جمعہ ایک اجتماعی عبادت ہے اسی لیے جمعہ اجتماعیت میں ہی مشروع کیا گیا ہے۔ اس حوالہ سے ائمہ فقہ میں اختلاف رہا ہے کہ جمعہ شہروں، دیہاتوں اور عام آبادیوں میں کہاں جائز ہے اور کہاں جائز نہیں ہے؟ یہ مسئلہ کسی بھی دور میں اجماعی نہیں رہا۔ شروع سے آج تک ائمہ احناف کا موقف رہا ہے کہ جمعہ شہر کے علاوہ جائز نہیں ہے۔ جبکہ دیگر فقہاء کے نزدیک شہر جمعہ کےلیے شرط نہیں ہے بلکہ جہاں بھی لوگوں کی جماعت بن جائے گی وہاں جمعہ ہوگا۔ امام طحاوی علیہ الرحمہ نے "اختلاف العلماء" تحریر فرمائی اور اس کا اختصار ابوبکر الجصاص علیہ الرحمہ نے کیا ہے اور اسے"مختصر اختلاف العلماء" کا نام دیا ہے۔ اس میں درج کرتے ہیں:
قال اصحابنا، والثوری، وعبید اللہ بن الحسن: لا جمعۃ الا فی مصرجامع، لا تصح الجمعۃ فی السواد۔ (1)
ترجمہ: ہمارے اصحاب یعنی احناف، امام ثوری اور عبید اللہ بن الحسن نے کہا: کہ شہر کے سوا جمعہ جائز نہیں ہے۔ اور دیہات میں جمعہ نہیں ہے۔
دیگر ائمہ کے نزدیک شہر شرط نہیں، اس میں امام مالک کا قول درج کرتے ہیں:
وقال مالک: تصح الجمعۃ فی کل قریۃ فیھا بیوت متصلۃ، واسواق متصلۃ۔ (2)
ترجمہ: امام مالک علیہ الرحمہ نے فرمایا: ہر ایسی بستی میں جمعہ جائز ہے جہاں پر گھر اور گلیاں متصل ہوں۔
یعنی جہاں جدا جدا ایک ایک دودو گھر ہوں گے وہاں جائز نہیں ہے۔ اور جہاں پر گھر اکٹھے آجائیں گے چاہے وہ تھوڑے ہیں یا زیادہ وہاں پر جائز ہے۔اور امام شافعی کا قول درج کرتے ہیں:
وقال الشافعی: اذا کانت قریۃ مجتمعۃ البناء والنوازل، وکان اہلھا لا یظعنون عنھا الا ظعن حاجۃ، وھم اربعون رجلا احرارا، بالغین، غیر مغلوبین علی عقولھم، وجبت علیہم الجمعۃ۔ (3)
ترجمہ: ہر وہ بستی جو گھروں اور عمارتوں پر مشتمل ہو، اور اس کے رہنے
والے اسے چھوڑ کر کہیں جاتے نہ ہوں سوائے حاجت کے(یعنی اس کے مستقل باشندے ہوں)، اور ان کی تعداد چالیس آزاد، بالغ، اور عقلمندوں پر متشمل ہو ان پر جمعہ واجب ہے۔
اس کے علاوہ ہدایہ، المحیط البرہانی اور دیگر بڑی کتب میں بھی ائمہ کے اقوال اور ان کے موقف درج کیے گئے ہیں جنہیں اختصار پیش نظر بیان نہیں جاتا۔ بس ان حوالوں سے مراد یہ بتانا ہے کہ احناف کے نزدیک دیگر ائمہ شہر کی شرط نہیں لگاتے یہ شرط مذاہب اربعہ میں سے صرف احناف کے نزدیک ہے۔ اب جائزہ لیتے ہیں کہ احناف کے نزدیک اس موقف کی نوعیت کیا ہے اور ائمہ احناف کی آراء کا تجزیہ لیتے ہیں۔ اور یہ واضح کرتے ہیں کہ احناف کے نزدیک شہر سے مراد کیا ہے؟ کتنی آبادی کو وہ شہر تصور کرتے ہیں؟ صاحب الہدایہ احناف کا موقف بیان فرماتے ہیں:
لا تصح الجمعۃ الا فی مصر جامع او فی مصلی المصرولا تجوز فی القریٰ۔ (4)
ترجمہ: جمعہ مصر جامع کے سوا جائز نہیں ہےیا مصلی مصر(شہر سے الگ نماز جنازہ وعیدین کےلیے بنائے گئی جگہ) میں، اور دیہات میں جائز نہیں ہے۔
