بعض حضرات کا نظریہ ہے کہ داڑھی منڈا نماز میں امامت نہیں کراسکتا۔ بلکہ بعض تو اذان واقامت کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ داڑھی عوامل تقویٰ میں سے ہے۔ جب کہ شرائطِ امامت میں کسی نے بھی تقویٰ کی شرط نہیں لگائی۔ داڑھی کی شرط ہی کسی نے نہیں لگائی اگر تقویٰ شرط ہوتی تو شاید اس کے تحت داڑھی رکھنا بھی داخل ہوجاتا۔ بلکہ امامت کے استحقاق میں مدارج بیان ہوئے ہیں۔ کہ سب سے اول سب سے بڑا عالم، پھر سب سے بڑا قاری، پھر سب سے بڑا متقی۔ یعنی تقویٰ مدارجِ استحقاقِ امامت میں بھی تیسرے نمبر پر ہے۔ اور یہ ترتیب افضلیت واعلویت کےلیے ہے نہ کہ جواز کےلیے۔ اور رسول اللہﷺ نے فرمایا:
والصلوۃ واجبۃ علیکم خلف کل مسلم برا کان او فاجرا وان عمل الکبائر۔ (1)
ترجمہ: اور تم پر ہر مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنا واجب ہے۔ چاہے نیک ہو یا
فاجر، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو۔
اس حدیث کا مفہوم یہ تو نہیں فاجروفاسق کو امامت کا اہل بنادیا جائے، اور فاجروفاسق کو منصب امامت پر فائز کردینے میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ آپ کا فرمانا یہ ہے کہ اگر کوئی مقرر امام فسق وفجور میں واقع ہوجاتا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے عدول نہیں کیا جائے گا۔
ایک داڑھی منڈا شخص کتنا فاجر ہوسکتا ہے؟ کیا کسی نے بھی آج تک داڑھی منڈانے کو گناہ کبیرہ میں شمار کیا؟ اگر کوئی اسے گناہ کبیرہ بھی قرار دے پھر بھی کفر میں تو واقع نہیں ہوتا۔ ہے تو پھر بھی مسلمان جب رسول اللہﷺ نے اتنا فرمادیا کہ گناہ کبیرہ کے مرتکب کے پیچھے بھی نماز پڑھنا واجب ہے۔ تو داڑھی منڈے کی امامت کی ممانعت کرنا، حتیٰ کہ اذان واقامت سے منع کرنا جائز اور درست نہیں ہے۔
ہاں البتہ امامت کا منصب سپرد کرتے وقت یہ دیکھاجائے، کہ وہ بندہ جسے امام بنایا جا رہا ہے پابند شرع ہواور سنت کا لحاظ کرنے والا ہو۔ ابرار کے ہوتے ہوئے کسی فاجر کو امام بنادینا اجر میں کمی کا باعث ہوگا لیکن نماز ہوجائے گی۔ کیونکہ فاسق وفاجر کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے: صاحب الہدایہ فرماتے ہیں:
یکرہ تقدیم الفاسق۔ (2)
ترجمہ: فاسق کو (امامت کےلیے) آگے کرنا مکروہ ہے۔
اور در مختار میں علامہ حصکفی بیان کرتے ہیں:
صلی خلف فاسق او مبتدع نال فضل الجماعۃ۔ (3)
ترجمہ: فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز پڑھے گا تو جماعت کی فضیلت حاصل ہوجائے گی۔
رد المحتار میں شرح کرتے ہوئے علامہ شامی فرماتے ہیں:
افاد ان الصلوۃ خلفھما اولی من الافراد، لکن لاینال کما ینال خلف تقی ورع۔ (4)
ترجمہ: ان دو کے پیچھے نماز پڑھنا اکیلا پڑھنے سے اولیٰ ہے، لیکن وہ فضیلت نہیں ملے گی جو متقی پرہیزگار کے پیچھے حاصل ہوتی ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
من صلی خلف عالم تقی فکانما صلی خلف نبی۔ (5)
ترجمہ: جس نے متقی عالم کے پیچھے نماز پڑھی ایسے ہی ہے جیسے اس نے نبی کے پیچھے نماز پڑھی۔
اور حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا:
ان سرکم ان تقبل صلوتکم فلیؤمکم خیارکم۔ (6)
ترجمہ: اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری نماز قبول کی جائے تو تم میں اچھے لوگ امامت کرائیں۔
افضل اور اعلیٰ یہ ہے کہ متقی، پابند شرع شخص امامت کرائے۔
فتویٰ
کیا داڑھی کتروانے والے شخص کی امامت میں نماز ادا کرنا جائز ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ ابوداود، السنن، کتاب الجھاد، باب فی الغزو مع ائمۃ الجور، رقم:2533
2۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب الامامۃ، ج: 1،ص:124
3۔ حصکفی، در المختار مع رد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب الامامۃ، ج:2،ص:301
4۔ شامی،رد المحتار،کتاب الصلوۃ،مطلب بدعۃ خمسۃ اقسام،ج:2،ص:301
5۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب الامامۃ، ج: 1،ص:124
6۔ عسقلانی، الدرایۃ فی تخریج احادیث الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب الامامۃ، ج: 1،ص:124
2۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب الامامۃ، ج: 1،ص:124
3۔ حصکفی، در المختار مع رد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب الامامۃ، ج:2،ص:301
4۔ شامی،رد المحتار،کتاب الصلوۃ،مطلب بدعۃ خمسۃ اقسام،ج:2،ص:301
5۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب الامامۃ، ج: 1،ص:124
6۔ عسقلانی، الدرایۃ فی تخریج احادیث الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب الامامۃ، ج: 1،ص:124
اصل سوال
کیا داڑھی کتروانے والے شخص کی امامت میں نماز ادا کرنا جائز ہے؟