واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا اوقاتِ نماز معلوم کرنے کے لیے مروّج کیلنڈر پر اعتبار کرنا جائز ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 2

جواب

سب سے اول بات تو یہ ہے کہ وقتِ نماز ہر نمازی کےلئے بذاتِ خود سایہ دیکھ کر معلوم کرنا فرض نہیں۔ ایک معتبر، معتمد اور مستند شخص کی خبر ہی کافی ہے جسے ہم مؤذن کہتے ہیں۔ کہ اذان کے بعد ہر شخص کےلئے الگ سے وقت معلوم کرنا لازمی نہیں رہا۔ لیکن جہاں اکیلا ہوگا یا چند لوگ ہوں ان میں اختلاف واقع ہوجائے تو پھر ہر ایک کا اپنی نماز کےلئے وقت معلوم کرناہوگا۔ لہٰذا یہ ایک متواترہ طریقہ تمام امت میں مقبول چلا آرہا ہے کہ ایک معتبرو معتمد شخص فقہی بنیادوں پر اوقاتِ نماز کا تعیّن کردیتا ہے اور بقیہ لوگ اس کی خبر پر یقین کرتے ہیں۔ علامہ شامی فرماتے ہیں:
و یکفی فی ذلک اذان الواحد لو عدلاً۔(1)
ترجمہ: اور ایک شخص کی اذان دخولِ وقت کے علم میں کافی ہوگی اگر وہ عادل ہو۔
مروّجہ کیلنڈر ایک جماعت کی مشترکہ تحرّی سے وجود میں آتے ہیں اور پھر ان کو اوقات کے ساتھ ملایا جاتا ہے اس کے علاوہ ان کیلنڈرز کو علماء کا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔اور اول اسلام سے ہی کیلنڈر تو جاری ہے اور وہ سایوں کی مقدار کا بیان ہے مروّج کیلنڈرز حقیقت میں اسی کی تفصیل ہیں۔ لہٰذا تفصیل اگر مفصل کے موافق ہو تو مقبول ہوتی اور اگر مخالف ہو جائے تو مردود ہوجاتی ہے بس یہی ضابطہ یہاں ہوگا۔ اور اوقات کا علم حاصل ہونے میں ان کیلنڈرز کو غلبۂ رائے حاصل ہوتا ہے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں:
لان غالب الرائ بمنزلۃ الیقین۔ (2)
ترجمہ: کہ غالب رائے یقین کے قائم مقام ہے۔
اور یہ کیلنڈرز سال کے ایّام کے اوقات متواترہ کو دیکھ کر بنائے جاتے ہیں کہ کس کس تاریخ کو اوقات کیا ہوتے ہیں ان اوقات کا تعیّن عادت سے حاصل ہے اور صاحب ِ ہدایہ فرماتے ہیں:
والثابت عادۃ کالمتیقن بہ۔ (3)
ترجمہ: جو بات عادت سے ثابت ہو وہ ایسے ہی جیسے یقینی اور قطعی ہے۔
حاصل یہ کہ کیلنڈر اس عادت پر یقین کرتے ہوئے ترتیب دئیے جاتے ہیں کہ جو سالہا سال سے فطرتاً متواتر چلی آرہی ہے کہ کن تاریخوں میں اوقات اور سایوں کا تعلق کیا ہوتا ہے کہ کس تاریخ کو کس وقت میں سایہ کتنا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے کیلنڈر بناتے ہوئے سب سے بنیادی اہمیت سائے کو ہی حاصل ہوتی ہے۔لہٰذا وہ مروّج کیلنڈر جو عادل، صادق اور معتبرو معتمد شخص یا جماعت کا بنایا ہوا ہو اس پر اعتبار کرنا جائز ہوگا۔

حوالہ

1۔ شامی،رد المحتار،کتاب الصلوۃ،یشترط العلم بدخول الوقت،ج:1،ص:29
2۔ شامی ، رد المحتار ، کتاب الصلوۃ ، یشترط العلم بدخول الوقت، ج: 1 ، ص : 29
3۔ المرغینانی ، الہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، فصل فی نواقض الوضوء(فی النوم مضطجعا) ج:1،ص:26

اصل سوال

کیا اوقاتِ نماز معلوم کرنے کے لیے مروّج کیلنڈر پر اعتبار کرنا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فر... اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہو... کیا اوقاتِ نماز معلوم کرنے کے لیے مروّج گھڑی پر اعتبار کرنا جائز ہے؟ دو سجدوں کے درمیان کیا پڑھنا چاہیے؟