احناف کا یہ موقف تمام کتب فقہ میں درج ہے۔ عربی میں شہر کےلیے کئی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں مثلا بلد، مدینہ اور حضربھی شہر کے نام ہیں۔ ایسے ہی قریہ بھی شہر پر بولا جاتا ہے یا بڑی آبادی پر یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ کتب احناف میں جہاں بھی دیکھیں تمام ائمہ نے "مصر" کا لفظ استعمال کیا ہے اور بلدیا مدینہ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ذیل میں مصر کی تعریف بیان کی جاتی ہے اور واضح کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کو بیان کرنے کےلیے اسی لفظ کو ہی کیوں چنا گیا۔ یہ اتفاقی نہیں بلکہ تمام ائمہ کا بیان کردہ لفظ یہی ہے۔
مصر کی تعریف
عبارت کا ترجمہ کرتے ہوئے مصر جامع کا ترجمہ نہیں کیا، ذیل میں اس کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔سب سے پہلے مصر کی لغوی وضاحت کرتے ہیں۔
لغوی وضاحت
۱۔ لغت میں لفظ "مصر" میں قلت کا معنی پایا جاتا ہے صاحب تاج العروس بیان کرتے ہیں:
التمصر: القلیل من کل شئ۔ (5)
ترجمہ: تمصُّر ہر چیز میں قلت کو کہتے ہیں۔
التمصیر: التقلیل۔ (6)
ترجمہ: تمصیر قلت کو بیان کرتا ہے۔
ابن المنظور الافریقی لسان العرب میں بیان کرتے ہیں:
التمصر القلیل من کل شئ؛ قال ابن سیدۃ: ھذا تعبیر اھل اللغۃ والصحیح التمصر القلۃ۔(7)
ترجمہ: تمصر ہر چیز میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ابن سیدہ کہتے ہیں: یہ تو اہل لغت کے ہاں تعبیر ہے اور صحیح یہ ہے کہ تمصر قلت کو ہی کہتے ہیں۔
یعنی یہ لفظ جس شکل میں بھی، جس چیز کےلیے استعمال ہوگا اس کے معنی میں قلت پائی جائے گی۔
۲۔ مصر کا دوسرا معنی "حد" ہے تاج العروس میں بیان کرتے ہیں:
المصر الحد فی کل شئ۔ (8)
ترجمہ: مصر ہر چیز میں حد کو کہتے ہیں۔
یعنی جو مختلف اشیاء کو ایک دوسرے سے ممیز کردے۔
۳۔ اور نئے بسائے جانے والے شہر کےلیے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے تاج العروس میں شہر مصر کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے ذکر کرتے ہیں:
سمیت بذلک لتمصرھا، ای تمدنھا۔(9)
ترجمہ: اس کا یہ نام اسے نیا شہر بسائے جانے کی وجہ سے رکھا گیا۔
لسان العرب میں بیان کرتے ہیں:
کان عمر رضی اللہ عنہ مصر الامصار منھا البصرۃ والکوفۃ۔ (10)
ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کئی شہر بسائے ان میں سے بصرہ اور کوفہ بھی ہیں۔
جب یہ معانی سامنے آئے تو یہ بات بھی منظرعام پر آگئی کہ یقیناً لفظ "مصر" جسے فقہاء بیان کیا ہے یہی معانی دیتا ہوگا۔ یہ معانی چونکہ بلد اور مدینہ میں نہیں اس لیے اس لفظ کا انتخاب کیاگیا ہے۔ سب سے پہلا معنی "قلت" بیان کیا۔اس معنی کی رو سے مصر کا مراد ایسی آبادی ہوگی جو کم ہوگی۔ یعنی فقہاء جس شہر کو جمعہ کی مشروعیت کےلیے شرط قرار دیتے ہیں وہ بڑی آبادی مراد نہیں بلکہ کم آبادی مراد ہے۔ یعنی وہ آبادی ہو چاہے کم ہو۔
