کمپیوٹر کی سکرینز تین طرز کی ہیں:
ایک وہ ہے کہ جس میں سکرین کے اوپر ایک اور شیشہ لگا ہوتا ہے۔یعنی وہ سکرین شیشے کے پیچھے ہوتی ہے۔
دوسری وہ ہے کہ جس کے اوپر شیشہ وغیرہ نہیں ہوتا بلکہ ڈائریکٹ سکرین ہی سامنے ہوتی ہے بلکہ اس کے اوپر ہاتھ لگانے سے اس سے واضح شدہ تحریر ڈائریکٹ مس ہورہی ہوتی ہے۔اس سکرین کو LCDاور LEDکہتے ہیں۔
اور تیسری TUCH SCREEN ہوتی ہے کہ جس عمل ہوتا ہی ہاتھ کے اثر سے ہے۔ حتیٰ کہ اگر تحریر شدہ الفاظ کے اوپر ہاتھ سے مس کیا جائے تو ان میں اثر پیدا ہوتا ہے اور کسی بھی طرح کی تبدیلی یا عمل کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔
پہلے نمبر والی سکرین ایسے ہی ہے جیسے کہ کسی کاغذ پر آیات کو تحریر کردیا جائے اور پھر اس کے اوپر شیشہ رکھ دیا جائے اور اس شیشہ سے آیات تحریر شدہ دکھائی دے رہی ہیں مگر اس شیشہ کو بغیر طہارت ہاتھ لگانا ناجائز نہیں ہے۔ جبکہ آخری تو کلیۃً مس کرنے سے ہی تعلق رکھتی ہے کہ مس کرکے تحریر شدہ الفاظ کو Delete بھی کیا جاسکتا ہے اور اسی طرح سے انہیں اپنی جگہ سے Move بھی کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ اس پر تو لکھا بھی ٹچ کے ذریعہ جاتا ہے۔ اس لیے وہ ایسے ہی ہے جیسے ڈائریکٹ تحریر شدہ ورق ہو تو جب آیتِ قرآنی اس سکرین سے نظر آرہی ہوتو اسے بغیر طہارت چھونا جائز نہ ہوگا۔
اور LCD کو بھی اوپر سے ہاتھ لگانے سے یوں لگتا ہے کہ جیسے ہاتھ اس کے اندر موجود تحریر کو چھو رہے ہیں۔ اور اگر اسے اوپر سے دبایا جائے تو ہاتھ کا اثر سکرین پر دکھائی دیتا ہے جبکہ Monitor کی سکرین کے اوپر لگا شیشہ ہاتھ کے اثر کو نیچے تک پہنچنے سے مانع ہے۔ اس لیے دونوں کا حکم جداجدا ہوگا اور LCD پر تحریر شدہ آیت کو بغیر طہارت چھونا جائز نہ ہوگا۔ گویا LCDمیں الفاظ ایسے ظاہر ہیں جیسے دیوار کے اندر سے تصویر یا تحریر ظاہر ہورہی ہو۔
فتویٰ
کیا کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین پر نظر آنے والی قرآنی آیات کو بغیر طہارت ہاتھ لگانا جائز ہے؟
عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
اصل سوال
کیا کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین پر نظر آنے والی قرآنی آیات کو بغیر طہارت ہاتھ لگانا جائز ہے؟