل دو طریقے ہیں:
۱۔ اس کے اندر موجود پانی کی مقدار سے زیادہ ماء مطلق اس میں شامل کردیا جائے جس سے غلبہ ماء مطلق کا ہوگا اور سب پانی ماء مطلق کے حکم میں ہوجائے گا۔
۲۔ اس پانی کو ماء جاری بنادیا جائے جب ماء جاری بنے گا تو ماء مستعمل نہیں رہے گا بلکہ مطلق کے حکم میں آجائے گا۔ اور اسے جاری کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف سے پانی داخل کیا جائے دوسری طرح سے خارج کیا جائے۔ اور ادخال و اخراج میں برابری ضروری نہیں ہے اگرچہ ایک طرف سے زیادہ ہے اور دوسری طرف سے کم ہے تو بھی ماء جاری کے حکم میں ہوجائے گا، جس سے ماء مطلق بن جائے گا۔
جب ماء مطلق بن جائے گا تو اس پانی سے حقیقی و حکمی طہارت حاصل کرنا جائز ہوجائے گا۔

اصل سوال

اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟

مزید فتاویٰ جات

سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟ سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام راستے پر کھڑے پانی کے چھینٹے لباس و بدن پرپڑجانے کی صورت میں