جانوروں کا گوبر نجاست ہے، جب مٹی میں ملا کر لپائی کی جائے گی تو وہ زمین بھی ناپاک ہوجائے گی۔ اگرچہ خشک ہوجائے کیونکہ وہ نجاست مجسمیہ ہے، اور نجاست مجسمیہ کا خشک ہونا کافی نہیں ہے۔ لہٰذا جگہ ناپاک رہے گی اور نماز کےلیے جگہ کا پاک ہونا شرط ہے۔ ایسے جگہ پر نماز پڑھنا اس صورت میں جائز ہوگا جب زمین پر کوئی صف، چٹائی، کپڑا وغیرہ ڈالا گیا ہو۔ ابن نجیم مصری فرماتے ہیں:
لو بسط الثوب الطاہر علی الارض النجسۃ وصلی علیہ جاز۔ (1)
ترجمہ: اگر ناپاک زمین پر پاک کپڑا بچھا دے اور اس پر نماز پڑھے تو جائز ہے۔
لیکن اگر ناپاک زمین پر نماز پڑھے اور زمین اور آدمی کے درمیان میں کوئی چیز مثلاً چٹائی وغیرہ حائل نہ ہوتو نماز نہیں ہے۔ بدرالدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
اذا لم یکن بین المصلی وبین النجاسۃ حائل لاتجوز صلاتہ فی ای مکان کان۔ (2)
ترجمہ: جب نمازی اور (زمین پر پڑی)نجاست کے درمیان(کوئی کپڑا وغیرہ) حائل نہ ہو تو نماز جائز نہیں ہے چاہے جس جگہ بھی ہو۔
اور جوکپڑا یا چٹائی وغیرہ ڈالی جائے کیسی ہو؟ اس کی وضاحت ابن نجیم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
لوبسط بساطا رقیقا علی الموضع النجس وصلی علیہ ان کان البساط بحال یصلح ساتر للعورۃ تجوز الصلاۃ۔ (3)
ترجمہ: اگر ناپاک جگہ پر باریک بچھونا بچھایا گیا ہواور اس پر نماز پڑھے، اگر بچھونا اس حالت میں ہو کہ (اگراسے پہنا جائے تو)وہ شرمگاہ کو چھپانے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس پر نماز بھی جائز ہے۔
علامہ بدرالدین عینی علیہ الرحمہ صحیح بخاری کی شرح کرتے ہوئے عمدۃ القاری میں بیان فرماتے ہیں:
قلت: اذا لم یکن بین المصلی وبین النجاسۃ حائل لاتجوز صلاتہ فی ای مکان کان۔ (4)
ترجمہ: جب نماز پڑھنے والے اور (زمین پر موجود) نجاست کے درمیان کوئی چیز(مصلیٰ، چٹائی وغیرہ) حائل نہ ہوتو جس جگہ بھی ہو نماز نہیں ہوگی۔
یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ نجاست والی جگہ پر اگر کوئی چٹائی یا صف وغیرہ بچھا دی جائے تو اس کے اوپر نماز پڑھنا جائز ہے۔لہٰذا صف، چٹائی یا بچھونا ایسا ہو کہ اس سے اثر زمین اوپر نہ آئے۔ اسی لیے ساتر ہونے کی شرط لگائی گئی ہے کہ جیسے ساتر کپڑا جسم کا اثر ظاہر نہیں کرتا ایسے ہی وہ بچھونا ایسا ہو جو نیچے سے زمین کا اثر بھی ظاہر نہ کرے۔
فتویٰ
کیا گوبر سے لپائی کی ہوئی جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الصلوۃ، باب شروط الصلوۃ، ج:1 ،ص:466
2۔ عینی، عمدۃ القاری، کتاب الصلوۃ، الصلوۃ فی مواضع الابل، شرح رقم:430
3۔ ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الصلوۃ، باب شروط الصلوۃ، ج:1 ،ص:466
4۔ عینی، عمدۃ القاری، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ فی مواضع الابل، ج: 4،ص:269
2۔ عینی، عمدۃ القاری، کتاب الصلوۃ، الصلوۃ فی مواضع الابل، شرح رقم:430
3۔ ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الصلوۃ، باب شروط الصلوۃ، ج:1 ،ص:466
4۔ عینی، عمدۃ القاری، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ فی مواضع الابل، ج: 4،ص:269
اصل سوال
کیا گوبر سے لپائی کی ہوئی جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے؟