دوسرا معنی "حد" ہے۔ دو چیزوں میں تمیز کردینا مصر کہلاتا ہے۔ اس معنی کی رو سے مصر سے مراد ایسی آبادی ہے جو دوسری آبادیوں سے جدا اپنی شناخت رکھتی ہو۔ جس کی اپنی حد ہو دوسری آبادی اس حد سے الگ ہو۔ یعنی اتنی سی آبادی کہ جس کا دوسری آبادیوں سے ممیز ہوکر اپنا ایک تعارف بن جائے۔
اور تیسرا معنی"تمدن" یعنی "نیا شہر بسانا"بیان کیا۔ اس معنی کی رو سے مصر سے ایسی آبادیاں کہ جو نئی بسائی جارہی ہوں یا بس رہی ہوں یا نئی بسی ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر ایسی آبادی جسے باقاعدہ بسادیا جائے وہ مصر کہلائے گی۔اور جب نئی آبادی بسائی جاتی ہے تو کم تعداد پر مشتمل ہوتی ہے۔ لہٰذا فقہاء کے بیان کردہ مصر سے مراد بڑے اور پرانے شہر مراد نہیں ہیں بلکہ ہر وہ آبادی ہے جو کہ باقاعدہ بس چکی ہے وہ کم ہے یا زیادہ مصر کہلائے گی۔
اصطلاحی تعریف:
لغوی معانی کے بیان کے بعد اصطلاحی تعریف بیان کرتے ہیں۔ صاحب ہدایہ بیان کرتے ہیں:
والمصر الجامع: کل موضع لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود۔ (11)
ترجمہ: مصر جامع ہر وہ مقام ہے جہاں پر امیرِ(قوم، شہر، محلہ، گاؤں، چک، قصبہ) اور قاضی ہو، جو احکام نافذ کرے اور حدود قائم کرے۔
دوسرا قول بیان کرتے ہیں:
انھم اذا اجتمعوا فی اکبر مساجدہم لم یسعھم۔ (12)
ترجمہ: اگر وہاں کی آبادی کے لوگ سب سے بڑی(جامع) مسجد میں جمع ہوجائیں تو مسجد میں سما نہ سکیں۔
یہی تعریف شریف جرجانی نے کی:
المصر: ما لایسع اکبر مساجدہ اھلہ۔ (13)
ترجمہ: مصر وہ ہے کہ جس کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں آبادی کے لوگ سما نہ سکیں۔
لسان العرب میں بیان کرتے ہیں:
المصر فی کلام العرب کل کورۃ تقام فیھا الحدود، ویقسم فیھا الفئ والصدقات من غیر موامرۃ للخلیفۃ۔ (14)
ترجمہ: کلام عرب میں مصر سے مراد ہر وہ آبادی ہے جس میں خلیفہ وقت کے حکم کے بغیرحدود قائم کی جاتی ہوں اور اس میں مالِ فئ اور صدقات تقسیم کیے جاتے ہوں(خلیفہ وقت کے حکم کی قید نہیں ہے)۔
مصر کی تعریف میں یہ چند باتیں بیان کی گئی ہیں:
۱۔ اس بستی میں امیر اور قاضی ہو۔
۲۔ حدود قائم کی جاتی ہوں اور صدقات ومالِ فئ وغیرہ کی تقسیم بھی ہوتی ہو۔
۳۔ اس علاقہ کی آبادی اتنی ہو کہ وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں تمام لوگ سما نہ سکیں۔
اور تقریباً تمام فقہاء نے یہی بیان کیا ہے، سوال یہ ہےکہ کیا مذکورہ باتیں شرائط ہیں یا علامات ہیں۔لہ اگر تو یہ "مصر ہونے" کےلیے شرائط ہیں تو ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جانے پر مصر قرار نہیں دیا جاسکے گا۔ اور اگر علامات ہیں تو ان کے قائم مقام علامت کے پائے جانے سے بھی مصر ثابت ہوجائے گا۔
