فتویٰ
دورانِ نماز موبائل فون کی گھنٹی بجنے کی صورت میں کیا اسے بند کرنا جائز ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
جب نماز میں کھڑے ہوں تو دنیا سے بے رغبت ہوجانا چاہیے۔ کیونکہ نماز تو رب تعالیٰ کی یاد ہے جب مولیٰ کو یاد کرنا ہوتا ہے تو مملوک ومخلوق کو بھلا دینا لازم ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ ہر طرح کے رابطے معطل کردینا چاہیے۔ افتتاح نماز سے پہلے بلکہ دخولِ مسجد سے پہلے موبائل فون اور اس طرح کے تمام آلہ جات، جو اللہ دنیا کے قریب کرتے ہیں اور یاد الٰہی سے غافل کرتے ہیں، ان کو آف کردینا چاہیے۔ یا یہ چاہیے کہ مسجد جاتے ہوئے موبائل فون کو گھر رکھ جائیں اور ساتھ ہو تو Offہو یا Silent ہو۔ لیکن اگر کوئی موبائل مسجد میں لے جاتا ہے اور اسے آف بھی نہ کیا اور نہ ہی سائلینٹ کیا۔ دوران نماز اگر گھنٹی بجے تو کیا کرے؟ بجنے دے یا بند کرے۔ اس سے کیونکہ نماز میں خلل واقع ہورہاہے تو اس لیے اسے بند ہی کردینا چاہیے۔ اور بند اس طرح سے کہ ایک خلل کو مٹاتے نیا خلل پیدا نہ کردیا جائے۔ یعنی اسے نکال کر دیکھے نہیں، بلکہ جیب میں پڑے ہوئے کو بٹن دبا کر بند کرے۔ ایک یا دوبار تک بٹن دبانے کی اجازت ہوگی کیونکہ یہ عمل قلیل ہے اور عمل قلیل سے نماز نہیں ٹوٹتی، اگر دوسے زائد بار کرے تو عمل کثیر بن جائے گا جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ اور اگر اسے نکال کر دیکھتا ہے اور دیکھ کر بند کرتا ہے تو اب عمل کثیر ہوجائے گا جس سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ اور بعض حضرات کہتے ہیں: کہ کال Receiveکرے اور کالر کو کہے: اَنَا اُصَلِّی۔ ایسا کہنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ کیونکہ یہ عملِ کثیر ہے، اور خارج از صلوۃ ہے۔ عمل صلوۃ کے علاوہ دوران صلوۃ کچھ بھی زبان سے بولنا نماز کو ختم کردیتا ہے۔ اسی لیے تو یہ کہا گیا کہ اگر کوئی شخص نمازی کے آگے سے گزر رہا ہوتو اسے زبان سے نہیں کہے گا بلکہ ہاتھ سے اشارہ کردے گا۔ تو یہ ہاتھ سے اشارہ کرنے سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ موبائل کو جیب کے اندر سے ہاتھ کے ساتھ دیکھے بغیر اور کچھ کہے بغیر بند کردے تو نماز نہیں ٹوٹے گی۔
اصل سوال
دورانِ نماز موبائل فون کی گھنٹی بجنے کی صورت میں کیا اسے بند کرنا جائز ہے؟