نماز میں سجدہ اہم رکن ہے جس کے بغیر نماز نہیں ہے۔ لہٰذا اصلاحِ نماز کے لیے اصلاحِ سجدہ ضروری ہے۔ اور اصلاحِ سجدہ کےلیے پیشانی کا زمین پر ٹکنا ضروری ہے۔ کیونکہ سجدہ کی تعریف فقہاء نے کی ہے:
وضع الجبھۃ علی الارض۔ (1)
ترجمہ: سجدہ پیشانی کو زمین پر رکھ دینے کا نام ہے۔
اور زمین سے مراد، زمین اور مثلِ زمین ہے۔ جیسے فرش، چھت، لکڑی، لوہے یا پلاسٹک کا پھٹہ وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یعنی سجدہ کی جگہ زمین جتنی سخت ہو۔
اس کے بعد آتے ہیں اپنے مسئلہ کی طرف کہ بعض اوقات قالین کے نیچے فوم ڈال دیا جاتا ہے جس سے جگہ نرم ہوجاتی ہے۔ اور یہ فوم ہلکا بھی ہوتا ہے اور ذرا موٹابھی ہوتا ہے۔ یا ایسے بھی ہوتا ہے کہ نیچے فوم ڈالا جاتا ہے اور قالین بھی کافی نرم ہوتا ہے۔ ایسی صورتوں میں بعض پر تو دوران سجدہ پیشانی اور ماتھا بآسانی زمین پر ٹکتے ہیں اور بعض زیادہ نرم ہوتے ہیں کہ ان پر نہیں صحیح طریقہ پر نہیں ٹکتے۔ اور ایسے ہی اسپنچ کے گدے تو بہت زیادہ نرم ہوتے ہیں۔ ان سب کو اوپر بیان کردہ تعریف کے تناظر میں جانچا جائے گا کہ جس پر سجدہ کی حالت میں پیشانی اس سختی کے ساتھ ٹک سکے جس سے زمین پر ٹکتی ہے تو سجدہ درست ہوگا اور نماز بھی درست ہوگی ورنہ سجدہ درست نہ ہوگا اور نماز بھی نہیں۔ چاہے وہ کچھ نرم بھی ہو لیکن پیشانی دباؤ کے ساتھ ٹک جائے تو درست ہے۔
فتویٰ
کیا فوم اور اسپنچ کے گدوں پر نماز پڑھنا جائز ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ محمدبن محمد بن محمدبن محمد۔۔۔بن زید بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب، رضی اللہ عنہم، الشہیر بسید مرتضیٰ الحسینی الزبیدی، کنیاتہ: ابوالفیض۔ابوالجود۔ابوالوقت۔ آپ کے ہندی، مصری، یمنی اور بغدادی ہونے کی روایات ہیں۔ تاریخ پیدائش: 1145ھ،آپ کے شیوخ میں رضی الدین عبدالخالق المزجاجی، فقیہ ابوعبداللہ محمد ابن شیخ علاؤالدین عبدالباقی المزجاجی، بادرۃ العصر شیخ ابوعبداللہ محمد بن محمد الفاسی، عبدالرحمن العیدروس( ان سے خرقۂ خلافت بھی پایا)، عبداللہ السندھی، عمر بن احمد المکی، اور عبداللہ السقاف شامل ہیں۔ آپ نے تفسیر، حدیث واصول حدیث، فقہ واصول فقہ، تصوف، اخلاقیات، لغت، معاجم ومناقب و تراجم اعلام وغیرہ موضوعات پر 100سے زائد کتب تالیف فرمائی ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد کتب حدیث کی ہے اور سب س زیادہ شہرت تاج العروس کو حاصل ہوئی۔ تاریخ وفات: 1205ھ،تاج العروس، باب الدال، ج: 8،ص:172
اصل سوال
کیا فوم اور اسپنچ کے گدوں پر نماز پڑھنا جائز ہے؟