اگر ان کو شرائط مان لیں تو بھی پاکستان کے دیہات میں جمعہ جائز ہوگا کیونکہ یہاں پر ایم۔این۔اے اور ایم۔پی۔اے بھی ہر شہر میں موجود ہوتا ہے جو کہ دیہات تک محافظت کا ذمہ دار اور ولایت کا حقدار ہوتا ہے۔ اور پھر ہر گاؤں، چک اور یونین کونسل وغیرہ میں نمبردار، کونسلر، چیئرمین، ناظم وغیرہ ہر حکومت میں کوئی عہدہ موجود رہتا ہے جوکہ خاص اس علاقہ کا امیر ہوتا ہے۔ یہی حضرات عوام میں صدقات کی تقسیم بھی کرتے ہیں۔ جبکہ مال فئ کی تقسیم تو اس وقت شہروں میں بھی نہیں کہ کئی سالوں تک جنگ کے حالات ہی پیدا نہیں ہوتے اور اگر کبھی بن بھی جائیں تو اس کی تقسیم مرکزی حکومت کے ذمہ ہے بڑوں شہروں میں بھی نہیں۔ اگر اس شرط کو تسلیم کریں اور نافذ کردیں تو اب کہیں بھی جمعہ پڑھنا جائز نہ ہو سوائے دارالحکومت کے۔
اور ایک شرط یہ ہے کہ علاقہ کی آبادی اتنی زیادہ ہو کہ وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمع نہ ہوسکیں۔ اب توہر گاؤں کی آبادی اتنی بڑھ چکی ہے کہ مساجد سے کئی گنا زیادہ ہے، کہ تقریباً ہر گاؤں میں آبادی کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ اور بعض چکوک اور گاؤں تو پہلے وقتوں کے شہروں سے بھی تعداد میں زیادہ ہیں۔ مگر جو لوگ چکوک اور قصبات سے الگ زندگی گزار رہے ہوں گے۔ جمعہ کا حکم ان پر نہیں آئے گا۔
یا یہ آبادی کی مقدار جانچنے کےلیے علامات بیان کی گئی ہیں۔ کسی نے کہا کہ امیروقاضی ہو یعنی اتنی تعداد تو ہو کہ وہاں امیرو قاضی کی ضرورت محسوس ہو۔ اور ایسے ہی صدقات وفئ کی تقسیم کا ہونا بیان کیا کہ جہاں پر صدقات کی تقسیم کا نظام چلایا گیا ہے، وہاں پر کثیر ہوگی اور ان کو جمعہ پڑھنا چاہیے۔ اور مسجد میں لوگوں کے نہ سماسکنے سے بھی جانچنا ہی مقصود ہے کہ جہاں اتنے زیادہ مسلمان موجود ہوں وہاں جمعہ پڑھا جائے۔
ان تمام پیمائشوں سے جتنی آبادی مراد ہوسکتی ہے وہ اس وقت کے ہر گاؤں میں موجود ہے۔اور ان بیان کی گئی باتوں کو شرائط کہا بھی نہیں جاسکتا بلکہ صرف پیمائشوں کرنے کے طریقے ہیں۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
ویجوز بمنی ان کان الامیر امیر الحجاز اوکان الخلیفۃ مسافرا عند ابی حنیفۃ وابی یوسف،وقال محمد لا جمعۃ بمنیٰ۔ لانھا من القریٰ حتی لا یعید بھا، ولھما انھا تتمصر فی ایام الموسم، وعدم التعیید للتخفیف، ولا جمعۃ بعرفات فی قولھم جمیعا لانھا فضاء وبمنی ابنیۃ۔ والتقیید بالخلیفۃ وامیر الحجاز لان الولایۃ لھما اما امیر الموسم فیلی امور الحج لاغیر۔ (15)
ترجمہ: اور منی میں جمعہ پڑھنا جائز ہے، اگر امیر حجاز ہی امیر جمعہ ہو یا خلیفہ مسافر بن کر وہاں آیا ہو، یہ امام ابوحنیفہ اور ابویوسف علیہما الرحمہ کے نزدیک ہے۔ اور امام محمد علیہ الرحمہ نے فرمایا: کہ منی میں جمعہ جائز نہیں ہے کیونکہ وہ قریٰ ہے یہاں تک کہ وہاں عید بھی نہیں پڑھی جاتی۔ اور شیخین کی دلیل یہ ہے کہ موسم حج میں منی کو مصر بنا لیا جاتا ہے۔ اور عید نہ ہونے کی وجہ حاجیوں پر بوجھ کی تخفیف ہے۔ اور عرفات میں تمام کے نزدیک جمعہ نہیں ہے اس لیے کہ وہ صرف فضائی مقام ہے(یعنی جہاں کوئی عمارت ہی نہیں) جبکہ معنی میں عمارات ہیں۔ اور خلیفہ یا امیر حجاز کے امیر ہونے کی قید اس لیے لگائی گئی کہ ولایت ان کے پاس ہے اور جو موسم حج کا امیر ہے تو وہ صرف امور حج کا امیر ہے اس کے علاوہ نہیں۔
