قرآن مقدس کو بغیر طہارت کے تلاوت کرنا اور چھونا ناجائز ہے مگر اسے تحریر کرنے کا حکم مختلف ہے۔ جس کی تفصیل مندرجہ ذیل میں دی جاتی ہے۔سراج الدین ابن نجیم الحنفی فرماتے ہیں:
واما الکتابۃ فتکرہ وان کانت صحیفۃ علی الارض و ذکر القدوری عدمھا اذا کانت علی الارض، قال فی الفتح: وھو اقیس لما انہ فی ھذہ الحالۃ ما مس بالقلم وھو واسطۃ منفصلۃ فکان کثوب منفصل الا ان یمسہ بیدہ۔ (1)
ترجمہ: اور لکھنے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے اگرچہ صحیفہ(جس چیزپر لکھا جارہا ہے) زمین پر ہی ہو، اور قدوری علیہ الرحمہ نے عدم کراہت کا ذکر کیا ہے جب صحیفہ زمین پر ہو۔ اور صاحب فتح فرماتے ہیں: کہ میں نے قیاس یہ کیا ہے کہ جب ایسی حالت ہو یعنی صحیفہ زمین پر تو قلم کو چھونا ایسا واسطہ بن جائے گا جو فاصلہ پیدا کردے گا جیسے فاصلہ کردینے والا (یعنی جیسے غلاف والا کپڑا ہاتھ اور قرآن کے درمیان فاصلہ کرتا ہے تو غلاف کے ساتھ جائز ہوجاتا ہے) لیکن اگر صحیفے کو پکڑا ہوا ہے تو مکروہ ہوگا۔
صحیفہ زمین پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ صحیفہ نیچے کسی چیز پر رکھا ہو ہاتھ میں نہ ہو۔ اور الجوہرۃ النیرۃ میں فرماتے ہیں:
ھل یجوز للجنب کتابۃ القرآن قال فی منیۃ المصلی لا یجوز و فی الخجندی یکرہ للجنب والحائض اذا کان مباشرا اللوح والبیاض وان وضعھا علی الارض و کتبہ من غیر ان یضع یدہ علی المکتوب لاباس۔ (2)
ترجمہ: کیا جنبی کےلیے قرآن کو لکھنا جائز ہے؟ منیہ المصلی میں فرماتے ہیں: کہ جائز نہیں ہے اور خجندی میں فرماتے ہیں: اگر تختی کو چھوئے تو جنبی اور حائضہ کےلیے قرآن لکھنا مکروہ ہے اور اگر اسے زمین پر رکھے اور لکھے ہوئے یا جس ورق پر لکھا جارہا ہے اس پر ہاتھ رکھے بغیر لکھتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
اگر اس صحیفہ کو جس پر قرآن کو تحریر کرتا ہے چھو کر تحریر کرے گا تو اسے سب فقہاء نے کم سے کم مکروہ قرار دیا ہے۔ بعض نے ناجائز بھی کہا ہے۔ اگر ڈائریکٹ آیت کو چھوئے گا تو اسے چھونا جائز نہیں ہے۔اوراگر اس صحیفہ کو چھوئے بغیر لکھتا ہے تو اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ کپیوٹر کی کمپوزنگ تحریر کے زمرے میں شامل ہے، اسے تحریر کے حکم پر ہی قیاس جائے گا۔ اس لیے اصول کے مطابق بغیر طہارت کمپوزنگ کرنا جائز ہے کیونکہ اس میں "کی بورڈ" کو چھوا جاتا ہے اور آیت یعنی سکرین ہاتھوں سے دور ہوتی ہے۔
فتویٰ
کیا بغیر طہارت کمپیوٹر یا موبائل پر قرآنی آیات لکھنا جائز ہے؟
عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ ابن نجیم، النھرالرائق، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج: 1 ، ص: 135
2۔ شیخ الاسلام ابوبکر بن علی بن محمد الحداد الیمنی الحنفی، المتوفی:800ھ الجوہرۃ النیرۃ شرح القدوری، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج: 1 ، ص:35
2۔ شیخ الاسلام ابوبکر بن علی بن محمد الحداد الیمنی الحنفی، المتوفی:800ھ الجوہرۃ النیرۃ شرح القدوری، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج: 1 ، ص:35
اصل سوال
کیا بغیر طہارت کمپیوٹر یا موبائل پر قرآنی آیات لکھنا جائز ہے؟