واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا بے وضو قرآنی آیات والی کیسٹوں، سی ڈیز یا دیگر ذرائع کو چھونا جائز ہے؟

عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: عمومی مشاہدات: 1

سوال

کیا بے وضو قرآنی آیات والی کیسٹوں، سی ڈیز یا دیگر ذرائع کو چھونا جائز ہے؟

جواب

قرآنی آیت کو بے وضو چھونا ناجائز ہے وہ مصحف میں ہو یا اکیلی آیت کسی چیز پر تحریر کی گئی ہو۔ قرآن کو بے وضو چھونا منع ہے مگر غلاف کے ساتھ پکڑنا جائز ہے حتیٰ کہ جنبی بھی غلاف سے پکڑ سکتا ہے۔ تو کیسٹ یا سی ڈیز میں قرآنی آیات کا ریکارڈ ہونا قرآن کا غلاف میں ہونے کی مثل ہے بلکہ وہ اس سے بھی کم ہے کہ اس میں کچھ تحریر نہیں جسے دیکھا یا پڑھا جاسکے۔ بعض نے کہا:
’’اگر کاغذ کا احترام واجب ہو جن میں الفاظ(قرآن) محفوظ کیے گئے ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کیسٹوں کا احترام واجب نہ ہو جن میں قرآن کی آواز کو محفوظ کیا گیا ہو۔‘‘
جواب یہ ہے کہ چھونے کا تعلق ظاہر سے اور ظاہری تحریر کو چھونے
سے منع ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی انگلی سے کسی کاغذ یا کسی اور چیز پر آیتِ قرآنی تحریر کردے تو اس کاغذ کو بلاوضو حالت جنابت میں بھی چھوا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس میں کچھ ظاہراً تحریر ہی نہیں جبکہ زمانۂ موجودہ میں سائنس نے اتنی ترقی کر لی کہ جس چیز کو ہاتھ سے چھوا جائے آلات کے ذریعہ سے اثرات کو دیکھ لیا جاتا ہے لیکن پھر بھی حکم وہی ہے۔ تو اسی طرح سے اگرچہ ان کیسٹس یا سی دیز میں قرآنی آیات کی آواز محفوظ ہوتی ہے کہ اسے سائنسی آلات سے سنا جا سکتا ہے لیکن ظاہر میں پڑھا یا دیکھا نہیں جاسکتا یہاں پر بغیر وضو و غسل چھونا ناجائز نہ ہوگا۔

مزید فتاویٰ جات

سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟ سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