مسائل مستنبطہ:
۱۔ منی میں جمعہ کا جواز عمارات اور عارضی طور پر مصر بن جانا ہے۔ یعنی صرف آبادی کی اتنی زیادہ مقدار چاہیے کہ جو جمعہ پڑھنے کے قابل جماعت بن جائے۔
۲۔ جہاں لوگ اتنی مقدار میں جمع ہوجائیں کہ مصر کی آبادی کے برابر ہوجائیں چاہے مصر نہ ہی ہو جمعہ جائز ہے۔
۳۔ اور امیر وخلیفہ کا ہونا اس لیے کہ صرف ولایت ان کے پاس ہے کہ جس کے پاس ولایت ہوگی اس کی موجودگی میں جمعہ جائز ہے۔
فتویٰ
کیا دیہات میں نمازِ جمعہ ادا کرنا درست ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ طحاوی، مختصراختلاف العلماء، کتاب الطھارۃ، باب فی الموضع الذی تجوز فیہ الجمعۃ، ج: 1،ص:329
2۔ طحاوی، مختصراختلاف العلماء، کتاب الطھارۃ، باب فی الموضع الذی تجوز فیہ الجمعۃ، ج: 1،ص:330
3۔ طحاوی، مختصراختلاف العلماء، کتاب الطھارۃ، باب فی الموضع الذی تجوز فیہ الجمعۃ، ج: 1،ص:330
4۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجمعۃ، ج: 1،ص:177
5۔ الزبیدی، تاج العروس، ج: 14،ص:124
6۔ الزبیدی، تاج العروس، ج: 14،ص:124
7۔ ابن المنظور الافریقی، لسان العرب، ج: 5،ص:175
8۔ الزبیدی، تاج العروس، ج: 14،ص:125
الافریقی، لسان العرب، ج: 5،ص:176
9۔ الزبیدی، تاج العروس، ج: 14،ص:126
10۔ الافریقی، لسان العرب، ج: 14،ص:176
الزبیدی، تاج العروس،ج: 14،ص:125
11۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجمعۃ، ج: 1،ص:177
12۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجمعۃ، ج: 1،ص:177
13۔ جرجانی، کتاب التعریفات، باب المیم، ص:151
14 ۔ الافریقی، لسان العرب، باب الراء، ج: 5،ص:176
الزبیدی، تاج العروس، ج: 14،ص:
15 ۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجمعۃ، ج: 1،ص:177
2۔ طحاوی، مختصراختلاف العلماء، کتاب الطھارۃ، باب فی الموضع الذی تجوز فیہ الجمعۃ، ج: 1،ص:330
3۔ طحاوی، مختصراختلاف العلماء، کتاب الطھارۃ، باب فی الموضع الذی تجوز فیہ الجمعۃ، ج: 1،ص:330
4۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجمعۃ، ج: 1،ص:177
5۔ الزبیدی، تاج العروس، ج: 14،ص:124
6۔ الزبیدی، تاج العروس، ج: 14،ص:124
7۔ ابن المنظور الافریقی، لسان العرب، ج: 5،ص:175
8۔ الزبیدی، تاج العروس، ج: 14،ص:125
الافریقی، لسان العرب، ج: 5،ص:176
9۔ الزبیدی، تاج العروس، ج: 14،ص:126
10۔ الافریقی، لسان العرب، ج: 14،ص:176
الزبیدی، تاج العروس،ج: 14،ص:125
11۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجمعۃ، ج: 1،ص:177
12۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجمعۃ، ج: 1،ص:177
13۔ جرجانی، کتاب التعریفات، باب المیم، ص:151
14 ۔ الافریقی، لسان العرب، باب الراء، ج: 5،ص:176
الزبیدی، تاج العروس، ج: 14،ص:
15 ۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجمعۃ، ج: 1،ص:177
اصل سوال
کیا دیہات میں نمازِ جمعہ ادا کرنا درست ہے؟