واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا رکوع و سجدہ میں پیٹھ کو سیدھا رکھنا ضروری ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 1

جواب

عَنْ اَبِی مَسْعُوْدِ الْاَنْصَارِیِّ الْبَدَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ لَا تُجْزِءُ صَلَاۃٌ لَا یُقِیْمُ فِیْھَا الرَّجُلُ یَعْنِی صُلْبَہٗ فِی الرُّکُوعِ وَ السُّجُوْدِ۔ (1)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز درست نہیں جو رکوع و سجدہ میں اپنی
پیٹھ سیدھی نہ کرے۔

حوالہ

1 ۔ ترمذی ، السنن،کتاب الصلوۃ،باب ما جاء فیمن لا یقیم صلبہ فی الرکوع و
السجود،رقم الحدیث: 242

اصل سوال

کیا رکوع و سجدہ میں پیٹھ کو سیدھا رکھنا ضروری ہے؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا نماز پڑھنے کے بعد ذکر کرنا سنت ہے؟ کیا سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگنا جائز ہے؟ کیا نماز کے آخر میں سلام پھیرنا ضروری ہے؟ کیا نماز میں نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا ضروری ہے؟