نماز کےلئے اس کے وقت کا پایا جانا ضروری ہے اور وقت کے پائے جانے کا یقین ہونا بھی ضروری ہے۔ حالاتِ حاضرہ میں لوگ اوقات معلوم کرنے کےلئے سائے یا سورج کو دیکھنے کی بجائے صرف گھڑی کو دیکھتے ہیں اور نماز پڑھ لیتے ہیں حتیٰ کہ بند کمرے میں موجود جو شخص کام میں مصروف تھا اور کئی گھنٹوں سے اس نے سورج اور سائے یا دھوپ وغیرہ کو نہ دیکھا اور صرف گھڑی کو دیکھ کر ہی نماز پڑھ لیتاہے یا نمازِ فجر و عشاء کا معاملہ بھی اسی طرح سے ہے۔ ایسے حالات میں صرف گھڑی پر ہی اعتبار کرلینا کافی ہوگا۔ کیونکہ گھڑی سائے کی طرح وقت بتاتی ہے اور وقت کے پائے جانے کا یقین بھی دلاتی ہے۔ اس کے متیقن ہونے کا قاعدہ یہ ہے:
والثابت عادۃ کالمتیقن بہ۔ (1)
ترجمہ: جو لوگوں کی عادت سے ثابت ہو وہ یقینی ہے۔
علامہ ابن نجیم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
العادۃ محکمۃ: و اصلھا ’’ما رآہ المسلمون حسنا فھو عنداللہ حسن‘‘ (2)
ترجمہ: جو لوگوں میں عادۃً رائج ہو تو وہ ثابت اور معتبر ہے۔ اس قاعدہ کی اصل حضور نبی کریمﷺ کا فرمان(یا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول)ہے: جسے مسلمان اچھا، بھلائی والا یا درست سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا اور درست ہی ہے۔
تمام مسلمان گھڑی کے اوقات کو درست دیکھتے ہیں اور ان اوقات کا تعلق اصل میں سورج اور اس کے سایوں سے ہی ہے کہ جب اتنا وقت ہوجاتا ہے سورج فلاں جگہ ہوتا ہے اور اتنے وقت پر سورج فلاں جگہ ہوتا ہے لہٰذا اصل میں گھڑی سورج کی نشاندہی کرتی ہے اور نماز سورج کے اوقات پر ہی پڑھی جاتی ہے جو کہ جائز، درست اور مستحسن ہے۔
فتویٰ
کیا اوقاتِ نماز معلوم کرنے کے لیے مروّج گھڑی پر اعتبار کرنا جائز ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ المرغینانی ، الہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، فصل فی نواقض الوضوء(فی النوم مضطجعا) ج:1،ص:26
2۔ ابن نجیم حنفی، الاشباہ والنظائر ، الفن الاول القواعد الکلیۃ ، القاعدۃ السادسۃ ، ص : 101
2۔ ابن نجیم حنفی، الاشباہ والنظائر ، الفن الاول القواعد الکلیۃ ، القاعدۃ السادسۃ ، ص : 101
اصل سوال
کیا اوقاتِ نماز معلوم کرنے کے لیے مروّج گھڑی پر اعتبار کرنا جائز ہے؟